13 جون 2023 - 06:34
ایران میں لیتھیم کے ذخائر دریافت؛ صہیونی ـ امریکی پریشان کیوں ہیں؟

حال ہی میں ایران کے صوبہ ہمدان میں لیتھیم (lithium) کے عظیم ذخائر کی دریافت ہوئے ہیں اور صہیونی اور امریکی حکام ایران کے اس دستیاب سرمائے سے اپنی وحشت اور تشویش چھپا نہیں سکے ہیںی یہاں تک کہ یہ مسئلہ ان کے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخی بنا ہؤا ہے۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، الیکٹرانک اخبار "رأی الیوم" نے "صہیونی ریاست اور امریکہ ایران میں لیتھیم کی دریافت پر تشویش میں کیوں مبتلا ہیں؟" کے عنوان کے تحت اپنے تجزیئے میں لکھا ہے کہ عارضی صہیونی ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اس ریاست کے دوسرے سرغنے شدید خوف و ہراس میں مبتلا ہیں اور یہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی ہیں، البتہ ایران کے بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائلوں ہی کے ذریعے نہیں بلکہ لیتھیم نامی مادے کے ذریعے۔

عالم عرب کے نامی نگاری اخبار نویس اور تجزیہ کار اور اخبار رأی الیوم کے ایڈیٹر انچیف عبدالباری عطوان نے مذکورہ بالا تمہید پر، ایک مضمون کا متن استوار کرکے شائع کیا ہے اور ایران کی ترقی میں لیتھیم نامی معدنیاتی مادے کے کردار اور اس کی دریافت سے صہیونیوں کے خوف و ہراس پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے: ہم یہاں آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز رفتار میزائلوں اور جوہری صنعت میں ایران کی روزافزوں ترقی پر بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ لیتھیم نامی تزویراتی مادے کی بات کر رہے ہیں جو "اس بات کا سبب بن سکتا ہے کہ ایران مغربی ایشیا کے خطے میں اہم ترین اقتصادی اور مالی طاقت بنے، اور اس کی یہ عظیم قوت روس، چین اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ اس کی تعلقات کے فروغ کا سبب بنے"۔

عبدالباری عطوان کے جائزے کے اہم نکات:  

اگر یورپی اتحاد اور دنیا کے دوسرے علاقے، سنہ 2035ع‍ سے ایندھن سے چلنے والی گآڑیوں کی پیداوار بند کرنا چاہیں، اور ان کی جگہ برقی گاڑیاں تیار کرنا چاہیں تو اس کے لئے انہیں ایران کی رضامندی حاصل کرنا ہوگی، تا کہ ایران مہربانی کرکے یہ بنیادی مادہ ان کو فروخت کرے جو ان صنعتوں میں بروئے کار لایا جاتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایران مستقبل قریب میں اس مادے کی پیداوار اور قیمت کو اپنے ہاتھ میں لینے کے لئے لیتھیم دریافت کرنے والے ممالک کا اتحاد قائم کرے؛ جبکہ حالیہ مہینوں میں اس مادے کی قیمت میں زبردست اضافہ ہؤا ہے۔  

چنانچہ اگر ایران کا جوہری اور میزائل پروگرام صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں کی تشویش کا باعث بنا ہے تو اسی لاکھ ٹن لیتھیم کا ذخیرہ، مستقبل قریب میں باعث بنے گا کہ ایران دنیا بھر کی رائج اور اہم صنعتوں میں بنیادی کردار کے طور پر ابھر آئے، کیونکہ یہ مادہ برقی گاڑیوں، بیٹریوں، کمپیوٹر، موبائل فون اور شمسی پینلوں کے پرزوں میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

