9 اپریل 2023 - 22:33
اُنیس رمضان؛ جب جہالت کی تلوار نے عدل کی جبین چیر دی / اگر مسلمان امیرالمؤمنین کو اپنا حکمران مانتے!

سب جانتے تھے کہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) حکم پروردگار کے نفاذ میں لچک نہیں دکھائیں گے، حق پر عمل کے موقع پر اپنے اور پرائے، آپ کے لئے یکسان ہیں؛ وہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو ان ہی اوصاف کے ساتھ جانتے پہچانتے تھے؛ اہل دنیا کے لئے ناقابل برداشت، مادہ پرستوں کے لئے ناقابل قبول۔

عالمی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی - ابنا -

19 رمضان کو جہل کی تلوار نے عدل کی جبین کو چیر ڈالا، اس کو امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو ضربت لگنے کا دن بھی کہتے ہیں۔

19 رمضان کی صبح کو بوقت نماز فجر ایک عظیم المیہ رونما ہؤا؛ یعنی مظہر عدالت کا چہرہ مبارک - عدل و انصاف اور حکم اللہ کے نفاذ کی راہ میں طویل جدوجہد کے نتیجے میں، جہل و عصیبت کے ہاتھوں، - اپنے خون سے رنگین ہؤا۔ "فَلَمَّا أَحَسَّ الإمَامُ بِالضَّرْبِ لَمْ يَتَأوَّهْ؛ جب شمشیر کی ضربت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے سمبارک پر لگی تو آپ نے آہ و نالہ نہیں کیا"؛ "وَصَبَرَ واحْتَسَبَ؛ اور صبر شکیبائی سے کام لیا"؛ "وَوَقَعَ عَلَى وَجْهِهِ؛ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) چہرے کے بل زمین پر گر گئے؛ "قائِلاً بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ؛ بالکل ابا عبداللہ الحسین (علیہ السلام) کی طرح، کہ جب مقتل میں زمین پر آ رہے تو منقول ہے کہ بارگاہ پروردگار میں عرض کیا "بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَفِيُّ سَبِيلِ اَللَّهِ وَعَلى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ"۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) نے اپنا جملہ جاری رکھتے ہوئے فرمایا: "فُزْتُ وَرَبِّ الكَعْبَةِ؛ میں کامیاب ہو گیا رب کعبہ کی قسم"۔

مدینہ کی خواتین سے سیدہ فاطمہ زہراء بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے خطبے - خطبۂ فاطمیہ - کا تعارف

رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شہادت کے کچھ ہی مہینے بعد، اجر رسالت کا حق ادا کرنے والے حکام کے مظالم کی وجہ سے سیدہ بیمار پڑ گئیں تو مدینہ کی خواتین آپ کی عیادت کے لئے آئیں، تو سیدہ نے ان کو ایک خطبہ دیا جس کو خطبہ فاطمیہ یا خطبہ عیادت کا نام دیا جاتا ہے۔ آپ نے اس خطبے میں غصب خلافت پر احتجاج کیا۔ یہ وہ خطبہ ہے جس کے بعد سیدہ نے جام شہادت نوش کیا اور اپنے والد گرامی سید الکونین محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ) سے جا ملیں۔

اس خطبے میں اس وقت کے مدینہ کے حالات حاضرہ اور اسلامی معاشرے کے مستقبل پر روشنی ڈالی گئی ہے اور اس خطبے کو انتہائی فصیح و بلیغ ادبی نمونہ سمجھا جاتا ہے۔

سیدہ نے اس خطبے میں عہد شکنوں اور بیعت شکنوں سے بیزاری کا اعلان کیا، عہد شکنوں کے پیروکاروں کی سرزنش کی، بے وفائی کی تصویر کشی، کئی ذیلی موضوعات کے ضمن میں حالات حاضرہ کی تشریح کی، مسلمانوں کو درپیش ناخوشگوار مستقبل کی پیشن گوئی کی اور حکومت علویہ کی خصوصیات کی وضاحت کی، اہل مدینہ کی فکری کمزوری اور مدنی عوام کے درمیان فکری انتشار کی طرف اشارہ کیا، حکومت کی برائیوں کے مقابلے میں عوام کی ذمہ داریوں کی خاکہ کشی کی، اور سقیفہ [کے ہنگامی اجلاس] کے شرکاء کا اجمالی تعارف کرایا۔

