اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا – کے مطابق
امیر سعید ایروانی نے شام میں ہلال احمر کے امدادی سامان کے گودام پر صیہونی حکومت کے دہشت گردانہ حملے کے حوالے سے سلامتی کونسل کے سربراہ پاسکل کریسٹین اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے نام خط میں کہا کہ انسانی امدادی ڈپو پر یہ گھناؤنا حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور انسانی جانوں کو بچانے کی کوششوں کے خلاف ایک ہولناک عمل ہے۔
ایروانی نے مزید کہا کہ یہ امدادی سہولیات ایران کی ہلال احمر کی طرف سے بے گھر ہونے والے لبنانی شہریوں اور صیہونی حکومت کی بے دریغ اور وحشیانہ جارحیت کے متاثرین کو بنیادی امداد فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، اور جنگی جرائم سے متاثر افراد کے لیے لائف لائن کا کام کرتی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی ہلال احمر نے اس انسانی امدادی مرکز کے قیام کے بارے میں باضابطہ طور پر ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو آگاہ کردیا تھا اور خالصتاً انسانی مقاصد کے باوجود اس ڈپو پر وحشیانہ اور دہشت گردانہ حملے میں اس کی تنصیبات اور آلات مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔
ایروانی نے کہا کہ ایران سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس گھناؤنے جرم کی شدید ترین مذمت کرے اور صیہونی حکومت کی مزید خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔
صیہونی حکومت کی طرف سے انسانی اور طبی سہولیات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی اور ناقابل تردید جنگی جرم ہے۔ ایران
12 اکتوبر 2024 - 16:04
News ID: 1493923
ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کو لکھے گئے خط میں صہیونی ریاست کے حملے کو اقوام متحدہ کے قوانین کی خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دے دیا