عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے ماہ جون 2023ع کے دوران بحرینی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی 120 خلاف ورزیوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ آل خلیفہ کے حکام نے بحرین کے مختلف علاقوں میں ان خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا ہے۔
مذکورہ مرکز نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں فاش کیا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی میں سیکورٹی الرٹ اور اچانک ہنگامی حالت کا نفاذ، گھروں پر حملہ، الدراز السنابس سمیت 15 علاقوں میں ناکہ بندیاں، وغیرہ شامل ہیں؛ جبکہ بحرینی حکام نے 15 شہریوں کو طلب کرکے ان میں سے آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
انسانی حقوق کی مذکورہ تنظیم کی اس رپورٹ کے مطابق بحرین کے مختلف حصوں میں لوگوں نے شہداء، سیاسی قائدین اور گرفتار شدگان کی حمایت میں 40 مرتبہ احتجاجی اجتماعات اور ریلیوں کا اہتمام کیا ہے۔
تنظیم نے واضح کیا ہے کہ گذشتہ ایک مہینے کے دوران اقلیتی حکمران خاندان کی طرف سے بہت سارے فرقہ وارانہ عمل میں لائے گئے ہیں اور یہ اقدامات اکثریتی شیعہ آبادی کے لئے رنج و تکلیف کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی اہم ترین خلاف ورزیوں میں سے ایک ہے کہ خلیفی حکام نے آٹھ جون کو نماز جمعہ کے انعقاد پر قدغن لگائی اور بحرینی عالم "فاضل الزاکی" کو خطبہ دینے سے روک لیا۔
الدراز کے قصبے کو، بحرین کے روحانی پیشوا آیت اللہ شیخ عیسٰی قاسم کی نظربندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک آمد و رفت کی آزادی کے حوالے سے ممانعتوں کا سامنا رہا ہے۔
مذکورہ رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ حکومت کے گماشتوں نے جون کے مہینے میں مشہور تابعی اور امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) کے صحابی صعصعہ بن صوحان العبدی کی زیارت گاہ کو زائرین کے لئے بند کر دیا۔ اور ادھر وفاق کی سیاسی جماعت جمعیۃ الوفاق نے اس زیارت گاہ کی تعمیر نو اور دوبارہ کھولنے کے لئے ابلاغیاتی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔
بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے بحرین کے عقوبت خانوں میں سیاسی قیدیوں کی نازک صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "جو" اور "حوض الجاف" نامی قید خانوں میں قیدیوں کو آل خلیفہ کے حکمرانوں کی طرف سے ناخوشگوار طرز سلوک کا سامنا ہے؛ بحرینی یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالجلیل السنکیس کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے، اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرنے سے غفلت برتی جا رہی ہے؛ حالانکہ وہ عرصہ دو سال سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، "جو" نامی مرکزی عقوبت خانے کے عملے نے جیل نمبر 14 کے قیدیوں کو آزار و اذیت دینے کی غرض سے، انہیں اپنے گھر والوں سے رابطہ اور ملاقات کرنے سے محروم کر دیا ہے اور شیخ میرزا المحروس کی بھوک ہڑتال کو کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔
اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ جو نامی عقوبت خانے میں قید سیاسی قیدیوں کو شدید صعوبتوں کا سامنا ہے اور وہ اپنی رہائی اور ابتدائی انسانی حقوق کے حصول کے لئے ہڑتال کر رہے ہیں۔
بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرین کے حکام پر دباؤ ڈالیں، اور ان ہزاروں بحرینی شہریوں کی حمایت کریں جنہیں ناکردہ گناہوں کا اعتراف کرنے کے لئے ٹارچر کیا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
110