اہل بیت(ع) نیوز
ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، غزہ میں حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ "حماس" نے (یوم
السبت 7 اکتوبر 2023ع کو) صہیونیوں کے مسلسل جرائم، فلسطینیوں کے قتل عام، مسجد
الاقصٰی کی مسلسل بے حرمتی اور اس کے محافظین پر حملوں اور صہیونی فوجیوں کی مدد
سے یہودی بستی نشینوں کے مسلسل حملوں کے جواب میں پنی کاروائی طوفان
الاقصٰی کا
آغاز کیا اور مجاہدین انتہائی تیز رفتاری سے
غاصب ریاست پر حملہ آور ہوئے اور ابتدائی چند منٹوں میں 5000 ہزار راکٹوں سے
صہیونی ٹھکانوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
گوکہ طوفان الاقصٰی جاری ہے اور صہیونیوں کے اپنے اعترافات کے مطابق، ہر روز کئی صہیونی مارے جا رہے ہیں لیکن صہیونی اپنے جانی نقصانات کی تعداد سینسر کی اپنی دیرینہ پالیسی کے مطابق چھپا رہے ہیں اور آج کئی دن گذرنے کے باوجود غاصبوں کے جانی نقصانات 1855 اور 3800 تک بتائے جا رہے ہیں اور زخمیوں کی تعداد میں بھی بظاہر کوئی اضافہ نہیں دکھائی دے رہا ہے اور ان کی تعداد 3000 بتائی جا رہی ہے۔ جبکہ بعض ذرائع کے مطابق ان کے ہلاک شدگان اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
دوسری طرف سے صہیونی میدان جنگ میں ہارنے کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی مین مصروف ہوئے ہیں، انھوں نے اب تک ایک لاکھ 35 ہزار فلسطینی گھر منہدم کر دیئے، ہیں، 2808 فلسطینی شہید ہوئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد 109150 افراد تک پہنچ گئی ہے، غزہ کے 52 فیصد شہداء خواتین اور بچے ہیں۔
صہیونیوں نے غزہ کا پانی بند کیا ہے، بجلی بند کی ہے، انہیں بین الاقوامی قوانین کے برعکس اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، ایمبولینسوں اور طبی عملے نیز نامہ نگاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسپتالوں، اسکولوں اور خیراتی اداروں پر بم برسائے جا رہے ہیں اور غاصب صہیونی فوج غزہ کے نہتے عوام پر وسیع پیمانے پر امریکہ اور یورپ کے دیئے ہوئے فاسفورس بم اور ممنوعہ ہتھیار استعمال کر رہی ہے۔
دوسری طرف سے صہیونی سرغنے، ادارے اور ذرائع ابلاغ بھی اور ان کے مغربی حامی بھی اعتراف کر رہے ہيں کہ صہیونی ریاست کو اپنی تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
غاصب صہیونی ریاست کے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ایک راہنما اور انتہا پسند وزیر خزانہ ہیزالل اسموتریچ نے کہا ہے کہ "ہمیں ذلت، دکھ اور شرمندگی کے ساتھ تسلیم کرنا چاہئے کہ حماس کے ہاتھوں بری طرح شکست کھا گئے ہیں؟۔ اس نے مزید کہا: "اسرائیلی راہنما اپنے شہریوں! کی حفاظت میں ناکام رہے ہیں"۔
ایک طرف سے امریکیوں نے طیارہ بردار جہاز غزہ کے سمندر کی طرف روانہ کئے ہیں اور حزب اللہ کی طرف سے صہیونیوں پر حملے کی صورت میں مداخلت کی شیخیاں بگھار رہے ہیں اور دوسری طرف سے ایک سابق امریکی کمانڈر جنرل ڈان بولڈاک (Don Bolduc) نے کہا ہے کہ امریکہ نے اپنے ہتھیار یوکرین کے حوالے کئے ہیں اور آج امریکہ کسی بھی جنگ میں شرکت کا اہل نہیں رہا ہے۔
- ادھر امریکہ میں ایک 81 سالہ زمیندار نے امریکی میڈیا کی زہریلی تشہیری مہم کے زیر اثر، چاقو کے 26 وار کرکے چھ سالہ فلسطینی نژاد امریکی بچے کو شہید اور اس کی ماں کو زخمی کر دیا۔ قاتل گرفتار۔
لمحہ بہ لمحہ قدم بہ قدم طوفان الاقصٰی کے ساتھ:
