اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عالمی
اہل بیت(ع) اسمبلی نے ہیمبرگ، برلن اور فرینکفرٹ میں اسلامی مراکز پر جرمن خصوصی
پولیس فورس کی جارحیت اور ان مراکز کی بندش پر احتجاج کرتے ہوئے ایک اہم بیان جاری
کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہیمبرگ میں اسلامی مرکز و
مسجد امام علی (علیہ السلام) سمیت مسلمانوں کے مقدس دینی مراکز پر جرمن پلیس کی
خصوصی فورس کی جارحیت اور ان کی بندش، دنیا بھر کے تمام مسلمانوں، حریت پسند اور
انسانی حقوق کے حقیقی حامیوں کے لئے شدید صدمے اور افسوس کا باعث بنی۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی ایک غیر سرکاری بین الاقوامی ادارے کے طور پر ـ جو دینی اور ثقافتی شعبوں اور دین مبین اسلام کی انسان ساز تعلیمات کے فروغ اور اہل بیت اطہار (علیہم السلام) کی زندہ جاوید تعلیمات کی ترویج کے میدانوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے ـ دین دشمنی پر مبنی اس بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے اور جرمن حکام کی جوابدہی نیز مساجد اور دینی مراکز کی سرگرمیوں کی بحالی کا مطالبہ کرتی ہے۔
ہیمبرگ کا مسجد امام علی (علیہ السلام) اسلامی مرکز چھ عشروں سے زیادہ عرصے سے فعال مرکز، کے طور پر، جرمنی کے اہم ترین دینی، علمی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے جس نے عقلیت، روحانیت، یکجہتی اور سماجی امن و سکون کے دائرے میں رہ کر، دینی اور اسلامی تعلیمات کا تعارف کرانے، انسانوں کے درمیان امن، مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے اور یوں انتہا پسندی، اختلافات اور تشدد کی نفی کرنے کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں۔
اس اسلامی مرکز کو طویل عرصے کے دوران معتبر ترین اسلامی مراکز میں سے ایک کے طور پر دینی حوزات علمیہ اور آیت اللہ العظمی سید حسین بروجردی (رحمۃ اللہ علیہ) جیسے عظیم مراجع تقلید کی حمایت حاصل رہی ہے، اور یہ مرکز اپنی چوٹی پر اہل علم و دانش سربراہوں کی قیادت میں جرمنی اور پورے یورپ میں دوسرے ادیان کے ساتھ سماجی، اکیڈیمک مراکز کے ساتھ تعاون اور تعمیری تعاملات قائم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اس نے ادیان و مذاہب اور تہذیبوں اور ثقافتوں کے ساتھ دو طرفہ شناخت اور مکالمے کی راہ میں کامیاب قدم اٹھائے ہیں۔
ایک ایسے مرکز پر انتہاپسندی کا الزام، جو خود مذہبی انتہاپسندی اور دینی تکفیریت نیز مذہبی تنازعات کی راہ میں حائل و مانع رہا ہے، ایک بے بنیاد اور قانونی اور انسانی لحاظ سے بالکل ناقابل قبول ہے؛ اور اس طرح کے قانون کے پابند اور پرامن حکمت عملیوں کے مروج مرکز کی بندش جرمنی کی سماجی یکجہتی اور اس ملک میں رہنے والے مختلف ادیان و مذاہب کے پیروکاروں کی بقائے باہمی پر منفی اثرات مرتب کرے گی۔ نیز، جو فیصلہ جاری کیا گیا ہے، وہ بھی منصفانہ سماعت کے حق، اپیل کے امکان اور سماجی اور قانونی تحفظ سے کے حصول سے بھی متصادم ہے۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی ـ اپنے شدید احتجاج اور تشویش کا اعلان کرتے ہوئے ـ جرمنی میں جرمنی کے باشندوں، مسلمانوں اور شیعیان اہل بیت(ع) کے دینی اور سماجی حقوق کی اعلانیہ خلاف ورزی پر خبردار کرتی ہے اور جرمن پولیس کے حالیہ اقدام کو دین و مذہب کی آزادی، اظہار کی آزادی، اور اجتماعات اور جلسے جلوسوں کی آزادی سمیت انسانی حقوق اور آزادیوں کی پامالی کا کھلا مصداق سمجھتی ہے، جنہیں ـ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے، اقوام متحدہ کے چارٹر، شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن، اقوام متحدہ کے ملینیم ڈیکلریشن اور انسانی حقوق کی دیگر دستاویزات اور جرمن قانونی رویوں اور طریقہ ہائے کار سمیت ـ تمام بین الاقوامی معاہدوں اور انسانی حقوق کی دستاویزات اور ضوابط کی رو سے تسلیم کیا گیا