31 جولائی 2024 - 06:11
حماس کے راہنما ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ تہران میں شہید ہو گئے

سپاہ پاسداران کے تعلقات عامہ کے شعبے نے اپنے ایک بیان میں اعلان کیا کہ تہران میں حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کی قیام گاہ کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے ایک محافظ کے ہمراہ جام شہادت نوش کر گئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، سپاہ پاسداران کے تعلقات عامہ کے شعبے کا بیان درج ذیل ہے:

 

بسم اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

فلسطین کی بہادر قم اور پوری امت مسلمہ نیز محاذ مقاومت کے مجاہدین اور ایران کی شریف قوم کو تعزیت پیش کرتے ہوئے اعلان کیا جاتا ہے کہ آج [بدھ 31 جولائی 2024ع‍ کی] صبح، تہران میں اسلامی مقاومت تحریک "حماس" کے سیاسی دفتر کے سربراہ جناب ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کی قیام گاہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ اپنے ایک محافظ کے ہمراہ جام شہادت نوش کر گئے۔

اس واقعے کے اسباب و عوامل اور اس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کا آغاز ہو چکا ہے اور نتیجہ آنے پر اطلاع دی جائے گی۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی

شعبہ تعلقات عامہ

۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ کا مختصر تعارف

اسماعیل ہنیہ کا پورا نام اسماعیل عبدالسلام احمد ہنیہ تھا اور ان کی کنیت "ابو العبد" تھی۔

اسماعیل ہنیہ 29 جنوری سنہ 1963ع‍ کو غزہ کے "الشاطی" کیمپ میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر عسقلان کے نواحی گاؤں "الجورہ" سے تعلق رکھتا تھا، جہاں سے انہیں غاصب یہودیوں نے گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔

اسماعیل ہنیہ کچھ عرصے تک فلسطینی اتھارٹی کے وزیر اعظم بھی رہے۔ وہ حماس کے سینئر راہنماؤں میں شامل تھے اور چھ مئی 2017  کو خالد مشعل کی جگہ، حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ تھے۔

اسماعیل ہنیہ کے کئی بیٹے، بیٹیاں اور پوتے نواسے غاصب صہیونیوں کی جاری جارحیت کے دوران شہید ہو چکے تھے، اور وہ طویل عرصے تک غاصب یہودی ریاست کے خلاف جدوجہد و جہاد کے بعد آج صبح تہران میں جام شہادت نوش کر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

110