22:36 | القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ: غزہ میں غاصب ریاست کے قیدیوں کی تعداد 200 سے 250 تک ہے، اب تک 22 قیدی صہیونیوں کے اندھادھند حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔ 200 قیدی ہمارے پاس ہیں اور باقی دوسری مقاومتی تحریکوں کے پاس۔ - صہیونی دشمن کو توقع نہیں تھی کہ غزہ میں محصور ایک عربی قوت انہیں اتنا بھاری نقصان پہنچا سکے گی۔
- زمینی حملے کی صہیونی دھمکی ہمیں خوفزدہ نہیں کر رہی ہے، اور ہم سامنا کرنے کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔
- صہیونی دشمن نے میدان میں لڑنے کے بجائے ہماری قوم کو وحشیانہ حملوں کو نشانہ بنایا اور ان کی بزدلی اور شکست عیاں ہو گئی۔
21:59 | تحریک جہاد اسلامی کے قدس بریگیڈز: ہم نے فلسطینی قوم کے قتل عام کے جواب میں صہیونی ٹھکانوں پر مزید حملے کئے ہیں اور مقبوضہ یہودی دشین شہروں "اسدود، بئر السبع، عسقلان اور نتیفوت" پر میزائلوں کی بارش کر دی ہے۔
- صہیونی چینل 13 نے یہودی نشین شہر سدیروت پر میزائل لگنے پر مبنی رپورٹ دی ہے۔
- القسام بریگیڈز: صہیونی دارالحکومت تل ابیب کو میزائلوں کا نشانہ بنایا گیا۔
20:50 | تل ابیب اور نواح میں سائرن بج رہے ہیں، چینل 12 کے مطابق، مشرقی تل ابیب میں حولون اور باتیم میں زوردار دھماکے سنئے گئے ہیں۔
20:15 | رفح گذرگاہ پر غاصب صہیونی ریاست کی بمباری
19:43 | القسام بریگیڈز: خان یونس میں ایک صہیونی ڈرون پر متبر میزائل داغا گیا۔
17:44 | عسقلان پر فلسطینی مقاومت کا کامیاب حملہ
17:39 | تل ابیب میں صہیونی کنیسٹ (پارلیمان) کی فضاؤں میں مقاومت کے میزآئلوں کی پرواز، کنیسٹ کا اجلاس ملتوی ہو گیا اور کنیسٹ کے صہیونی اراکین بھاگ کر پناہ گاہوں میں چھپ گئے۔
16:41 | صہیونیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے عمل پر ایک ضرب اور، دوبئی میں ایک شخص نے دو صہیونیوں پر چاقو سے حملہ کرکے انہيں زخمی کر دیا۔
16:37 | طوفان
الاقصٰی کے آغاز سے اب تک 1855 صہیونی ہلاک اور 3800 زخمی ہیں، بہت سوں کی حالت
نازک ہے۔
16:33 | صہیونی ذرائع: اس لمحے تک 60000 یہودی بستی نشین غزہ کے اطراف کے قصبوں اور بستیوں کو چھوڑ کر چلے گئے ہيں۔ اس سے پہلے بھی ہزاروں صہیونی جنوب سے مرکز کی طرف بھاگ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مقبوضہ فلسطین سے مغرب کی طرف الٹی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ہنوز صیغۂ راز میں رکھی گئی ہے۔
16:25 | غزہ کے اطراف میں سائرن بجنے لگے، غزہ سے میزائل حملوں کا امکان۔
16:04 | صہیونی اخبار معاریو: پوٹن محمود عباس اور نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کریں گے۔
15:44 | القسام بریگیڈز: "کَفار غزہ" میں صہیونی فوج کے ایک اجتماع کو مارٹر گنوں سے نشانہ بنایا گیا۔
15:32 | غزہ کے عوام کے ایک بڑے اجتماع نے شہداء کی اجتماعی تدفین کے موقع پر شہداء کے جنازوں پر قسم اٹھائی کہ وہ کبھی بھی غزہ چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے، یہاں تک کہ شہید ہو جائیں۔ وہ نعرہ لگا رہے تھے کہ "ہم جائیں گے تو قدس کی طرف بڑھ کر جائيں گے، ہرگز بے وطن نہیں رہیں گے"۔
15:27 | ہلال احمر نے ایک ویڈیو کلپ جاری کیا جس میں صہیونی غاصب زخمیوں اور طبی عملے کے حامل ایک ایمبولینس کو نشانہ بناتے ہیں۔
13:20 | صہیونیوں نے جنگی جرائم کا نیا ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے غلے کے گوداموں کو نشانہ بنایا۔
13:10 | صہیونی چینل 13: تل ابیب میں ایک ہولناک دھماکے کی آواز سنائی دی ہے۔
13:05 | مصری وزیر خارجہ: بدقسمتی سے اسرائیل نے غزہ کی طرف انسانی بنیادوں پر امداد کی منتقلی کی اجازت نہیں دی ہے۔ [مصر آبادی کےلحاظ سے سب سے بڑا ملک ہے، 9 کروڑ!]