آپ نے سورہ مائدہ کی آیت 80، کا حوالہ دے کر ہویٰ و ہوس کی پیروی کے انجام پر روشنی ڈالی، سورہ اعراف کی آیت 96 اور سورہ زمر کی آیت 51 کی تلاوت کرکے حق کی پیروی نہ کرنے والوں پر ملامت کی، اور سورہ یونس کی آیت 35 کا حوالہ دے کر خلافت و زعامت کے لائق و مستحق افراد کا تعارف کرایا۔

مہاجر و انصار خواتین سے سیدہ بنت الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا خطبہ کئی ذرائع، معصوم راویوں سے بھی اور غیر معصوم راویوں سے بھی، شیعہ اور سنی مصادر حدیث میں منقول ہے۔ اس خطبے کا تذکرہ سیدہ کے حالات زندگی سے متعلق کتب میں بھی آیا ہے اور شارحین نے آپ کے خطبوں کی شرح کے ضمن میں بھی اس کی تشریح کی ہے۔

خطبۂ فاطمیہ کی اہمیت

یہ خطبہ در حقیقت ان مدنی خواتین سے سیدہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کا خطاب ہے جو آپ کی عیادت کے لئے آئی تھیں، جب آپ اس بیماری کے بستر پر تھیں جو آپ کی شہادت پر منتج ہوئی۔ (1) عیادت کے لئے آنے والی مدنی خواتین کی صحیح تعداد کے بارے میں خاص معلومات دستیاب نہیں ہیں (2) لیکن کتاب "بلاغات النساء" (3)، نہج البلاغہ پر ابن ابی الحدید المعتزلی کی شرح (4) میں مذکور ہے کہ مہاجرین و انصار کی کچھ خواتین سیدہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں؛ اور تاریخ یعقوبی میں مذکور ہے کہ کچھ قریشی خواتین سیدہ کی عیادت کے لئے گئی تھیں۔ (5)

عربی ادب کے محققین کہتے ہیں کہ مدنی خواتین کے اجتماع میں سیدہ کا یہ کلام فصاحت، بلاغت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے؛ (6) اور سیدہ چونکہ اپنے جدید التاسیس اسلامی معاشرے پر پورا احاطہ رکھتی تھیں، لہٰذا آپ نے اپنے سننے اور پڑھنے والوں پر اثراندازی کے لئے، متعدد بیانی روشوں - جیسے اعلانی اور توضیحی روش، جذباتی روش اور ترغیبی روش - سے کام لیا ہے۔ (7) مؤرخین نے اس متن کو مدینہ پر حکم فرما مسائل و معاملات اور مختلف فکری اور سماجی دھڑوں کے تئیں سیدہ کی دقیق شناخت اور معلومات کی علامت قرار دیا ہے۔ (8) اس خطبے کا تفصیلی تعارف خطبے کے ترجمے کے ہمراہ الگ سے پیش کیا جائے گا۔ و من اللہ التوفیق

بہر صورت خطبۂ فاطمیہ مدینہ کی خواتین سے سیدہ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے خطاب کا عنوان ہے، جو آپ نے غصب فدک نیز غصب خلافت پر احتجاج کے عنوان سے دیا۔ یہ خطبہ خطبۂ فدکیہ سے مختلف ہے جو سیدہ نے مسجد نبوی میں جاکر انصار اور مہاجرین کے مردوں اور خواتین سے سامنے بیان فرمایا تھا جو توحید، معاد، نبوت و بعثت، عظمت قرآن، فلسفہ احکام اور فلسفۂ ولایت اہل بیت (علیہم السلام) پر مبنی عظیم معارف و تعلیمات کا مجموعہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔

جو کچھ یہاں آپ کے سامنے ہے، مرحوم آیت اللہ محمد تقی مصباح (رحمہ اللہ) کے خطبۂ فاطمیہ پر مبنی سلسلہ وار دروس کا اکتالیسواں حصہ ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) خطبۂ مبارکۂ فاطمیہ کے اس اقتباس میں فرماتی ہیں:

