26 جولائی 2023 - 17:25
عاشوارائی تولیٰ و تبریٰ / دوست اور دشمن کا تعارف؟ دشمن شناس مؤمن نشانے پر کیوں؟

کربلا و عاشورا نے تولیٰ و تبریٰ (یا تَوَلِّی و تَبَرِّی) کا درس دیا اور یہ کہ اس قدر تولیٰ کی تعلیم دو اس قدر ولایت کو موضوع سخن بناؤ اور دہراؤ کہ  دشمن بھی تنقید نہ کرسکے اور حقیقت اہل بیت(ع) کو بھی سمجھ لے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق مکتب عاشورا صرف تنقید نہیں کرتا، راہ حل بھی سامنے رکھتا ہے، ہدایت بھی دیتا ہے اور راہنمائی بھی کرتا ہے۔

عجب یہ کہ جو لوگ تبریٰ کی رائج روش پر عمل پیرا ہیں وہ مکمل طور پر آزاد ہیں، نہ ان کو کوئی دشمن سمجھتا ہے، نہ ان کے اوپر ایف آئی آر کٹتی ہے اور نہ ہی انہيں ممنوع المنبر کیا جاتا ہے اور نہ ہی مختلف شہروں میں ان کے  داخلے پر پابندی لگتی ہے، کیوں؟

اس لئے کہ یہ لوگ تعلیمات آل محمد(ص) کی ترویج نہيں کر رہے ہوتے ہیں بلکہ رد عمل کو جنم دیتے ہیں، دشمنیاں پیدا کرتے ہیں جو کہ اصل دشمنوں کا مطمع نظر ہے اور یہ لوگ جان کر یا انجانے میں دشمن کی خدمت میں مصروف ہیں اور اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات کے سامنے بند باندھ رہے ہیں،  یہی تو منتہائے آرزو ہے یزیدان زمانہ کی۔۔۔

اور عجیب تر یہ کہ جو لوگ وحدت و یکجہتی کی تعلیم دیتے ہیں، ولایت و مرجعیت کے حکم کے مطابق اسلامی فرقوں کے مقدسات کا احترام کرتے ہیں یا کم از کم ان کی بےحرمتی نہيں کرتے، یعنی خالصتاً تعلیمات آل محمد(ص) کی ترویج کرتے ہیں اور اول الذکر جماعت کی روش کی پیروی نہیں کرتے، انہيں دہشت گردی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے، مختلف شہروں میں ان کے داخلے پر پابندی بھی لگتی ہے اور ان کے اوپر مختلف بہانوں پر ایف آئی آر بھی کٹتی ہے یہاں تک کہ ان کی شہریت پر بھی انگلی اٹھائی جاتی ہے، یا ان پر غداری کا الزام تک لگتا ہے! تو سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

وہ نشانے پر ہیں اس لئے کہ اہل بیت (علیہم السلام) کا تعارف کرارہے ہیں اور جب کوئی اہل بیت (علیہم السلام) کو پہچان لیتا ہے تو دشمنان اہل بیت(ع) اور دشمنان امت کو بھی پہچان لیتا ہے، یہی وہ چیز ہے جس کو دشمنان اہل بیت(ع) اور دشمنان اسلام برداشت نہيں کرتے۔ یہ باعث تعجب نہیں ہے کہ انسان

مختلف ادارے ـ اور بیرونی و اندرونی ایجنسیوں سے وابستہ جماعتیں ـ رائج تبریٰ کو برداشت کرتے ہیں کیونکہ یہ ان ہی کے مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے اور یہ عمل رد عمل کا باعث بنتا ہے اور لوگ اہل بیت(ع) کی طرف راغب نہیں ہوتے، بلکہ دور بھاگتے ہیں اور دشمن بن جاتے ہیں اور مکتب اہل بیت(ع) کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کرتے ہیں۔

لیکن جب آپ اہل بیت کا پرنور چہرہ لوگوں کو دکھاتے ہیں، اسلام کے اصل دشمنوں کا تعارف کراتے ہوئے تبریٰ کا حق ادا کرتے ہیں تو لوگ دوسری طرف دیکھیں گے ہی نہیں؛ چنانچہ اصل دشمن یا ان کے گماشتے آپ کو جلوس میں نہیں، بلکہ اپنے گھر میں امامبارگاہ میں بھی نشانہ بناتے ہیں اور آپ اور آپ کی خواتین اور بچوں تک کو قتل کرتے ہیں، یہاں تک کہ آپ کی مجلس خراب کرنے کے لئے اجرتی خودکش تک خرید لیتے ہیں!

بابصیرت مجالس عزا کو خودکش دھماکوں سے اڑانے کا سبب یہی ہے کہ یہاں حسین اور امثالِ حسین کا تعارف کرایا جاتا امامت کی حیاتِ دائم اور ولایت کے تسلسل کا اعلان ہوتا ہے اور اس کی تعلیم دی جاتی ہے اور لوگ یہآں آکر جان لیتے ہیں کہ قابل نفرت کون ہے اور لائق محبت کون ہے؟ کون اسلام، قرآن، پیغمبر، مقامات مقدسہ اور قبلہ اول و ثانی پر قابض ہیں؟ اور بتایا جاتا ہے کہ آپ کے دشمن آپس میں متحد کیوں ہیں؟ اور کون ہے وارث امامت جو ان مقدسات کی حفاظت کررہا ہے؟ کون صہیونیت کا دوست ہے اور کون صہیونیت کی ریشہ دوانیوں کا مقابلہ کررہا ہے؟

بصیرت افزا مجالس میں تلاوت قرآن بھی ہوتی ہے: بقرہ، و آل عمران و انفال و توبہ وغیرہ کی تلاوت، مائدہ کی آیت کی بھی تلاوت ہوتی ہے:

"لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُواْ الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُواْ؛ اے میرے حبیب! آپ ضرور بضرور ایمان لانے والوں کا شدید ترین [اور بدترین] دشمن یہودیوں اور مشرکوں کو پائے گا"۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔

110