اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض فوج
نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف مزید 4 اجتماعی قتل عام کیے ہیں جن میں 60 شہری
شہید اور 140 زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت نے اپنے یومیہ بیان میں اعلان کیا کہ گذشتہ اکتوبر کی سات تاریخ سے اب تک جارحیت میں 37,718 شہید اور 86,377 زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر اب بھی متعدد زخمی دبے ہوئے ہیں۔ ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔
خیال رہے کہ گذشتہ 7 اکتوبر سے “اسرائیلی” قابض افواج غزہ کی پٹی پر تباہ کن جنگ کیے ہوئے ہے جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار معصوم شہری شہید، زخمی اور لاپتہ ہونے کے علاوہ 20 لاکھ افراد بے گھرہوچکے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کا 70 فیصد سے زیادہ تباہ ہوچکا ہے اور غزہ کی سخت ناکہ بندی اور مسلسل جنگ کے نتیجے میں گنجان آباد علاقہ قحط کی لپیٹ میں ہے۔
ادویات، پانی اور خوراک کی قلت کے باعث آئے روز بچوں اور دیگرشہریوں کی اموات کی خبریں آ رہی ہیں۔ دوسری جانب غاصب صہیونی دشمن ریاست نے جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام بنا دی ہیں اور وہ غزہ میں فلسطینیوں کی منظم اور مسلسل نسل کشی پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ قائم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نکتہ: تصویر میں ایک بچی فلسطینی شہداء کی لاشوں کے پاس سیلفی اتروانے نہیں آئی، یہ حالات کا جبر ہے کہ وہ اس مقام پر کھڑی ہے اور سوالیہ علامت بنی ہوئی ہے تقریبا دو ارب مسلمانوں کے ضمیر کے سامنے۔ اور اپنی خاموشی میں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ اے مسلمانو ہمارے ان عزیزوں کو تمہارے ہی دشمنوں نے شہید کیا ہے اور وہ تمہارے لئے بھی اسی طرح کا منصوبہ رکھتے ہیں، اور اگر تمہاری بے حسی کا یہی عالم رہا تو کیا معلوم مستقبل قریب میں تمہارے گلی محلوں کا بھی یہی عالم ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110