وَمَا الَّذى نَقَمُوا مِنْ أَبى الحَسَنٍ؟! نَقـَمُوا ـ وَاللّه ِ مِنْهُ شِدَّةَ وَطْأَتِهِ وَنَكالَ وَقْعَتِهِ وَنَكيرَ سَيْفِهِ ـ وَقِلَّـةَ مُبالاتِهِ لِحَتْفِهِ ـ وَتَبَحُّرِهِ فى كِتابِ اللّهِ وَتَنَمُّـرِهِ في ذاتِ اللّه وَتَاللهِ لَوْ مَالُوا عَنِ الْمَحَجَّةِ اللَّائِحَةِ وَزَالُوا عَنْ قَبُولِ الْحُجَّةِ الْوَاضِحَةِ لَرَدَّهُم إِلَیْهَا وَ حَمَلَهُمْ عَلَیْهَا وَ لَسَارَ بِهِمْ سَیْراً سُجُحاً لَا یَکْلُمُ حشاشه [خِشَاشُهُ‏] وَلَا یَکِلُّ سَائِرُهُ وَلَا یَمَلُّ رَاکِبُهُ وَلَأَوْرَدَهُمْ مَنْهَلًا نَمِیراً صَافِیاً رَوِیّاً تَطْفَحُ ضَفَّتَاهُ وَ لَا یَتَرَنَّقُ جَانِبَاهُ وَ لَأَصْدَرَهُمْ بِطَاناً، وَنَصَحَ لَهُمْ سِرّاً وَاِعْلاناً وَ لَمْ یَکُنْ یَتَحَلَّی مِنَ الدُّنْیا بِطائِلٍ، وَلا یَحْظی مِنْها بِنائِلٍ، غَیْرَ رَی النَّاهِلِ وَ شَبْعَهِ الْکافِلِ، وَلَبانَ لَهُمُ الزَّاهِدُ مِنَ الرَّاغِبِ وَالصَّادِقُ مِنَ الْکاذِبِ.

مطلوبہ حکمران

سیدہ زہراء (سلام اللہ علیہا) نے اپنی مختصر عمر مبارک کے اواخر میں - حکومت کے ذمہ داروں پر حجت تمام کی اور نتیجہ نہیں حاصل نہیں ہؤا - اس خطبے ذریعے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) سے لوگوں کے انحراف کے اسباب بیان کرنا چاہا۔ اس بات کا سبب سمجھنے کے لئے - کہ لوگوں نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو تنہا کیوں چھوڑا - اس تمہید کا جائزہ لینا چاہیں گے کہ "لوگ اپنے حکمران سے کیا توقع رکھتے ہیں اور لوگوں کے نزدیک مطلوبہ (یا Ideal) حکمران کون ہے، تاکہ سمجھ لیں کہ لوگوں نے مولا امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو کیوں چھوڑا اور دوسروں کی طرف کیوں مائل ہوئے۔

حکومت سے عوامی مطالبات میں سے کچھ عمومی ہوتے ہیں اور یہ ہر قسم کے لوگوں، اور ہر فکر اور عقیدے کے پیروکاروں، کے لئے مطلوبہ مطالبات ہیں۔ ان مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت اس قانون کو صحیح اور مکمل طور پر نافذ کرے، جو انھوں نے قبول کر لیا ہے۔ قانون کے صحیح نفاذ کا لازمہ یہ ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اقدام کرے۔ عوام اپنے حاکم سے توقع رکھتے ہیں کہ اگر کوئی ارادی طور پر قانون سے سرتابی  کرے اور دوسرے کے حق میں ظلم و ستم کا ارتکاب کرے تو وہ ان کا حق ظالم سے چھین لے اور انہیں انصاف دلائے۔ 

حکمران سے دوسرے عوامی مطالبات میں ایک یہ ہے کہ ظاہری اور باطنی طور پر لوگوں کا ہمدرد اور خیرخواہ ہو۔ اور ایک مطالبہ یہ ہے کہ اپنے ذاتی مفاد کے درپے نہ ہو اور سنجیدگی کے ساتھ معاشرے کے مفادات کی تکمیل اور ان کی خدمت کرنے کے پر یقین رکھتا ہو، نہ یہ اپنی تھیلی سینے اور تمام تر فوائد اور مراعاتیں اپنے لئے جمع کرنے پر تلا ہؤا ہو۔

