اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، شمالی
وزیرستان کے علاقے سپین وام میں شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل
محمد علی شوکت اور 5 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے ہیں۔
خوارج کے خلاف 4 اور 5 اکتوبر کی درمیانی شب
کاروائی کی گئی، شہید سپاہیوں میں لانس نائیک محمد اللّٰہ، لانس نائیک اختر زمان
اور لانس نائیک شاہد اللّٰہ شامل ہیں۔
لیفٹیننٹ کرنل محمد علی شوکت خوارج کے خلاف آپریشن
کی قیادت کر رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہمارے بہادر سپاہیوں
کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں، سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت
کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
وزیرِ اعظم کا 6 خوارجیوں کو جہنم واصل کرنے پر
سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے 6 خوارجیوں کو جہنم
واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شہداء کی بلندی درجات کی
دعا اور ان کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کی۔
ایک بیان میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی
کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے لازوال قربانیوں دی ہیں، پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی
ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے
اکھاڑ پھینکنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
سوات میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن
اس سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سوات
کے علاقے چارباغ میں انٹیلی جنس بیسڈ مشترکہ آپریشن کیا تھا۔
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے
مطابق سوات میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد خارجی سرغنہ عطاء اللّٰہ عرف مہران سمیت 2
خارجی ہلاک ہوئے تھے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آپریشن میں ایک
خارجی کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا ہے، خارجی عطاء اللّٰہ عرف مہران علاقے میں
دہشت گردی کی متعدد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ: پاکستانی ریاست کے خلاف لڑنے والے دہشت
گردوں ٹولوں کے لئے ریاست کی طرف سے لفظ "خوارج" کا استعمال دلچسپ ہے، یہ
وہی لوگ ہیں جو صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شیعیان اہل بیت(ع) کو بھی
اپنی بربریت کا نشانہ بناتے ہیں لیکن ان واقعات کی خبر دیتے ہوئے سرکاری ادارے اور
لفافہ خور ذرائع ابلاغ انہیں یہ لقب دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110