اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق،
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے سینیئر حزب اللہ کمانڈر فؤاد شُکر (سید محسن) کی شہادت کے ساتویں روز کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: حزب اللہ تحریک کے کمانڈروں کی شہادت اس کے عزم و ارادے پر اثرانداز نہیں ہوتی۔ شہید فؤاد شکر حزب اللہ کے بانی کمانڈروں میں شامل تھے، اور وہ ان شہداء میں سے ہیں جنہوں نے حزب اللہ کی تمام تقدیر ساز اور فیصلہ کن جنگوں میں حصہ لیا تھا۔
حزب اللہ لبنان کے سیکریٹریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا:
شہید شکر ان عظیم کمانڈروں میں سے ایک تھے جنہوں نے سنہ 2000 کا معرکہ رقم کیا اور 2006 کی 33 روزہ جنگ میں فعال کردار ادا کر چکے تھے۔ ہم اسرائیلی دشمن کو اچھی طرح پہچانتے ہیں اور ایک فیصلہ کن جنگ کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ شہید شکر نے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے پہلے دن سے ہی شب و روز آپریشن روم میں موجود رہتے تھے۔
فؤاد شکر حزب اللہ کے منصوبہ ساز (Mastermind) کمانڈروں میں سے ایک تھے، مقاومت کے تزویراتی مفکر تھے، نظریہ سازی اور تجاویز کے حوالے سے بہت ہی باصلاحیت تھے، اور ہر بار نئے منصوبے پیش کرتے تھے اور گذشتہ ایک عشرے سے ثقافتی اور دینی و مذہبی امور کو بہت اہمیت دیتے تھے۔
شہید شکر نے اپنے جہاد کا آغاز، جنوبی لبنان میں اسلحے کی ترسیل سے کیا تھا اور ترقی کی منازل طے کرکے ہماری تحریک کی طاقت بڑھانے کے موجودہ مراحل، تک پہنچے۔ وہ تمام میدانوں میں مرد میدان اور کمانڈر تھے۔ وہ فورسز کی تربیت پر توجہ دیتے تھے اور جہاں بھی ہوتے تھے مؤثر کردار ادا کرتے تھے، اور مقاومت کے بہت سے شہداء نے ان سے دانش و فیض حاصل کر چکے تھے۔
صہیونی 20 لاکھ فلسطینیوں کے قتل سے نہیں ہچکچاتے
بے شک مجھے فؤاد شکر کی شہادت سے شدید صدمہ پہنچا ہے اور ساتھ ہی ان پر رشک کرتا ہوں، کہ وہ مقام شہادت پر فائز ہوئے ہیں۔
اسماعیل ہنیہ کا قتل مقاومت کے لئے بڑآ نقصان ہے
اسماعیل ہنیہ کی شہادت حماس، ملت فلسطین اور محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کے لئے بہت بڑا نقصان ہے لیکن یہ شہادت ان کی کمزوری کا سبب نہیں بنے گی بلکہ مقاومت روز بروز مزید طاقتور ہو جائے گی۔
صہیونی ریاست کے ساتھ موجودہ جنگ کے حوالے سے، غزہ اصل محاذ ہے۔ حالیہ ایام میں کچھ ایسے مسائل رونما ہوئے جن سے نیتن یاہو کی جرائم پیشہ اور وحشی صہیونی کابینہ کے مقاصد کے ادراک میں مدد ملتی ہے۔ مثال کے طور پر صہیونیوں کے وزیر خزانہ (اسماٹرچ) نے گذشتہ دن کہہ دیا کہ "ہمارے لئے غزہ میں 20 لاکھ فلسطینیوں کا قتل اہمیت نہیں رکھتا بلکہ ہمیں تو مقاومت کے مجاہدین کے ہاتھوں میں قید 120 اسرائیلیوں کی فکر ہے!!"۔
صہیونی پارلیمان نے خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی ہے اور اسرائیلیوں کا اس مسئلے پر اتفاق ہے؛ ادھر فلسطینی ریاست کی حدود اور سرحدات متعین نہیں ہوئی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ اس ریاست کے پاس فوج بھی ہوگی یا نہیں۔ چنانچہ صہیونیوں کے خیال میں، محض فلسطینی ریاست کا قیام ممنوع ہے۔ یہ در حقیقت ان عرب حکمرانوں کو منہ پر تھپڑ ہے جو فلسطین میں امن کے قیام کے دعویدار تھے۔