یہ وہ مطالبات ہیں جو ہر معاشرے کے عوام اپنی حکومتوں سے کرتے ہیں۔ اگر کوئی حکمران ان خصوصیات کا حامل ہو تو وہ انسانی معاشروں کے ہاں پسندیدہ حکمران ہے۔ اسلامی معاشروں میں ایک توقع کا اضافہ ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حکمران / حکومت اسلامی اقدار کا پاس رکھے، اور معاشرے میں اسلامی اقدار کے نفاذ کے لئے کوشاں ہو۔ یعنی ایسا ماحول بنائے کہ لوگ صحیح معنوں میں خدا پرستی کی راہ پر گامزن ہوں اور بدعتوں، فکری آفتوں اور اعتقادی انحرافات سے دوچار نہ ہوں۔ چنانچہ اگر کوئی حکمران عملی میدان میں مسامحت (تغافل اور چشم پوشی) کا عادی ہو اور بہت سے مسائل کو سنجیدہ نہ لے، تو اس صورت میں عوام دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں: ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا ہے، لوگوں کے حقوق کو پامال کیا ہے، اور جب وہ دیکھتے ہیں کہ [حاکم کی طرف سے] ان کے خلاف کوئی سنجیدہ اقدام نہیں ہو رہا ہے، تو وہ خوش ہوتے ہیں، ایسے حکمران سے یہ لوگ راضی اور خوشنود ہوتے ہیں۔ لیکن دوسرے لوگ کہ ان پر ظلم ہؤا ہے اور ان کے حقوق کو پامال کیا گیا ہے، تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں۔

جب ارباب اقتدار اور سرمایہ داروں کے مفادات کی تکمیل ہوتی ہے، تو وہ دوسروں کو دھوکے اور فریب کے ذریعے مصروف کر دیتے ہیں اس طرح کہ وہ ان کے سامنے کھڑے نہ ہوں اور مزاحمت نہ کریں۔ یہ وہ روشیں ہیں جو دنیا کے تمام علاقوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ شاید اس دنیا میں کوئی بھی ملک ایسا نہ ہو جس میں ان شیطانی ہتکھنڈوں کو بروئے کار نہ لایا جاتا ہو؛ کیونکہ تمام ممالک میں خواص اور ممتاز افراد کا ایک گروہ ضرور ہوتا ہے جو حاکم کی حاشیہ برداری کرتے ہیں، اسے گھیر لیتے ہیں اور حاکم کو بھی ان افراد کی مالی امداد اور معاشرتی اثر و رسوخ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چنانچہ ان افراد کا ہاتھ بیت المال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے لئے کھلا ہوتا ہے اور یہ لوگ عوام کی طرف کے احتجاج اور بے چینی کو روکنے کے لئے، انہیں ہر روش سے مصروف کر دیتے ہیں۔ یہ وہ کام ہے جو بہت سے ممالک میں رائج اور معمول ہے، لیکن اسلام اس قسم کی حالت پر راضی نہیں ہے۔

حکومت علوی حکومت اسلامی کے لئے مثالی حیثیت رکھتی ہے

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) حکومت اسلامی کا مظہر تامّ ہے۔ اگر ہمارے پاس حکومت علوی نہ ہوتی تو ملکی انتظام و انصرام کے پاس ہمارے پاس کیا نمونہ (Model) ہوتا؟ فرانس میں نامہ نگاروں نے امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے سے پوچھا کہ "اگر آپ جدوجہد میں کامیاب ہو جائیں اور شاہ کو نکال باہر کرنے میں کامیاب ہوں، تو کس قسم کی حکومت قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟" تو آپ نے فرمایا: "علی علیہ السلام کی طرح کی حکومت"۔

اس حکومت کو دوست اور دشمن، سب جانتے ہیں اور دنیا بھر میں لوگ عدل علوی کو پہچانتے ہیں؛ یہ ایک مثالی حکومت ہے اور ایک نمونہ ہے جس کی پورے نوع انسان میں مثال نہیں ملتی۔ اسلام کی نگاہ میں "حقیقی عادل حاکم" وہ ہے جو خلاف ورزی اور قانون شکنی کرنے والوں کے ساتھ فیصلہ کن انداز اور سنجیدگی سے نمٹ لے اور سازش کرنے والا، مسامحت اور تغافل و چشم پوشی، قبائلیت، قومیت، جماعتی مفادات کو ترجیح دینے والا نہ ہو، اور ہر جگہ حق پر عمل کرے اور حق کو نافذ کرے۔