ہے۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی جرمن حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس ملک میں انسانی حقوق کی رعایت کے طویل پس منظر کی رو سے، ان غیر قانونی اقدامات کا سد باب کرکے، اور ائمۂ مساجد اور اسلامی مراکز ـ بالخصوص ہیمبرگ، برلن اور فرانکفورٹ اسلامی مراکز ـ کی سرگرمیوں کو بحال کرے، مساجد کی بندش کا حکم منسوخ کرے، حملے اور تلاشی کا نشانہ بننے والے مراکز کو پہنچنے والے مادی اور اخلاقی نقصانات کا ازالہ کرے، تمام اسلامی مراکز کی فعالیت کو بحال کرے، برلن کے اسلامی مرکز کے ڈائریکٹر اور امام کی بے حرمتی اور توہین کرنے والے عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کرے اور اس طرح کے غیر قانونی اقدامات کے اعادے کی ممانعت کو یقینی بنا دے، جو یقینا بے چینی، تشدد کی ترویج و حالات کی خرابی اور یورپ سمیت، دنیا میں اسلامو فوبیا کے رواج کا سبب اور اسلامو فوبیا کے پرچارکوں کے ہاتھ میں دستاویز بنتے ہیں جس سے ناقابل تلافی نقصانات کے اسباب و موجبات فاہم ہوتے ہیں۔ ہم جرمن حکمرانوں سے مطالبہ کتے ہیں کہ شہری حقوق کے تحفظ اور نسل پرستی اور اسلامو فوبیا کی نفی پر مبنی اپنے عہد اور فرض پر عمل کریں اور ان انتہاپسند اور تشدد پسند [مغربی] گروپوں کی راہ میں رکاوٹ بن جائیں جو ان اقدامات سے ناجائز فائدہ اٹھا کر مسلمانوں پر حملے کر سکتے ہیں؛ اور یقینا دنیا کی موجودہ صورت حال میں، جبکہ ایک طرف سے صہیونی ریاست فلسطینی بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے، اور جرمنی اور یورپ سمیت عالی رائے عامہ فسلطین کے مظلوم عوام کی حمایت کر رہی ہے، جرمن حکومت کے مثبت اقدامات امن و سلامتی، مکالمے اور بقائے باہمی کو تقویت پہنچانے میں بہت اہمیت رکھتے ہیں۔
پولیس اور مقامی اور وفاقی اہلکاروں کی جانب سے تشدد آمیز اقدامات، من مانی تلاشیاں، گرقتاریاں اور غیر قانونی اور بلا جواز جلا وطنیاں اور باضابطہ رجسٹرڈ ـ اور جرمن قوانین و ضوابط کے دائرے میں سرگرم عمل مساجد اور اسلامی مراکز اور شیعہ انجمنوں کی بندش، مسلمانوں اور شیعیان اہل بیت(ع) کو بنیادی حقوق اور سماجی و عدالتی امن سے محروم کرنے، جائز حقوق کی بحالی اور منصفانہ عدالتی سماعت کا حق چھیننے کا نمایاں ترین مصداق ہے۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کو جرمن حکام کے ان اقدامات کی خبریں شائع ہونے پر دنیا بھر کے مختلف علاقوں سے اس واقعے کی مذمت اور اس پر شدید احتجاج پر مبنی پیغامات موصول ہوئے ہیں، یہ اسمبلی جرمنی میں مقیم مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ قانون کے دائرے میں پرامن اور پرسکون رہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں، علماء، دانشوروں، جامعات کے پروفیسروں اور دیگر مذاہب و ادیان کے دینی راہنماؤں سے اپیل کرتی ہے کہ قانونی اقدامات کے ذریعے عظیم جرمن قوم کے فرد فرد اور مسلمانوں کی حمایت کا خصوصی اہتمام کریں۔ اور اس ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصے کی مسلمہ انسانی، دینی و مذہبی اور سماجی حقوق سے محرومیت کا سد باب کریں۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی ایک بار پھر سماجی یکجہتی اور امن و سکون کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق کی حمایت کرتے ہوئے، جرمن حقوق سے ایک بار پھر، پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ رویے کو بدل دے اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کرے؛ اور بین الاقوامی فورموں ـ منجملہ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنریٹ برائے انسانی حقوق، ـ سے توقع رکھتی ہے کہ جرمنی سمیت پوری دنیا میں انسانی حقوق کی پاسداری کے لئے فیصلہ کن انداز سے عمل کرے۔
عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی
جولائی سنہ 2024ع
۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
110