اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے
مطابق، اگر دیکھنے کی نوعیت ایسی نہ ہو کہ
امویوں کے پیدا کردہ تاریخی المیئے کو صحیح طور پر سمجھنے کی بصیرت نہ ہو، تو
کربلائے حسین کا فہم و ادراک ممکن نہیں ہوگا۔
نکتے:
1۔ کربلا نے واضح کیا کہ سطحی اسلام اور معنویت اور ولایت و جہاد سے عاری سیاسی اسلام، معاشرے کو کمزور اور زد پذیر کر دیتا ہے یہاں تک کہ منافقت اس معاشرے پر اثرانداز ہوجاتی ہے اور یہ ایک عبرت ہے کہ [<-اہم بات->] اگر ملک گیری اور سرزمینوں پر قبضے کی روش یا آج کے دور میں لبرل جمہوریت کی طرز پر ترقی کی روش، اسلامی معاشروں میں داخل ہوجائے، - جس میں معنویت اور روحانیت نیز ولایت و امامت کو ہیچ سمجھا جاتا ہے، ـ تو معاویہ جیسوں کی حکمرانی معرض وجود میں آئے گی اور امام حسین (علیہ السلام) جیسوں کو خون تپنی ریت پر بہایا جائے گا؛ اور اسلامی حکومت عربوں اور عرب قبائل کی حکومت میں بدل جائے گی۔ (یہ ایک عمومی قاعدہ ہے جس کو کہیں بھی لاگو کیا جاسکتا ہے)۔
2۔ منافقین اور اسلامی تشخص کی محویت کے خواہاں عناصر مقدسات کا تقدس مٹا کر معاشرے کے ناتجربہ کار افراد ـ خصوصاً نوجوانوں ـ کو اپنے حال پر چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اسلام اور اس کے مقدسات کو چھوڑ کر دائیں بائیں پھرنے والے شیطانوں کی تقدیس کریں اور اپنی سطحی تشخیص سے جس کو چاہیں اپنے لئے نمونۂ عمل بنائیں؛ تاکہ خالص محمدی اسلام کے علمبردار خانہ نشیں ہو جائیں، جبکہ امام سید روح اللہ خمینی (رضوان اللہ علیہ) فرماتے ہیں کہ "تحریک عاشورا کے ذریعے سے اسلامی معاشروں کو اس قسم کے فتنوں سے بچایا جا سکتا ہے"۔
3۔ جان لینا چاہئے کہ امام حسین (علیہ السلام) کی نصرت طلبی کی فریاد اور آپ کا مشہور جملہ "ہل من ناصر ینصرنی" کا رخ صرف کربلا میں موجود لشکرِ یزید کی طرف نہیں ہے بلکہ یہ تو ان سب کے لئے خطاب ہے جو حق و باطل کے تاریخی معرکے میں امام حسین (علیہ السلام) کا ساتھ دینا چاہتے ہیں، اور دفاع مقدس اور دفاع حرم کے شہیدوں کی طرح، حق و باطل کے تاریخی معرکے کا باب کھلا رکھتے ہوئے اس زمانے کے محاذ کا انتظام و انصرام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
4۔ چنانچہ زیارت عاشورا کربلا کی طرف رجوع کرنے کا نقطۂ مکرر ہے، جس کا پابند رہنا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔
110