امریکہ اور اسرائیل فلسطینی ریاست کا قیام نہیں چاہتے
غزہ پر مکمل قبضہ اور اس کے باشندوں کا زیادہ سے زیادہ قتل صہیونیوں کا بنیادی مقصد ہے؛ اسرائیل حتیٰ کہ غزہ میں بھی فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتا ہے، کیونکہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنے وجود کے لئے خطرہ سمجھتا ہے؛ چنانچہ اگر اسرائیلی غزہ پر قبضہ نہ کرسکیں تو اس پر سیکورٹی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ نیتن یاہو اور اس کی کابینہ کے عزائم ہیں۔ وہ جنگ کا خاتمہ نہیں چاہتا اور قیدیوں کے تبادلے کے سمجھوتے ہونے والے تمام مذاکرات میں اس مسئلے پر زور دیا آیا ہے، وہ غزہ میں مقاومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
اسرائیل کا ایک بنیادی منصوبہ مغربی کنارے میں نوآباد بستیوں کی توسیع اور وہاں کے عوام کی اردن کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور کرنے سے عبارت ہے، کیونکہ وہ فلسطین کے کسی بھی حصے میں فلسطینی ریاست کے قیام کا خواہاں نہیں ہے؛ شام کے علاقے جولان اور لبنان کے علاقے شبعا پر اسرائیلی قبضہ اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ وہ مغربی کنارے کو اسرائیل کا حصہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
غزہ میں امریکہ کی منافقت عجیب ہے۔ امریکی اوسلو معاہدے کے ضامن تھے، اور اس زمانے میں اس نے منافقت سے کام لیا اور 31 سال گذرنے کے باوجود، اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام میں ذرہ برابر سیاسی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔ وہ بارہا دو ریاستی حل پر ـ زبانی کلامی طور پر ـ زور دیتے رہے ہیں لیکن فلسطینی ریاست کا قیام جھوٹ کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اسرائیل مزید، ماضی طرح، طاقتور نہیں ہے
صہیونی ریاست مزید ماضی کی طرح طاقتور نہیں ہے اور اپنی ہیبت و دبدبہ کھو چکی ہے۔ ایران کے آپریشن وعدہ صادق کے موقع پر امریکہ، فرانس، برطانیہ اور کچھ عرب ممالک نے صہیونیوں کی مدد کی، بائيڈن نے کہا کہ اگر "ہم نہ ہوتے تو اسرائیل زمین سے مٹ جاتا"، آج بھی یہ ریاست ایران اور حزب اللہ کی کاروائی کے خوف سے امریکہ اور دوسرے ممالک سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسرائیل کی طاقت بہت کم ہو چکی ہے۔
صہیونی دشمن نے 1967 اور 1973 میں خطے کی طاقتور ترین فوجوں سے لڑ چکا ہے اور انہیں شکست دے چکا ہے لیکن آج وہ ایران اور حزب اللہ کے جوابی اقدام سے بری طرح ڈرا سہما ہؤا ہے اور مغربیوں سے مدد مانگنے پر مجبور ہے۔
آج اسرائیل، امریکہ اور مغربی ممالک کے ریڈار، اور صہیونی آئرن ڈوم اور داؤدی گوپھن (David's Sling) سمیت تمام طیارہ شکن اور میزائل شکن سسٹمز مکمل طور پر تیار ہیں، لیکن حزب اللہ کے ڈرون طیارے بڑی آسانی سے مقبوضہ فلسطین کی گہرائیوں تک پرواز کرتے ہیں۔ صہیونی اور امریکی ریڈار اور سیارچے ایران اور حزب اللہ کے ڈر سے پوری طرح تیار (alert) ہیں لیکن آج ہی ہمارے کئی ڈرونز عکا کے اندر تک پہنچ گئے ہیں
