8 اکتوبر 2024 - 08:04
عام احساس یہ ہے کہ اسرائیل زوال کی ڈھلوان پر آ کھڑا ہؤا ہے، اسرائیلی ماہر اقتصادیات + ویڈیو

اسرائیل چھوڑ کے الٹی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد، اسرائیل کی تاریخ میں، بے مثال اور غیر معمولی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، صہیونی اقتصاد دان شیر ہیور (Shir Hever) نے ایک ویڈیو کلپ میں کہا:

اسرائیل چھوڑ کے الٹی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد، اسرائیل کی تاریخ میں، بے مثال اور غیر معمولی ہے۔

آپ ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں جو یکطرفہ ٹکٹ خرید رہے ہیں، تاکہ دیکھ لیں کہ مستقبل میں کیا ہوتا ہے۔

'''غزہ میں نسل کشی کو ایک سال ہو رہا ہے، کیا اسرائیلی معیشت بحالی کی جانب جا رہی یا شکست و ریخت کی جانب؟'''

بہت سارے لوگ یہی کچھ کر رہے ہیں تاکہ اپنے گھر والوں کی حفاظت کر سکیں؛ اور جو لوگ بدستور اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) میں باقی ہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ ریاست شکست و ریخت کے عمل سے گذر رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں یقین نہیں ہے کہ کوئی مستقبل بھی ہے۔ انہیں یقین نہیں ہے کہ حکومت اس بحران سے بچ نکل سکتی ہے اور اپنے آپ کو بحال کر سکتی ہے، وہ مزید سرمایہ کاری نہیں کرتے، وہ یہ نہیں چاہتے کہ اسرائیل میں اپنے بچوں کی پرورش کریں۔ وہ اسرائیل میں مزید حصول تعلیم اور روزگار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی بحران بد سے بدتر ہو رہا ہے اور حالات کی بہتری اور معاشی بحالی کے لئے کوئی بھی روشن مستقبل نظر نہیں ہے۔

اسرائیل میں بیرونی سرمایہ کار تقریبا مکمل طور پر رک گئی ہے جس کی وجہ سے 85000 افراد بے روزگار ہو رہے ہیں، اور وہ مزید کوئی روزگار حاصل نہیں کرسکتے۔

ایک چوتھائی اسرائیلی آبادی، ریاست کے اندر بے گھر ہو چکی ہے اور گھر بار کھو چکے ہیں اور بہت بڑی تعداد میں لوگ [یعنی یہودی نوآبادکار] ریاست چھوڑ کر جار ہے ہیں [اور الٹی نقل مکانی پر مجبور ہیں]۔

سیاحت کی شرح صفر (0) تک پہنچ چکی ہے، یہاں مزید کوئی سیاح نہیں ہے، اسرائیل میں بیرونی سرمایہ کاری کی شرح صفر تک پہنچ گئی ہے۔

اسرائیل کی ہائی ٹیکنالوجی ـ جو اسرائیلی معیشت کا اہم ترین حصہ سمجھی جاتی تھی ـ کسی بھی قسم کی سرمایہ کاری سے بالکل محروم ہو چکی ہے۔

یہ یہ ہائی ٹیک کمپنیاں اپنی پوزیشن بحال کرنے کے لئے اپنے تمام ذرائع کو بروئے کار لا رہی ہیں۔ وہ بہت زیادہ فکرمند ہیں اس سے کہ موجودہ صورت حال میں اپنا کام جاری نہ رکھ سکیں۔ وہ مطمئن نہیں ہیں کہ ان کے کارکنوں کو میدان جنگ میں نہیں بھیجا جائے گا۔ وہ مطمئن نہیں ہے کہ ان کے کام کاج کا مقام محفوظ ہے یا نہیں اور وہ مطمئن نہيں ہے کہ ریاست کی معیشت مستحکم ہے یا نہیں!

وہ اس حوالے سے بھی مطمئن نہيں ہیں کہ حکومت مداخلت کرکے ان کی پراپرٹی اور اموال کو ضبط نہیں کرے گی۔ وہ بجلی کی لائنوں سے بھی مطمئن نہيں ہے کیونکہ اگر بجلی منقطع ہوجائے تو یہ ہائی ٹیک کمپنیاں بجلی کے بغیر کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں ہونگی؛ سرورز (Servers)  ناکارہ ہونگے۔

چنانچہ ان کی کوشش ہے کہ یہ کمپنیوں کو بیرون ملک بیچ د یا جائے۔

۔۔۔۔۔۔

110