24 ستمبر 2024 - 06:29
حزب اللہ اسرائیل کے خلاف جنگ کے "کھلے احتساب" کے 'نئے مرحلے' میں داخل، نائب سربراہ

حزب اللہ کے نائب سربراہ شیخ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ کے ’نئے مرحلے‘ میں داخل ہو گئی ہے۔ صہیونی غزہ میں جنگ بند کرے گی تو لبنان سے ان پر ہونے والے حملے بند ہونگے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عرب ذرائع، نے پورٹ دی ہے کہ حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جس کا نام ہے کھلا احتساب۔ صرف غزہ میں جنگ بندی سرحد پار سے حملوں کو روک سکتی ہے۔‘

انہوں نے خبردار کیا کہ ’ فوجی حل اسرائیل اور ملک کے شمال کے رہائشیوں کے لیے مخمصے کو بڑھاتا ہے۔‘

نعیم قاسم نے اتوار کو جنوبی بیروت میں عسکری رہنماؤں شہید ابراہیم محمد عقیل اور شہید محمود حماد کی کی مجلس فاتحہ میں شرکت کی۔

وہ گذشتہ جمعے ایلیٹ یونٹ رضوان بریگیڈ کی قیادت کے اجلاس کے دوران اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

حزب اللہ کے نائب سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ ’فلسطین کے شمال کے صہیونی رہائشی واپس نہیں آئیں گے بلکہ مجموعی طور پر صہیونیوں کی نقل مکانی بڑھے گی اور اسرائیل کا مجوزہ جنگی حل، ان کی مشکلات میں اضافہ کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’غزہ جا کر جنگ بند کرو اور ہمیں دھمکیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جس کا نام ہے کھلا احتساب۔‘

حزب اللہ کے نائب سربراہ نے کہا کہ اسرائیل نے ’ہمارے خلاف تین دردناک جنگی جرائم کا ارتکاب کیا اور وہ اتنی زیادہ جارحیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں جو ہم نے کبھی نہیں دیکھی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’رضوان بریگیڈ کے رہنماؤں کو نشانہ بنا کر (اسرائیل) محاذ مزاحمت کو مفلوج اور صورت حال کو کشیدہ کرنا چاہتا تھا لیکن مقاومت کے مجاہدین نے اس میں خلل ڈالا۔‘

نعیم قاسم کا مزید کہنا تھا کہ ’دھمکیاں ہمیں نہیں روک سکتیں اور ہم خطروں سے نہیں ڈرتے اور ہم تمام فوجی خطروں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘

حزب اللہ کے ہزاروں ارکان اور حامیوں نے شہید ابراہیم عقیل اور شہید محمود حماد کے جنازے میں شرکت کی۔

سنیچر کی صبح حزب اللہ نے کہا کہ اسرائیل نے جمعے کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے جرمس میں رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں اس کی ایلیٹ رضوان فورس کے رہنماؤں کے اجلاس کو نشانہ بنایا۔

حزب اللہ کے مطابق شہید ہونے والوں میں سب سے اہم شخصیت پارٹی کے ایک بانی رکن ابراہیم محمد عقیل تھے جنہوں نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں حزب اللہ کی مرکزی تربیت اور 1990 کی دہائی کے وسط میں اسلامی مزاحمت کے جنرل سٹاف کی ذمہ داری سنبھالی، اور 1997 سے 2000 تک جبل عامل آپریشن یونٹ کی قیادت کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110