میں یمن اور عراق میں غزہ کے حامی محاذوں سے اپیل کرتا ہوں کہ غزہ کی پشت پناہی کا سلسلہ جاری رکھیں۔
یقینا ہم صہیونی غاصبوں کو جواب دیں گے، اور یہ جواب بہت طاقتور اور مؤثر ہوگا۔
بہرحال پورا خطہ سنجیدہ خطروں سے دوچار ہے، چنانچہ اگر اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے میں کامیاب ہوجائے تو فلسطین نام کی سرزمین باقی نہیں ہے گی، مسلمانوں کا قبلہ اول باقی نہیں رہے گا، مسجد الاقصیٰ باقی نہیں رہے گی، اردن اور جولان باقی نہیں رہے گا۔ مسجد الاقصیٰ کو شدید خطرہ لاحق ہے، صہیونی خود کہتے ہیں کہ "ہم غزہ کے تمام باشندوں کو قتل کریں گے، اور نیست و نابود کریں گے، لیکن عرب دنیا اور بین الاقوامی برادری خاموش ہیں اور جب صہیونی ہمارے کمانڈروں کو شہید کرتے ہیں تو بعض عرب ممالک کے ٹی وی چینل پر جشن کا سماں ہوتا ہے اور وہ صہیونیوں کی فتح کا جشن مناتے ہیں! مسلمانوں کو ہوشیار ہونا چاہئے، عیسائیوں کو ہوشیار ہونا چاہئے کہ اگر مقاومت غزہ میں ناکام ہو جائے ـ گوکہ ناکام نہیں ہو گی ـ تو اسلامی اور عیسائی مقدسات نیست و نابود ہو جائیں گے۔
اسرائیل کی کامیابی کا خطرہ بہت شدید ہے، عربوں کو مقاومت کی کامیابی سے نہیں بلکہ اسرائیل کی کامیابی سے فکرمند ہونا چاہئے۔ اردن کو جاننا چاہئے کہ اگر اسرائیل کامیابی حاصل کر سکے تو فلسطینیوں کو اردن منتقل کرے گا، اور کوشش کرے گا کہ شام بھی اس کے حواریوں میں شامل ہو جائے۔ مصر سمیت دوسرے عرب ممالک بھی خطرے سے دوچار ہو جائیں گے۔ چنانچہ سب کو مل کر صہیونیوں کے مقابلے میں کھڑا ہونا چاہئے اور سرتسلیم خم نہیں کرنا چاہئے۔ اگر بفرض محال، صہیونی غزہ میں کامیاب ہوجائیں گے تو وہ مصر اور اردن سمیت خطے کے تمام ممالک میں اسلامی اور عیسائی مقدسات کو نیست و نابود کریں گے۔
۔۔۔۔۔
سید حسن نصر اللہ کا خطاب العالم کی رپورٹ کے مطابق،
نکتے:
- شہید ہنیہ اور شہید فؤاد شکر کی شہادت دشمن کے ساتھ معرکے کی نوعیت کو نہیں بدلے گی۔
- ہم فؤاد شکر کے قتل کا بدلہ لیں گے، ایران شہید ہنیہ کے قتل کا بدلہ لے گا، یمن الحدیدہ پر صہیونی حملے کا بدلے لینے کا پابند ہے۔
- اسرائیل جنوب سے شمال تک منتظر ہے، ہمارے حملے کا انتظار کر رہا ہے، سب خوف و دہشت کا شکار ہیں، ہم انہیں اسی حال میں رکھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ ہماری کاروائی کا حصہ ہے۔ یہ انتظار کی جنگ ہے جو حقیقی جنگ کا حصہ ہے۔
- اسرائیلی آج ہم سے کہتے ہیں کہ کاروائی میں عجلت سے کام لیں لیکن ہم اپنی مرضی سے کاروائی کریں گے، وہ ہم سے کہتے ہیں کہ انہیں اس مبہم صورت حال سے چھڑا دیں، اللہ انہیں زندگی کی قید سے چھڑا دے۔
- صہیونی بچگانہ حرکتوں سے باز نہيں آتے، اور وہ بیروت کے نواحی علاقے ضاحیہ کے اوپر ساؤنڈ بیریئر توڑ دیتے ہیں لیکن ان کے اس بچگانہ حرکت سے زیادہ اہم مسئلہ ہمارے ڈرون طیاروں کے مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے کا مسئلہ ہے اور صہیونیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں مسلسل سائرن بجنے کا مسئلہ جو ہمارے ڈرونز طیاروں کی وجہ سے ہر روز و شب جاری ہے۔
