انھوں ںے ایران اور ہندوستان کے درمیان مشترکہ تہذیب و تمدن اور قدیم تاریخی و ثقافتی اقدار کا ذکر کیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کی آزادی ، دو طرفہ تعاون کی توسیع کا اصلی ذریعہ ہے۔
علی شمخانی نے کہا کہ خاصعلاقائی و عالمی حالات سے، مختلف شعبوں منجملہ توانائی، نقل و حمل، ٹرانزٹ، ٹیکنالوجی اور بینکنگ امور میں ایران و ہندوستان کے درمیان معاملات اور مفاہمت کی تقویت کے لئے حالات سازگار ہوئے ہیں۔
اس ملاقات میں ہندوستان کی قومی سلامتی کے مشیر نے بھی ہندوستان کے عوام کی زندگی میں ایرانی ثقافت کے بڑھتے اثرورسوخ کو، دونوں ملکوں کی قوموں میں پائے جانے والے گہرے بندھن کا آئینہ دار، اور اس بندھن کو علاقے میں مثالی قرار دیا۔
انھوں نے کہا کہ دنیا کے آزاد ممالک کو چاہئے کہ نئے عالمی حالات سے خصوصی آگاہی اور اندرونی توانائی کی تقویت کے ساتھ علاقائی تعاون کی توسیع اور موثر بین الاقوامی کردار ادا کرنے کی کوشش کریں۔ انھوں نے افغانستان میں استحکام میں مدد کے لئے جاری مشترکہ تعاون کو بھی قابل ذکر اہیمت کا حامل قرار دیا۔
واضح رہے کہ ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم اور گروپ بریکس کا ایک اہم رکن ملک ہے اور ان دونوں تنظیموں کے رکن ممالک کے ساتھ ایران کے قریبی تعاون کے پیش نظر ہندوستان کے ساتھ جاری مفاہمت کا عمل، اس سلسلے میں پیش نظر مقاصد کو آگے بڑھانے بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242