یہ ایک مثالی (Ideal) اسلامی حکومت کی مثال ہے۔ لوگوں نے علی کو پہنچانا تھا؛ وہ 23 سال کے عرصے تک آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے ہمراہ، دیکھتے رہے تھے اور آپ کے سلوک کو آزما چکے تھے۔ سب جانتے تھے کہ علی (علیہ السلام) حق اور حکم اللہ کے نفاذ کے حوالے سے لچک نہیں دکھاتے ہیں؛ اور نفاذ حق کے وقت اعزہ و اقرباء اور پرایوں کے درمیان فرق کے قائل نہیں ہوتے تھے اور سب آپ کے لئے برابر ہیں۔ لوگوں نے علی ‏(علیہ السلام) کو ان اوصاف و خصوصیات کی رو سے پہچان لیا تھا اور وہ جانتے تھے کہ انہیں بہکا نہیں سکیں گے اور ان ان کے وجود سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔

امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کا عیب آپ کی اچھائیاں ہیں

سیدہ زہراء (سلام اللہ علیہا) خطبے کی اس عبارت میں فرماتی ہیں: " عام لوگوں کے علی (علیہ السلام) کی حمایت نہ کرنے کی وجہ آپ کی خوبیاں تھیں ورنہ تو آپ کی ذات میں کسی قسم کا عیب تلاش کرنا ممکن نہیں ہے"۔

 کون اسلام کو علی (علیہ السلام) سے بہتر پہچانتا تھا؟ سب جانتے تھے کہ علی (علیہ السلام) یتیم کے آنسؤوں کو برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ کس طرح کاریزیں اور نخلستانوں کو آباد کرتے تھے اور ان سے خود کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے تھے اور انہوں نے بارہا دیکھا تھا کہ آپ خود اور آپ کے اہل خانہ راتوں کو کچھ کھائے بغیر سو جاتے تھے، اور گھر میں دستیاب مختصر سی غذا دوسروں کو کھلا دیتے تھے۔

کہا جا سکتا ہے کہ یہ صفات بہت اچھی ہیں، اور جس قوم کا حکمران ایسا ہو، یقینا لوگ اسے چاہیں گے، اور اس کی پیروی کریں گے تو پھر انہوں نے علی (علیہ السلام) کو ترک کر دیا؟

جی ہاں! لوگ علی (علیہ السلام) کو اچھی طرح جانتے تھے، لیکن معاشرے کے خواص اور مراعات یافتہ لوگ چاہتے تھے کہ علی (علیہ السلام) ان کے لئے اپنی حکومت میں الگ کھاتہ کھول دیں، جبکہ علی (علیہ السلام) ایسے نہیں تھے، وہ وہی تھے کہ جب ان کے نادار بھائی نے بیت المال سے زیادہ بڑا حصہ مانگا تو آپ نے دہکتا لوہا ان کے جسم کے قریب کردیا اور انہیں اللہ کے شدید عذاب کی یاد دہانی کرائی۔ چنانچہ انہوں نے دیکھا کہ علی (علیہ السلام) کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا انھوں نے علی (علیہ السلام) کی تمام نیکیوں، خوبیوں اور صلاحیتوں کو نظرانداز کیا اور ایسے لوگوں کے ساتھ عہد باندھا جو ان کے لئے خصوصی کھاتہ کھول سکتے تھے۔

سیدہ زہراء (سلام اللہ علیہا) فرماتی ہیں: "وَمَا الَّذى نَقَمُوا مِنْ أَبى الحَسَنٍ؟! کس چیز کو عیب سمجھا انہوں نے علی (علیہ السلام) پر [اور کس چیز کا بدلہ لیا انہوں نے ابوالحسن (علیہ السلام) سے] یا کیا مسئلہ تھا علی (علیہ السلام) میں جس کی وجہ سے انہوں نے آپ کو ترک کردیا۔ (سیدہ زہراء [سلام اللہ علیہا] اپنے خطبے میں امیرالمؤمنین [علیہ السلام] کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کنیت کے ذریعے آپ کا تذکرہ کیا ہے)۔

اور پھر فرمایا: "نَقَمُوا وَاللهِ مِنْهُ نَكيرَ سَيْفِهِ، وَقِلَّةَ مُبالاتِهِ لِحَتْفِهِ، ان کا اعتراض علی (علیہ السلام) پر یہ تھا کہ جنگ کے دوران کوئی بھی آپ کے سامنے جم نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ جہاں آپ کو شمشیر سے استفادہ کرنا پڑتا تھا، وہاں مارے جانے کے خطرے سے خائف نہیں ہوتے ہیں؛ "وَشِدَّةَ وَطْأَتِهِ" جہاں علی (علیہ السلام) قدم رکھتے تھے، نہایت محکم و استوار قدم رکھتے تھے، اور اس میں مسامحت نہیں ہوتی تھی۔ "وَنَکالَ وَقْعَتِهِ" جہاں آپ کسی کو سزا دینا چاہتے ہیں وہاں آپ کا وار انتہائی شدید اور عبرت آموز ہے۔

