اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، لبنانی روزنامہ الاخبار کے مدیر ابراہیم امین نے اپنے ایک مضمون میں لبنانی شہریوں کے خلاف صہیونی ریاست کے دہشت گردانہ سائبر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا:
تل ابیب اپنی تکنیکی اور انٹیلیجنس برتری کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس حملے نے یہ ثابت کر دیا کہ جب وہ غزہ اور فلسطین میں وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ کہیں بھی، کچھ بھی کر سکتا ہے، لہذا اب تنازعات کے حل کے لئے امن و مصالحت کی بات کرنا بے سود ہے۔
اسرائیل اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ اس آپریشن کا ہدف حاصل نہیں کرسکا ہے اور نہ ہی وہ لبنانی مزاحمت کو ہتھیار ڈالنے اور غزہ کی حمایت بند کرنے پر مجبور کر سکا ہے۔
صہیونی ریاست کی کل کی کارروائی پرلے درجے کی سفاکی ہے اور اس کاروائی نے لبنان کے ساتھ جنگ کے بارے میں تل ابیب کے وحشی پن کو برملا کر دیا ہے، خاص طور پر چونکہ یہ ریاست جانتی تھی کہ اس کارروائی میں عام شہریوں کو نقصان پہنچے گا۔
مقاومتی فورسز اچھی طرح جانتی ہیں کہ حساس مراکز میں اس طرح کا سامان نہیں لایا جانا چاہئے، اس لئے اس واقعے کے بہت سے متاثرین عام شہری تھے اور ان میں سے بہت سے آلات گھروں، دفاتر یا گاڑیوں میں پھٹ گئے۔
کل کے آپریشن سے ثابت کیا کہ وہ تنازعات کے قوانین تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ شہریوں یا شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ وہ مزاحمتی فورسز یا عام شہریوں میں فرق کے قائل نہیں ہیں، کیونکہ وہ اس اعصاب شکن جنگ سے تھک چکے ہیں جسے مقاومت نے جاری رکھا ہؤا ہے، لہذا صہیونی رجیم جنگی مساوات کو بدلنا چاہتی ہے۔
لبنانی مزاحمت کو چاہئے کہ وہ اپنے مواصلاتی آلات میں دشمن کی دراندازی کے اصل ماخذ کا سراغ لگائے اور محاذ مقاومت پر اس آپریشن کے نفاذ اور اس کے نتائج کے حل کا جائزہ لے۔
صہیونی دشمن اب بھی لبنان کی سرحدوں میں جنگ کے دائرے میں توسیع سے خوفزدہ ہے، اور یہ تشویش دو نکات کی وجہ سے ہے: پہلا نکتہ یہ کہ صہیونی ریاست کو شمالی صہیونی نوآباد بستیوں یا اس سے بھی آگے کے مقبوضہ علاقوں میں حزب اللہ کی رضوان فورسز کی زمینی کارروائیوں کا خوف ہے۔ اور دوسرا یہ کہ مفاومت اپنے جدید ہتھیاروں کو فوجی تنصیبات یا اسٹریٹجک مراکز پر میزائلوں کی بارش کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
دشمن جانتا ہے کہ وہ ان دونوں شعبوں میں کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اس لئے وہ جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں تنازعات کے میدان کو وسعت دینے اور اسے پرتشدد فوجی کارروائیوں کے ساتھ جوڑنے کو ترجیح دیتا ہے۔
الاخبار کے ایڈیٹر نے اپنے مضمون کے آخر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ صہیونی ریاست نے اسی طرح کے خدشات کی بنیاد پر یہ دہشت گردانہ کاروائی کی ہے، لیکن مقاومت یہ بھی جانتی ہے کہ اسے ان نکات پر رد عمل کا اظہار کرنا چاہئے جہاں وہ برتری رکھتی ہے، لہذا اسرائیلی فوج، سکیورٹی ادارے اور حتی کہ صہیونی بستیوں کو اس جرم کی قیمت چکانی ہوگی۔