امریکہ ایرانی شرطیں ماننے پر مجبور 

ایران کے پاس تیل اور گیس کے عظیم ذخائر ہیں اور ان ذخائر کے ساتھ لیتھیم کے ذخائر کی دریافت باعث بنے گا مغربی ایشیا اور مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح کے امیرترین ممالک کے زمرے میں شامل ہو جائے۔ امریکہ ـ جس نے ایران کو اپنے دشمنوں میں سر فہرست قرار دیا ہے ـ تیزی سے پسپا ہو رہا ہے اور جس قدر جلد ممکن ہو، اپنی پالیسیاں تبدیل کرنے، اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے اور ایران پر لگی پابندیاں اٹھانے کے سلسلے میں ایران کی شرطیں تسلیم کے لئے کوشاں ہے۔ صہیونیوں نے واشنگٹن ـ تہران کے درمیان چند مرحلوں میں منعقد ہونے والے مجوزہ سمجھوتے کے حوالے سے جو معلومات عیاں کر دی ہیں، اسی بات کا ثبوت فراہم کر رہی ہیں۔

مارچ 2023ع‍ میں ایران نے لیتھیم کے عظیم ذخائر دریافت کرنے کا اعلان کیا اور ایرانی نشریاتی ادارے IRIB نے اس ملک کے صنعت، معدنیات و تجارت کے نائب وزیر محمد ہادی احمدی نے اعلان کیا کہ "ایران کے شہر ہمدان میں پہلی بار لیتھیم کے عظیم ذخائر دریافت ہوئے ہیں جن  کی مقدار کا تخمینہ 8.5 ملین (85 لاکھ) ٹن ہے۔

 صنعت و معدنیات کی ایرانی وزارت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بھی حال ہی میں کہا ہے: "یہ دنیا میں لیتھیم کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جو جنوبی امریکہ سے باہر [ایران میں] واقع ہؤا ہے؛ اور اب ایران کے پاس لاطینی امریکی ملک چلی کے بعد ـ جس کے پاس 9.2 ملین (92 لاکھ لیتھیم کے ذخائر ہیں ـ دنیا کا دوسرا بڑا ذخیرہ ہے"۔ ارجنٹائن، بولیویا اور چلی کے پاس لیتھیم کے 85 فیصد ذخآئر ہیں۔

اگر ہم یہ کہہ دیں کہ فوجی مصنوعات، میزائل کی تیاری اور ڈرون طیاروں کی تیاری کے بعد، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ امریکہ کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، تو ہماری یہ بات بلاوجہ نہیں ہوگی؛ کیونکہ ایران بہت تیزی سے ایک اہم سیاسی، معاشی اور فوجی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے؛ اور اس معدنی مادے کی دریافت سے عالمی سطح پر اس ملک کی پوزيشن مضبوط ہوگی اور یہ ملک روس، چین اور برکس (BRICS) تنظیم کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دے گا۔

حال ہی میں ایک اسرائیلی تجزیہ نگار نے عبرانی اخبار "معاریو" کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ "لیتھیم کے ذخائر کی یہ مقدار طاقت کے توازن کو ایران کے حق میں بگاڑ دے گی"۔ اس نے غلط نہیں کہا تھا۔ بہرحال یہ ایک حقیقت ہے عرب اور مسلم ممالک ـ بدقسمتی سے ـ تیل کی دولت سے اپنے اہداف و مقاصد کے حصول کی خاطر ہتھیار کے طور پر فائد نہیں اٹھا سکے ہیں؛ لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ناکامی نہیں دہرائی جائے گی۔ تاہم "جو لوگ لیتھیم کے ان ذخائر کے مالک ہیں، اور اس پر کنٹرول رکھتے ہیں، ان کی طرف سے ہم مطمئن ہیں۔ یہ ایرانی راہنما ہی ہیں جو اسرائیل کے دل میں خوف کا طوفان بپا کر سکے ہیں، امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکے ہیں، پابندیوں کو ناکام بنا چکے ہیں؛ انہوں نے پابندیوں سے حاصل ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا کر ملک کو خودکفیل بنایا ہے، میزائل اور جوہری پروگرام کو ترقی دی ہے، اور یوں اپنی قومی سالمیت کی ضمانت فراہم کی ہے؛ ایرانی راہنما محور مقاومت (Axis of Resistance) کے قائد ہیں اور زیادہ تر عرب پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنا سکے ہیں۔ دنیا کے حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور عزت و سربلندی کے دنوں کی آمد آمد ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110