29 اکتوبر 2024 - 08:09
اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قوانین، یو این چارٹر اور ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے، الجزائری مندوب

الجزائری مندوب نے ایران پر صہیونی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ایران پر اسرائیلی حملہ بین الاقوامی قوانین، یو این چارٹر اور ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے/ ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، الجزائری مندوب عمار بن جامع نے ایران پر صہیونی جارحیت کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے الجزائر، ایران، روس اور چین کی درخواست پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کا اہتمام کیا۔ الجزائر جب سے سلامتی کونسل کا رکن بنا ہے، ہم غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور اس جنگ کے پورے مشرق وسطی تک پھیلنے کے سلسلے میں خبردار کرتے آئے ہیں۔ اور بدقسمتی سے وہی کچھ ہؤا ہے جس کا ہمیں اندیشہ تھا اور آج ہمیں ایک علاقائی جنگ کے خطرے اور اس کے منفی بین الاقوامی نتائج کا سامنا ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سلامتی کونسل کے بعض اراکین ان حالات کو بین الاقوامی امن کے لئے خطرہ قرار دینے سے پرہیز کر رہے ہیں۔

اسرائیلی حملے بین الاقوامی امن کو ناقابل انکار طور پر پامال کر رہے ہیں چنانچہ سلامتی کونسل کو چاہئے کہ بین الاقوامی امن کو بحال کرے۔ الجزائر انتہائی شدید لفظوں میں اسلامی جمہوریہ ایران پر صہیونی حملوں کی مذمت کرتا ہے۔

ہم ایران کے ساتھ کھڑے ہونگے، اسرائیلی اقدام بین الاقوامی قوانین، یو این چارٹر اور ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ بین الاقوامی برادری کا فرض ہے کہ غاصب ریاست کے اقدامات اور کشیدگی میں اضافے پر مبنی کاروائی کو فوری طور پر بند کرا دے۔ اسرائیلی ریاست نے مشرق وسطی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ اپریل میں دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر فضائی حملہ کیا تو ہم نے زور دے کر کہا کہ حالات کو صرف امن اور بین الاقوامی قوانین کے تحت درست کیا جا سکتا ہے، لیکن دوہری پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی قوانین، عالمی نظام اور سلامتی کونسل کو کمزور کر دیا گیا ہے۔

آج پھر زور دے کر کہتے ہیں کہ کوئی بھی ملک قوانین سے بالاتر نہیں ہے۔ غاصب ریاست کو جوابدہ ہونا چاہئے، مشرق وسطی کے بحران کا تعلق تمام فریقوں کا بحران ہے۔ اس بحران کی جڑ عرب سرزمینوں پو غاصب ریاست کے حملے ہیں۔ حالیہ صورت حالیہ بحران کو بحران کی اصل جڑ سے غفلت کا سبب نہیں بننا چاہئے اور اس کی اصل جڑ فلسطینیوں پر غاصب ریاست کی جارحیت ہے۔ غزہ اور لبنان میں فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان کیا جائے، خودمختار فلسطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت قدس شریف ہوگا؛ عرب ممالک پر اسرائیلی حملوں کو بند ہونا چاہئے، سلامتی کونسل اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرے؛ اور کونسل کے تمام اراکین مذکورہ مطالبات پر عمل کرنے کے لئے فوری طور پر قرارداد منظور کریں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110