3 اگست 2024 - 06:27
دشمن کے جرائم جہاد و مقاومت کی نشوونما کا سبب بنتے ہیں۔ سیدعبدالملک الحوثی

انصار اللہ کے قائد نے شہید اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: حالیہ برسوں میں مقاومت کے راہنماؤں پر دہشت گردانہ حملوں سے ثابت ہؤا ہے کہ اس طرح کے جرائم مقاومت و جہاد کے لئے عزم راسخ کے فروغ کا سبب بنتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سربراہ اور انقلاب یمن کے قائد سید عبدالملک الحوثی نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا کہ غاصب صہیونی ریاست کے مظالم اور جرائم میں شدت اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ یہ ریاست حتمی نابودی اور زوال کے آخری مراحل میں ہے، اور یہ جرائم جس قدر بھی بڑھ جائیں مجاہدین کے عزم کو متاثر نہیں کر سکیں گے۔

یمن کے المسیرہ چینل کی ویب گاہ نے لکھا کہ یمن کے سیدالمقاومہ جناب سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شہادت جناب اسماعیل ہنیہ کو مبارک ہو، جن کا خاتمہ بخیر و برکت رہا، اور اللہ کی راہ میں طویل عرصے سے جہاد کے بعد، فلاح یافتہ ہوئے۔

انصار اللہ کے قائد نے لبنانی کمانڈر فؤاد علی شُکر (سید محسن) کی شہادت پر حزب اللہ اور لبنانی عوام کو تعزیت پیش کی اور عراق کے صوبہ بابِل امریکی ڈرون حملے میں الحشد الشعبی کے چند مجاہدوں کی شہادت پر ان کے اہل خانہ کو تعزیت پیش کی۔

انھوں نے کہا: آج تک قائدین اور کمانڈروں کی شہادت دوسروں کو ان کا مشن جاری رکھنے کا عزم و ہمت دلانے میں بہت مؤثر رہا ہے اور دوسری طرف سے اسرائیلی دشمن کی طرف سے جرائم و مظالم میں اضافے کی وجہ سے، ـ جیسا کہ اللہ کا وعدہ ہے ـ یہ ریاست حتمی نابودی اور زوال سے قریب تر ہوجاتی ہے۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ دشمن کے جرائم جہاد کے محاذوں کا دائرہ وسیع ہونے اور ان کی کارکردگی کی بہتری کا سبب بنتے ہیں۔

سید عبدالملک الحوثی نے فلسطین کے مجاہد راہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اسماعیل ہنیہ پر دہشت گردانہ حملہ تمام تر بین الاقوامی قوانین و آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے جو ظلم و استکبار سے جنم لیتی ہے۔

انھوں نے کہا: شہید ہنیہ کی شہادت نے تمام یورپی ملکوں نیز بعض عرب ممالک کو ـ جنہوں نے اس جرم کی مذمت تک سے دریغ کیا ـ بدنام اور رسوا کر دیا۔

انقلاب یمن کے قائد نے کہا: ٹرمپ کے کان معمولی سے چوٹ لگی تو بعض عرب حکومتوں نے انتہائی عجلت سے بیانات جاری کئے، اس واقعے کی مذمت کی اور ٹرمپ سے یکجہتی کا اعلان کیا، لیکن جو امت مسلمہ کے فرزندوں اور اسلامی مزاحمت کے کمانڈروں کو صہیونیوں نے دہشت گردی کا نشانہ بنایا تو نہ تو انہوں نے کوئی بیان جاری کیا اور نہ ہی ملت فلسطین سے یکجہتی کا اظہار کیا؛ اور یہی نہیں بلکہ ان حکومتوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے اس مذموم حرکت کو غاصب ریاست کے لئے ایک کامیابی قرار دیا!

فرزندان امت اسلامی و فرماندهان صورت گرفت بیانیه صادر نکردند، بلکه رسانه‌های این رژیم‌ها کاملا به‌صورت واضح این اقدامات را پیروزی برای اسرائیل قلمداد کردند.

انھوں نے کہا: لبنانی دارالحکومت کے جنوبی ضاحیہ پر غاصب صہیونیوں کا حملہ اور شہید فؤاد شُکر کا قتل انتہائی خطرناک اقدام تھا جو خطے میں جاری کشیدگی میں شدت آنے کا سبب بنے گا۔

سید الحوثی نے مذکورہ تمام جرائم و مظالم اس وقت رونما ہوئے جب صہیونی وزیر ا‏عظم نیتن یاہو نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں سے واپسی پر لبنان اور ایران میں مجاہد راہنماؤں کے خلاف جرم کا ارتکاب کیا ور ساتھ ہی امریکہ نے بھی صہیونیوں کا ساتھ دیتے ہوئے خلیج فارس اور بحیرہ روم میں نقل و حرکت کا اہتمام کیا۔

یمنی انقلاب کے قائد نے کہا: محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کا موقف واضح اور آشکار ہے؛ اور یقینا اسرائیل کے خطرناک جرائم اور مہم جوئیوں کا عسکری جواب دینا چاہئے۔

 

انھوں نے مغربی ممالک کے موقف اور دوہرے معیاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: مغربی ممالک صہیونیوں کے خطرناک اقدامات پر خاموش رہتے ہیں اور خود بھی ان اقدامامت میں شرکت کرتے ہیں لیکن جب بھی اسرائیل کے خلاف جوابی کاروائی اور جائز دفاعی اقدامات روکنے کے لئے سرگرم عمل ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا: اس وقت شہید اسماعیل ہنیہ اور شہید فؤاد شُکر کی شہادت پر رد عمل روکنے کے لئے وسیع سطح پر کوششیں ہو رہی ہیں، اور بین الاقوامی فورم اس وقت اپنے اوپر فرض سمجھتے ہیں کہ محور مقاومت کو صبر و تحمل کی اپیل کرے، حالانکہ اسرائیل اپنا کام کر چکا ہے!

انھوں نے انکشاف کیا کہ یورپیوں کی کوشش ہے کہ ایران کو سیاسی اور سفارتی دباؤ ڈال کر صرف علامتی سا جواب دینے پر اکتفا کرے اور جواب کی سطح اتنی ہو جتنا کہ اسرائیلی چاہتے ہیں!

انھوں نے امریکی موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: واشنگٹن تمام تر جرائم میں برابر کا شریک اور براہ راست ملوث ہے اور ساتھ ہی وہ غزہ میں جنگ بندی کی باتیں بھی کر رہا ہے!!

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ہی اسرائیل کے زیادہ سے زیادہ جرائم کے لئے ماحول سازی کرتا ہے اور اسی اثناء میں دعویٰ کرتا ہے کہ گویا وہ مغربی ایشیا میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے خلاف ہے، اور اسی حال میں مقاومت کو صبر و تحمل کی تلقین کرتا ہے؟!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110