"وَتَنَمُّرَهُ فِی ذاتِ اللهِ" یہ عبارت، ایک انتہائی لطیف و ظریف ادبی عبارت ہے، جس کا فارسی [اور اردو وغیرہ] میں مشابہ نمونہ نہیں پایا جاتا۔ "تَنَمُّر" "نمر" سے مشتق ہے۔ نمر یعنی چیتا۔ عربوں کے ہاں، درندوں میں چیتا ایک خاص صفت کا حامل ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت غضبناک اور جنگ کے لئے ہر دم تیار ہے۔ اس حالت کو - کہ انسان ہر وقت جنگ و قتال کے لئے تیار ہو، اور کوئی اس کو غیرمتوقعہ طور پر حملے کا نشانہ نہیں بنا سکتا، اس کیفیت کو "تَنَمُّر" کہا جاتا ہے۔

"تَنَمُّرُهُ فِی ذاتِ اللهِ" یعنی جس وقت کوئی مسئلہ اللہ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے، علی (علیہ السلام) بالکل تیار ہیں اور الٰہی فرائض کو فیصلہ کن انداز سے نافذ کرتے ہیں اور اس راہ میں کوئی نرمی برتنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ یہ "وہ عیب تھا" جو لوگ علی (علیہ السلام) کے لئے شمار کرتے تھے! یہ لوگوں کے لئے قابل برداشت نہیں تھا۔ جس وقت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کسی مشن کے کمانڈر ہوتے تھے، واپسی پر کچھ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے پاس پہنچتے تھے اور آپ کی قطعیت (Decisiveness) اور سختگیری کی شکایت کرتے تھے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرمایا کرتے تھے: "ارْفَعُوا أَلْسِنَتَکُمْ مِنْ شِکَایَةِ عَلِیٍّ فَإِنَّهُ خَشِنٌ فِی ذَاتِ اللَّه؛ اپنی زبانیں علی کی شکایت سے ہٹا دو، کیونکہ وہ اللہ کے کاموں میں سختگیر ہیں" اور کوئی نرمش نہيں دکھاتے۔ اگر صرف اپنے ذاتی حقوق کی بات ہوتی تو وہ ہر چیز سے گذر جاتے تھے لیکن جہاں عوامی حقوق اور حکم اللہ کی بات ہوتی تھی، ذرہ برابر بھی رعایت نہیں دیتے تھے۔

سیرت علویہ انسانی سعادت کا واحد راستہ

"وَتَاللهِ لَوْ مالُوا عَنِ الْمَحَجَّةِ اللاّئِحَةِ وَزالُوا عَنْ قَبُولِ الْحُجَّةِ الْواضِحَةِ لَرَدَّهُمْ اِلَیْها وَحَمَلَهُمْ عَلَیْها؛ اور خدا کی قسم! اگر معاشرے میں انحراف اور گمراہی اٹھ جاتی اور لوگ ٹیڑھے راستے پر گامزن ہوتے، تو آپ انہیں سیدھے راستے کی طرف لوٹا دیتے اور لوگوں کو گمراہ نہ ہونے دیتے"۔

کسی بھی معاشرے میں چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے، ٹیڑھے افکار اور کج رویاں پیش آ سکتی ہیں، چنانچہ یہ اسلامی معاشرے کے حاکم کے لئے ایک بڑی فضیلت ہے کہ کہ وہ معاشرے کو غلط راستوں پر گامزن نہ ہونے دے اور انہیں گمراہی سے بچائے رکھے۔

"وَلَسارَ بِهِمْ سَیْراً سُجُحاً؛ [جی ہاں! اگر خلافت کی باگ ڈور علی (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ہوتی تو] جادۂ حق سے منحرف والوں کو نرمی اور شائستگی سے منزل مقصود کی طرف جانے والے راستے پر گامزن کر دیتے"۔

