عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، اس وقت جبکہ غاصب صہیونی فوج فلسطینی عوام پر المناک مظالم ڈھا رہی ہے اور نوزائیدہ بچوں تک پر رحم نہیں کرتی، اور اسی اثناء میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے ریاض کے ایک روزہ دورے سے قبل اعلان کیا کہ "اسرائیل کے لئے امریکہ کی حمایت "ٹھوس اور غیر متزلزل" ہے۔
جس بات نے مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہے، یہ ہے کہ ایسے حال میں کہ دنیا فلسط؛ن کے نہتے عوام کے پر غاصب صہیونی ریاست کے جرائم انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ انتھونی بلنکن انتہائی گستاخانہ اور بے شرمانہ انداز سے عربوں کو اسی مجرم ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اور دبے لفظوں میں ان سے کہتا ہے کہ"اے عربو! تمہارے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے جرائم پر آنکھیں بند رکھو، عقل و فکر کو دیوار سے لگا دو، قومی اور مذہبی جذبات کو مٹی تلے دفن کرو، کیونکہ امریکہ کی مرضی یہی ہے!"۔
ادھر صہیونی حکمران فلسطینی بچوں کو قتل کرتی ہے اور ادھر بلنکن سعودی حکومت کو اسلامی مقدسات اور قبلۂ اول کو غصب کرنے والی جعلی صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے ریاض کا دورہ کرتا ہے۔ یہ البتہ الگ بات ہے کہ شواہد بتاتے ہیں کہ امریکی وزیر خارجہ اپنے مشن میں شکست سے دوچار ہؤا ہے، دباؤ ڈالنے، لالچ دلانے اور حتیٰ کہ منت سماجت کرنے کے باوجود، سعودی حکومت سے صہیونی غاصبوں کے حق میں کوئی رعایت نہیں لے سکا ہے اور خالی ہاتھ واشنگٹن واپس چلا گیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ صہیونی ریاست کے تعلقات قائم کرنا امریکیوں کا پرانا خواب ہے گوکہ سعودی قیادت کا حالیہ موقف، جو اس کے ماضی کے موقف کے برعکس، امریکی پالیسیوں سے مکمل طور پر متصادم ہے، لگتا نہیں ہے کہ یہ امریکی خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے حال ہی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک سمجھوتے پر دستخط کئے ہیں، شام کے ساتھ تعلقات بحال کرکے شامی صدر کو عرب لیگ کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی اور ان کا والہانہ استقبال کیا اور اوپک پلس (OPEC+) میں روس کے یکسان موقف اپنایا اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے۔
بالکل واضح ہے کہ وہ زمانہ گذر چکا ہے جب امریکہ دوسروں کو امر و نہی کرتا تھا اور دوسروں کو سننا پڑتا تھا۔ امریکہ کے حلیف دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان کو 20 سال تک قبضے میں رکھا اور اسے تباہ و برباد کیا اور پھر راتوں رات اس ملک سے بھاگ گیا، وہ دیکھ رہے ہیں کہ واشنگٹن نے یورپ میں اپنے حلیفوں کو کس طرح ایک جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا اور انہیں اپنے مفادات کے حصول کے لئے کس طرح روس-یوکرین جنگ میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا؛ اور آج براعظم یورپ کو نامعلوم مستقبل کا سامنا ہے۔
یوکرین کی جنگ سے ثابت ہؤا کہ امریکہ اپنے مفادات اور "اسرائیل" کے مفادات کے سوا، کسی کا اتحادی نہ تھا نہ ہے اور نہ ہوگا؛ بلکہ وہ عربوں کو ترقی اور پیشرفت سے محروم کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا؛ کیونکہ وہ عربوں کی ہر قسم کی چھوٹی بڑی ترقی کو "اسرائیل" کے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور عربوں کے خلاف "داعش" کی تشکیل سمیت مختلف قسم کی امریکی سازشوں کا راز اسی نکتے میں مضمر ہے۔ امریکہ نے "داعش کا ہتھیار" بروئے کار لا کر عرب ممالک کو تباہ اور عرب عوام کو گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور کیا، صرف اس لئے کہ "اسرائیل محفوظ رہے اور وہ خود امن و امان قائم کرنے کے بہانے خطے میں اپنے قدم جما سکے"۔
عرب حکمران عرصے سے امریکہ کے دھوکے میں آئے ہوئے تھے لیکن عرب عوام اس حوالے سے افسوس کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے تھے، لیکن ان تلخ حقائق کی رو سے عرب حکمرانوں کو بھی امریکی کی پناہ میں اپنی بقاء خطرے میں پڑتی ہوئی دکھائی دی، اور انہوں نے امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنا شروع کیا یا یوں کہئے کہ عرب حکومتوں نے امریکہ کے خلاف بغاوت کا راستہ اپنا، اور اپنی حکمرانی، قومی سالمیت، خودمختاری، قومی مفادات اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی خاطر، خطے کے اسلامی ممالک ـ اور ان کی چوٹی پر اسلامی جمہوریہ ایران ـ کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے حوالے سے اپنی ہی حقیقی اعتقاد اور رائے و نظر پر عمل کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ دنیا بدل رہی ہے، یک قطبی نظآم رخصت ہو چکا ہے، اور نئے کثیر قطبی عالمی نظام کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ہر ملک کو اپنی جگہ تلاش کرنا ہوگی؛ اور عرب ممالک بھی فطری طور پر اس نئی دنیا میں اپنی جگہ تلاش کر رہے ہیں، جو امریکہ نامی بڑی طاقت کے زیر تسلط نہیں ہے، ایسی بڑی طاقت جو اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور عنقریب تاریخ کا حصہ بننے والی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110