- ہماری طاقت کا راز ہماری استقامت میں ہے۔ ہمارے قائدین اور کمانڈروں پر حملہ ہمیں مشن جاری رکھنے سے باز نہیں رکھتا۔
- صہیونی کہتے ہیں: فلسطین نام کا نام و نشان تک نہیں ہے، جبکہ محور مقاومت کا منصوبہ بحیرہ روم سے دریائے اردن تک خودمختار فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ صہیونی اور مغربیوں کی طرف سے اس منصوبے کے خلاف جتنی بھی تجویزیں آتی ہیں وہ غیر حقیقی اور بے بنیاد ہیں۔
- خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے تئیں امریکی حمایت کا دعویٰ بڑا جھوٹ اور منافقت ہے۔ یہاں تک کہ آج اگر اقوام متحدہ میں خودمختار فلسطینی ریاست کا منصوبہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے تو امریکہ اسے ویٹو کرے گا۔
- امریکی صہیونیوں کی مدد اس لئے کر رہے ہیں کہ ریاست بہت زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔
- دنیا والے امریکیوں کے اس دعوے کے فریب میں نہ آئیں کہ امریکی انتظامیہ غزہ میں صہیونیوں کی کارکردگی سے ناراض ہے! وہ ایک طرف سے اظہار تشویش کر تے ہیں دوسری طرف سے مختلف النوع ہتھیار صہیونیوں کو فراہم کرتے ہیں۔
- خطے کے عوام کو صہیونیوں کی کامیابی میں رکاوٹ ڈآلنے اور فلسطینی مقاومت نیز فلسطینی کاز کے تحفظ کے لئے فعال کردار ادا کرنا چاہئے۔
- جو لوگ لبنان میں مقاومت کی کامیابی سے فکرمند ہوجاتے ہیں وہ دشمن کی کامیابی کی صورت میں، علاقے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں بھی سوچیں۔
- شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید فؤاد شکر کی شہادت نے صہیونیوں کو دشوار صورت حال سے دوچار کر دیا ہے، کیونکہ مغربی کنارے میں صہیونیوں کے خلاف کاروائیوں میں زبردست اضافہ ہؤا ہے اور دوسری طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ابسنے والے غاصب یہودی آبادکاروں کی الٹی نقل مکانے میں زبردست اضافہ ہؤا ہے اور دشمن معاشی لحاظ سے بھی لاتعداد نقصانات سے دوچار ہو چکا ہے۔
- یہ ایک عظیم معرکہ ہے اور قابل قدر اور پیاری شخصیات کا خون زمین پر گرا ہے، یہ ایک خطرناک حملہ ہے لیکن مقاومت آنے والے دنوں میں کسی بھی قسم کی صورت حال کی شدت و حدت سے قطع نظر، انتقامی کاروائی سے دریغ نہیں کرے گی۔ اور یہ حملہ ضرور بضرور انجام پائے گا۔
مقبوضہ سرزمین میں دشمن کے تمام وسائل کی تباہی پر 30 منٹ کا عرصہ لگے گا
- بے شک ہم لبنان میں اپنے ہموطنوں کی جان و مال کے لئے فکرمند ہیں، لیکن کوئی بھی ہم سے یہ توقع نہیں رکھ سکتا کہ ہم 10 مہینے قبل کے ایام کی طرح شدت عمل سے پرہیز کریں۔
- ہم مقبوضہ سرزمین کے شمال میں صہیونیوں کے تمام کارخانوں کو صرف ایک گھنٹے میں ملبے کا ڈھیر بنا سکتے ہیں۔ اور دشمن کے فوجی وسائل اور صلاحیتوں کے انہدام کے لئے ہمیں صرف آدھا گھنٹہ وقت درکار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110