اس زمانے میں اونٹ سفر کے لئے مناسب سواری سمجھا جاتا ہے، اور عرب دور افتادہ علاقوں تک سفر کے لئے اونٹ سے استفادہ کرتے تھے۔ سفر میں جب ایک قافلہ روانہ ہو جاتا تھا تو ساربان Cameleer) اونٹوں کا انتظام سنبھالتا تھا اور کوشش کرتا تھا کہ اونٹ اپنے سواروں کو نہ ستائیں۔

جہاں انہیں تیز رفتاری سے سفر کرنا پڑتا، ساربان اونٹوں کو تیزی سے ہانکتا تھا اور جہاں آہستہ سفر کرنا پڑتا، ان کی رفتار کو کم کر دیتا تھا۔ سیدہ زہراء بنت الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) فرماتی ہیں کہ اگر زمام حکومت امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے ہاتھ میں ہوتی تو آپ معاشرے کے اونٹ کو اس طرح [نرمی] سے چلاتے کہ لوگ نہ پیچھے رہیں اور نہ ہی دکھ اور تھکاوٹ کا شکار ہوں، اور خوش اسلوبی سے منزل مقصود تک پہنچیں۔ "سیر سجح" یعنی اونٹ کی وہ چال بہت نرم اور ملائم ہے اور اس کا سوار آسودہ رہتا ہے [نہ سواری تھک کر بے بس ہوجاتی ہے اور نہ سوار تھکتا اور ملول ہوتا ہے]۔

"لَا یَکْلُمُ خُشاشُهُ"؛ اونٹ کو قابو میں رکھنے کے لئے اس کی ناک میں ایک نکیل ڈالا کرتے تھے جو بہت اہم کردار رکھتا تھا۔ اونٹ سوار اس کے ذریعے، اونٹ کی سمت اور چال کی کیفیت کا اشارہ دیتا تھا، کچھ لوگ اونٹ پر سوار ہو کر نکیل کو اس طرح سے کھینچ لیتے تھے کہ اس کی ناک زخمی ہو جاتی تھی؛ یا اس طرح سے اپنا پاؤں اونٹ کے بغل پر مارتے تھے کہ ان کے ران زخمی ہو جاتے تھے، خاص طور پر جب سفر طویل ہوتا تھا اور انہیں مسلسل پاؤں اونٹ کے بغل پر مارنا پڑتا تھا۔

سیدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) فرماتی ہیں کہ اگر لوگ خلافت کا اونٹ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے سپرد کرتے تو آپ انہیں بہت امن و سکون سے منزل مقصود تک پہنچاتے، یوں کہ نہ اونٹ کو تکلیف ہوتی اور نہ اس کے سواروں کو۔ فرماتی ہیں: " وَلَا یَکِلُّ سَائِرُهُ وَلَا یَمَلُّ رَاکِبُهُ؛ اس طرح سے قافلے کو آگے بڑھاتے کہ لوگ نہ قافلے سے پیچھے رہتے اور نہ اس اونٹ کے سوار تھکے ماندہ ہوتے۔

"وَلَأَوْرَدَهُمْ مَنْهَلًا نَمِیراً صَافِیاً رَوِیّاً تَطْفَحُ ضَفَّتَاهُ وَلَا یَتَرَنَّقُ جَانِبَاهُ وَلَأَصْدَرَهُمْ بِطَاناً؛ اور آخرکار لوگوں کو صاف اور خوشگوار پانی کے سرچشمے پر پہنچا دیتے، ایسی نہر پر جس کے دونوں اطراف پانی سے مالامال ہوتے، ایسا پانی جو کبھی گدلا نہ ہوتا، اور انہیں مکمل طور پر سیراب کرکے واپس لاتے"۔ عربوں کے لئے، اس گرم اور ریگستانی ماحول میں، پانی کے سرچشمے - یا کنویں یا ندی وغیرہ - کی اہمیت ناقابل انکار تھی۔ کیونکہ بادیہ نشین انسان، لق و دق صحراؤں میں رہائش پذیر تھے اور ہر قبیلے کے مسکن کے قریب پانی کا ایک تالاب یا حوض ہوتا تھا جس میں بارش کا پانی جمع ہوتا تھا اور قبیلے کے لئے اسی سے استفادہ کرتے تھے۔