12:02 | غاصب صہیونی فوجی ترجمان: ہم اب تک 199 اسرائیلی قیدیوں کے خاندانوں کو بتا چکے ہیں کہ وہ غزہ میں حماس کے پاس قید ہیں۔
11:50 | القسام بریگیڈز نے غزہ میں نہتے عوام کے قتل عام کے جواب میں بن گوریون ہوائی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
11:45 | بیت المقدس اور تل ابیب کے درمیانی علاقے مودیعین میں میزائل حملے کا سائرن بجا ہے۔
11:30 | غزہ کی وزارت داخلہ نے خبردار کیا کہ تقریبا 1000 شہیدوں کی میتیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں چنانچہ انسانی اور ماحولیاتی المیے کا قوی امکان ہے۔
11:20 | غزہ میں ایک ہی گھرانے کے 21 شہداء کی تدفین
11:15 | انسانیت دشمن صہیونی وزیر توانائی: انسانی صورت حال یا قحط کے خطرے کے بہانے! غزہ کا محاصرہ اٹھانے کے خلاف ہوں!!
11:10 | شہر اریحا کے جنوب مغرب میں عقبۃ الجبر کیمپ میں شدید جھڑپیں ہوئی ہيں۔ صہیونی غاصبوں نے کیمپ کو گھیر لیا ہے۔
11:00 | خان یونس پر جعلی ریاست کی اندھادھند بمباری میں شہداء کی تعداد 17 ہو گئی ہے۔
10:45 | غاصب صہیونی فوج نے گذشتہ شب اور آج [16 اکتوبر 2023ع کی] صبح مقبوضہ قدس شریف اور مغربی کنارے کے 70 فلسطینی باشندوں کو گرفتار کیا۔
10:30 | صہیونیوں نے غزہ پر انتہائی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری رکھا۔
10:07 | شہدائے غزہ کی تعداد 2750 اور زخمیوں کی تعداد 9700 ہو گئی ہے۔
08:55 | ایک دعویٰ: چند گھنٹوں کے لئے انسانی ہمدردی پر مبنی جنگ بندی کا امکان۔
08:45 | گذشتہ شب ـ فضائی حملوں کے آغاز سے اب تک ـ کی شدید ترین بمباری، جو آٹھ گھنٹوں تک مسلسل جاری رہی۔ بچوں اور خواتین سمیت درجنوں نہتے فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
07:35 | جعلی ریاست کے ذرائع: اسرائیلی بٹالین کمانڈر لبنان کے سرحد کے قریب ہلاک ہو گیا۔ اس کے ٹینک کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
07:20 | خان یونس کے مرکز میں فلسطینی مصنف و تجزیہ نگار عبداللہ العقاد کے فلیٹ پر صہیونیوں کی بمباری، العقاد اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ شہید ہو گئے۔
07:15 | مصر میں فلسطینی سرحد کے قریب 1000 ٹن انسانی امدادی سازوسامان سے بھرے 100 ٹرک غزہ کی پٹی میں داخلے کے انتظار میں۔
07:00 | صہیونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ طوفان الاقصٰی کے آغاز سے لے کر اب تک 291 صہیونی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ صہیونیوں کے مجموعی ہلاک شدگان کی تعداد 2000 کے قریب ہے اور فلسطینی مجاہدین نے بارہا اعلان کیا کہ انہوں نے صرف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے! سمجھنے والے خود سمجھنے کی کوشش کریں یہ جان کر کہ صہیونی اپنے ہلاک شدگان کی تعداد چھپایا کرتے ہیں کیونکہ وہ قرآنی گواہی کے مطابق کبھی بھی مرنا نہیں چاہتے، شہادت ان کے ہاں بے معنی ہے اور ساتھیوں کے مرنے کی خبر سن کر صہیونی فوج بے چین ہو جاتی ہے، اور نافرمانی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
05:10 | القسام بریگيڈز نے الزواری کامیکازے ڈرون کے ذریعے مفلاسیم کے جنوب میں صہیونی فوجی اجتماع کو نشانہ بنایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110