8 اگست 2024 - 18:31
نیتن یاہو انڈر گراؤنڈ / تل ابیب میں حماس کے شہید مجاہد عمار عودہ کی کامیاب کاروائی، کئی صہیونی ہلاک + تصاویر اور ویڈیو

یک فلسطینی مجاہد عمار عودہ نے اتوار 4 اگست کے دن تل ابیب کے محلے حولون میں کامیاب شہادت پسندانہ کاروائی انجام دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں بدامنی کا بحران کس قدر سنجیدہ ہے اور نیتن یاہو کابینہ کس قدر شکست خوردہ ہے۔ […]

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، ایک فلسطینی مجاہد عمار عودہ نے اتوار 4 اگست کے دن تل ابیب کے محلے حولون میں کامیاب شہادت پسندانہ کاروائی انجام دی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں بدامنی کا بحران کس قدر سنجیدہ ہے اور نیتن یاہو کابینہ کس قدر شکست خوردہ ہے۔ عمار عودہ مغربی کنارے کے شہر سلفیت کے رہائشی تھے۔ انہوں نے انتہائی حیران کن کاروائی کے دوران 500 میٹر کے فاصلوں پر تل ابیب کے تین مختلف مقامات میں چاقو سے مزاحمتی کاروائی انجام دی جس میں 2 صہیونی ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے۔ اس فلسطینی مجاہد نے اپنی کاروائی کے ذریعے صہیونی جرائم کے مقابلے میں فلسطینی قوم کے فطری حق دفاع کو واضح کیا۔ آخرکار صہیونی فورسز نے انہیں گولی مار کر شہید کر دیا۔ شہید عودہ نے پہلے موشے دایان روڈ پر واقع پارک کے گیٹ پر 2 صہیونیوں کو نشانہ بنایا۔

اس کے بعد وہ پٹرول پمپ کے ساتھ پس اسٹینڈ کی طرف گئے اور وہاں بھی مزاحمتی کاروائی انجام دی۔ اس کے بعد انہوں نے بس اڈے میں جا کر حملہ کیا۔ صہیونی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ممکن ہے کچھ دیگر افراد نے بھی شہید عودہ کیلئے سہولت کاری کا کام انجام دیا ہو۔ یہ شہادت پسندانہ کاروائی اس پیغام کی حامل تھی کہ غزہ کی پٹی میں صہیونی فوج کے مجرمانہ اقدامات نیز حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے باوجود فلسطین میں اسلامی مزاحمت ہر وقت سے زیادہ فعال اور زندہ ہے۔ اب تک مقبوضہ فلسطین اور مغربی کنارے میں غاصب صہیونیوں کے خلاف متعدد شہادت پسندانہ کاروائیاں انجام پا چکی ہیں جن میں صہیونی سیکورٹی فورسز سمیت 25 صہیونی ہلاک ہو چکے ہیں۔ حماس کے ملٹری ونگ القسام بٹالینز نے حالیہ شہادت پسندانہ کاروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شہید عودہ کو ایک ہیرو قرار دیا اور ان کی شہادت کا جشن منایا۔

فلسطین مزاحمتی کمیٹیز نے بھی حولون شہر میں اس شجاعانہ مزاحمتی کاروائی پر مبارکباد پیش کی اور اسے غاصب صہیونی ریاست کے سیکورٹی اور فوجی سیٹ اپ پر کاری ضرب قرار دینے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں صہیونی ریاست کی کمزوری کا واضح ثبوت قرار دیا ہے۔ اسلامک جہاد فلسطین نے بھی تل ابیب میں اس مزاحمتی کاروائی پر مبارکباد پیش کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ یہ شجاعانہ کاروائی صہیونی ریاست کے مجرمانہ اقدامات اور قتل و غارت کا فطری ردعمل تھی۔ تل ابیب کے محلے حولون میں اس تازہ ترین مزاحمتی کاروائی نے صہیونی ریاست کی سیکورٹی کابینہ کو شدید مشکل میں ڈال دیا ہے اور صہیونی آبادکاروں میں شدید خوف و وحشت پیدا کر دی ہے۔ اندرونی سلامتی کا انتہاپسند صہیونی وزیر ایتامار بن گویر کچھ گھنٹے بعد حولون میں حاضر ہوا اور یہ کہنے پر مجبور ہو گیا کہ ہماری جنگ صرف ایران سے نہیں بلکہ ہم تل ابیب کی سڑکوں پر بھی جنگ کر رہے ہیں۔

