اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، یمن کے نائب وزیر اطلاعات "نصر الدین عامر" نے ـ صہیونی ریاست کے خلاف یمنیوں کی بڑی کاروائیوں اور صہیونی جہآزوں کی ضبطی کے بعد ـ ابنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم طوفان الاقصیٰ کے معرکے میں شریک ہوئے، اور ابتدائی دنوں ہی سے فلسطینی عوام کی حمایت کی اور انقلاب یمن کے راہنما کے فرمان پر اپنی کاروائیوں کو سمندر میں پھیلا دیا۔
انھوں نے کہا: ہم زور دیتا چاہتے ہیں کہ بحیرہ قلزم (Red Sea) پرامن ہے، اور بحیرہ قلزم سے گذرنے والے جہازوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے، لیکن جن جہازوں کی نشاندہی یمنی مسلح افواج کے بیان میں ہوئی ہے اور صہیونیوں سے تعلق رکھتے ہیں، ضبطی یا تباہی کے لئے جائز ہدف [نشانہ] ہیں۔
انھوں نے غزہ پر یلغار کو فوری طور پر روکنے کے لئے کی ضرورت ہے ورنہ یمن صہیونی جرائم کا جواب دیتا رہے گا، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یمن کا اقدام حطرناک ہے مگر ہم ان سے کہتے ہیں کہ غزہ پر صہیونی جارحیت کا جاری رہنا خطرناک ہے۔ یہ ریاست نہ تو ہم سے زیادہ بہادر ہے نہ ہی ہم سے زیادہ نڈر ہے، بلکہ ہم ان سے کہیں زیادہ جوانمرد اور ان سے کہیں زیادہ شجاع اور بہادر ہیں۔ جب دنیا جارح کے مقابلے میں نہیں اٹھتی، ہم پھر بھی جارح کا احترام نہیں کریں گے۔
انصار اللہ کے قیادتی ہیئت کے معاون اور نائب وزیر اطلاعات نے مزید کہا: الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ایران کی پیروی کر رہے ہیں، اگر ایسا ہے تو مجھے کہنا چاہئے ہے کہ خدا نے ایران کو روسفید کر دیا ہے، جس نے اس انداز سے عمل کیا ہے، لیکن ہمارا صرف ایک ہی مقصد ہے اور وہ غزہ پر جارحیت کو روکنا ہے، اور ہم اس مقصد تک پہنچنے کے لئے کوشاں ہیں۔
انھوں نے آخر میں کہا: یہ خطہ بارود کا ڈھیر ہے اور نیتن یاہو نامی پاگل شخص کو بعض ممالک کی حمایت حاصل ہے، اور ان کی حمایت بارود کے اس ڈھیر میں دھماکے کا باعث بن سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110