16 اکتوبر 2024 - 10:59
تہران: امریکی "تھاڈ" ایئرڈیفنس سسٹم کی مقبوضہ فلسطین منتقلی دشمن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ، وزیر دفاع

وزیر دفاع اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کی جانب سے مقبوضہ سرزمین میں تھاڈ فضائی دفاعی سسٹم کی تنصیب کی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: یہ صرف تشہیری اور نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے / مقبوضہ سرزمین میں اس سسٹم کے ہونے یا نہ ہونے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ وزیر دفاع اسلامی جمہوریہ ایران بریگیڈیئر جنرل عزیز نصیرزادہ سے پوچھا گیا کہ "کیا ایران کے میزائل امریکہ کے THAAD سسٹم کو پار کرسکتے ہیں؟" تو انھوں نے کہا کہ تھاڈ ایک بیلسٹک میزائل شکن سسٹم ہے جو بالکل نیا نہیں ہے اور یہ سسٹم امریکی دعوؤں کے برعکس، پہلے ہی سے مقبوضہ فلسطین میں موجود ہے۔

وزیر دفاع نے کہا: ہم تھاڈ میزائل شکن سے متعلق حالیہ رپورٹوں کو دشمن کی نفسیاتی جنگ کا حصہ سمجھتے ہیں اور مقبوضہ سرزمین میں اس کے ہونے یا نہ ہونے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی دھونس دھمکیاں بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ نے گذشتہ دنوں مقبوضہ فلسطین میں تھاڈ دفاعی سسٹم کی بیٹریاں نصب کرنے پر مبنی صہیونی ریاست کی درخواست کو منظور کرنے کا دعوی کیا ہے جس کی بنیاد پر مغربی اور صہیونی میڈیا نے خاصا شور شرابا مچایا ہؤا ہے حالانکہ امریکہ سنہ 2019ع‍ میں مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں تھاڈ ایئرڈیفنس سسٹم نصب کرچکا تھا اور دفاعی امور کے ماہرین نئی بیٹریوں کی ترسیل کو اسٹریٹیجک لحاظ سے ایک معمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ امریکیوں نے تھاڈ میزائلوں کی بیٹریاں بھجوانے کا دعوی یہ جتانے کے لئے کیا ہے کہ گویا ایران کے کامیاب میزائل حملوں کے وقت یہ امریکی سسٹم مقبوضہ فلسطین میں موجود ہی نہیں تھا اور اس سسٹم کو ایرانی میزائل ناکام نہیں بنا سکے ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔

110