اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ
سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے جمعے کو نیویارک میں سلامتی کونسل
کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جنرل اسمبلی کی جانب
سے قراردادوں کی منظوری کے باوجود غزہ میں شہریوں کو درپیش ’تباہ کن انسانی بحران‘
کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ سے یہ اپیل ایسے وقت میں کی جب اسرائیل اور حزب
اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل نے فضائی حملوں کو بیروت کے جنوبی
مضافاتی علاقوں تک بڑھا دیا ہے اور حزب اللہ نے میزائلوں سے اسرائیل کی اہم تنصیبات
کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے بحران کے حل کے لیے اتفاق رائے تلاش کرنے کے
بجائے ویٹو کے استعمال میں تیزی سے کام لیا جاتا ہے اور گذشتہ اکتوبر سے اب تک چھ
قراردادوں کے مسودوں کے خلاف ویٹو کا استعمال کیا گیا۔
فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ جو قراردادیں منظور کی گئیں وہ جنگ بندی
کے حصول میں ناکام رہیں، انسانی بحران کی صورتحال کو ختم نہیں کر سکیں اور امن کی
جانب قابل اعتبار سیاسی راہ ہموار کرنے میں ناکام رہیں۔
فیصل نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ سلامتی کونسل کے اندر بین الاقوامی
اتفاق رائے اور تقسیم کے حوالے سے ایک وسیع خلیج ہے، جو اس کی کارکردگی کو نقصان
پہنچاتی ہے۔
بن فرحان نے مزید کہا: 'ہم جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کو اہمیت دیتے ہیں
جس میں اقوام متحدہ میں مکمل رکنیت کے لیے فلسطین کی اہلیت کو تسلیم کیا گیا تھا
اور جس کی وجہ سے فلسطین کو اضافی مراعات حاصل ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ حالیہ
قراردادوں کو بھی اہمیت دیتے ہیں جس میں اسرائیل سے فلسطینی سرزمین پر اپنا قبضہ
ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا'۔
.............
110