ایتامار بن گویر نے مزید کہا: “ٹھیک اسی وجہ سے ہم نے گذشتہ 8 ماہ کے دوران صہیونی آبادکاروں کو 1 لاکھ 50 ہزار اسلحہ لائسنس فراہم کئے ہیں۔ ہم نے سینکڑوں سویلین سکیورٹی دستے تشکیل دیے ہیں اور پولیس کو بھی مضبوط بنایا ہے۔” کینسٹ میں اپوزیشن لیڈر یائیر لاپید نے بھی تل ابیب میں حالیہ شہادت پسندانہ مزاحمتی کاروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: “جب سے بن گویر نے عہدہ سنبھالا ہے ہمارے گلی کوچے قاتلانہ حملوں سے بھر گئے ہیں۔” دوسری طرف مختلف سروے تحقیقات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معاشرے میں وزیر سیکورٹی بن گویر اور پولیس کی کارکردگی سے شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ صہیونی آبادکاروں کی نظر میں بن گویر اور پولیس ایک طرف تو سیکورٹی برقرار کرنے میں بری طرح ناکامی کا شکار ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف عوامی مظاہروں کے دوران مظاہرین کے خلاف طاقت کا کھلا استعمال کرتے ہیں۔

گذشتہ ہفتے ایک خبر شائع ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ شاباک (اندرونی سکیورٹی کیلئے صہیونی انٹیلی جنس ادارہ) نے بنجمن نیتن یاہو اور دیگر وزراء کو خبردار کیا ہے کہ ان کی جان کو شدید خطرہ ہے۔ واللا ویب سائٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کاروائی کے خوف سے حتی صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور اس کے وزیر بھی انڈر گراونڈ پناہگاہوں میں چھپنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق شاباک نے مقبوضہ بیت المقدس میں ایک انڈر گراونڈ پناہگاہ تیار کی ہے جس کا وزارت دفاع سے رابطہ ہے اور نیتن یاہو وہاں چھپ کر جنگ کی خبروں سے آگاہ ہو سکتا ہے اور ضروری احکامات جاری کر سکتا ہے۔ یہ پناہگاہ طویل المیعاد سکونت کیلئے تیار کی گئی ہے۔ الجزیرہ نیوز چینل کے مطابق نیتن یاہو نے یوآو گالانت سے شدید اختلافات کے باوجود ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے بارے میں اس سے بات چیت کی ہے۔

صہیونی وزیر ٹرانسپورٹ مری ریگو نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں قوی امکان ہے کہ یونان نیوی کی کشتیوں اور بسوں کا استعمال کیا جائے گا۔ ایران کے ممکنہ جوابی حملے کے خوف سے صہیونی ریاست نے جو دیگر اقدامات انجام دینے کا فیصلہ کیا ہے ان میں صہیونی وزیر انرجی الی کوہن کا یہ فیصلہ بھی شامل ہے جو زیادہ سے زیادہ کوئلہ اور ایندھن فراہم کرنے پر مبنی ہے۔ بلوم برگ نے صہیونی حکام کے بقول رپورٹ دی ہے کہ مستقبل قریب میں انجام پانے والا حملہ ایران، حزب اللہ لبنان اور انصاراللہ یمن کی جانب سے ایک ہی وقت پر انجام پائے گا۔ صہیونی اخبار اسرائیل ہیوم نے اندازہ لگایا ہے کہ ایران شہاب-3 اور خیبرشکن سمیت مختلف بیلسٹک میزائلوں سے غاصب صہیونی ریاست پر حملہ کرے گا۔ ان میں سے کچھ میزائل وعدہ صادق آپریشن میں بھی استعمال ہوئے تھے اور صہیونی فضائی دفاعی نظام ان کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم محترمہ فاطمه محمدی

۔۔۔۔۔۔۔

110