سیدہ فرماتی ہیں: اگر علی (علیہ السلام) مسلمین کی زمام حکومت سنبھالتے تو لوگوں کا انتظام و انصرام اس انداز سے انجام دیتے کہ وہ بر وقت چشمے تک پہنچتے، اور لوگوں کو آلودہ چشمے کی طرف نہ لے جاتے، بلکہ مسلسل پھوٹتے ہوئے پانے والے چشمے پر لے جاتے، اور اس کے دو اطراف کی طرف پانی جاری ہوتا اور اس اس چشمے کا پانی ہمیشہ صاف اور خوشگوار ہوتا، اور پورے قافلے کو سیراب کرتا۔ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اس انداز سے اس قافلے کی ہدایت کا کام سرانجام دیتے کہ کوئی بھی پیاسا نہ رہتا۔

"وَنَصَحَ لَهُمْ سِرّاً وَإِعْلاناً؛ اور بالآخر لوگ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو خفیہ اور اعلانیہ، اپنا خیرخواہ پاتے"۔

ہم نے کہا کہ مطلوبہ حکمران وہ ہے جو حقیقتا لوگوں کا ہمدرد ہو اور خفیہ اور اعلانیہ، لوگوں کی خدمت کے لئے کوشاں ہو۔ "وَلَمْ یَکُنْ یَتَحَلّی مِنَ الدُّنْیا بِطائِلٍ؛ [اگر خلافت رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی وصیت و اعلان کے مطابق امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے سپرد کی جاتی] اپنے لئے کچھ بھی مال و دولت جمع نہ کرتے"۔

سیدہ زہراء (سلام اللہ علیہا) فرماتی ہیں: [اگر لوگ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو اپنا خلیفہ مانتے تو آپ اپنے لئے کوئی اضافی شیئے اور دنیا کا زر و زیور جمع نہ کرتے "وَلَا یَحْظي مِنْها بِنائِلٍ؛ غَیْرَ رَی النَّاهِلِ وَ شَبْعَهِ الْكَافِلِ؛ معاشرے کے اموال کو ذاتی مفاد میں بروئے کار نہ لاتے، سوا مختصر سے پانی کے جو آپ کی پیاس بجھا دیتا اور مختصر سے کھانے کے جو آپ کی بھوک مٹا دیتا۔ "وَلَبانَ لَهُمُ الزَّاهِدُ مِنَ الرَّاغِبِ وَالصَّادِقُ مِنَ الْكَاذِبِ؛  اور اُس وقت لوگوں پر آشکار ہوتا کہ زاہد اور تارک دنیا کون ہے اور دنیا پرست کون ہے، اور سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے [کس کا دعویٰ سچا ہے اور کس کا دعویٰ جھوٹا]"۔

 سیدہ بنت الرسول (صلی اللہ علیہ و آلہ) شاہد کے طور پر ارشاد ربانی سے استناد کرتی ہیں جہاں ارشاد ہوتا ہے: "وَلَوۡ أَنَّ أَهۡلَ ٱلۡقُرَىٰٓ ءَامَنُواْ وَٱتَّقَوۡاْ لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِم بَرَكَٰتٖ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ وَلَٰكِن كَذَّبُواْ فَأَخَذۡنَٰهُم بِمَا كَانُواْ يَكۡسِبُونَ؛ اور اگر ان بستیوں اور شہروں کے باشندے [معاشرے کے لوگ] ایمان لاتے اور پرہیزگاری کا سامان کرتے [صحیح عقائد کے اپناتے اور اقدار کا لحاظ رکھتے] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی طرف سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے [ایمان لانے کے بجائے] جھٹلایا تو ہم نے ان کو [ان کے اپنے اعمال کے بدلے میں] اپنی گرفت میں لے لیا ان اعمال کی بدولت جو وہ کرتے تھے"۔ (سورہ اعراف، آیت 96)۔

خدائے متعال کا ارشاد ہے "اگر معاشرہ تقویٰ اپنا لیتا"، یعنی اس سنت الٰہیہ کا تعلق فرد سے نہیں بلکہ معاشرے سے ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایک معاشرے میں چند افراد نیک بھی ہوں لیکن اگر معاشرہ برا اور فاسد بن جائے، تو اللہ اس کے ضرور سزا دیتا ہے۔ "وَالَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ هَٰؤُلَاءِ سَيُصِيبُهُمْ سَيِّئَاتُ مَا كَسَبُوا وَمَا هُم بِمُعْجِزِينَ؛ اور ان میں سے جو ظالم ہیں، انہیں بھی پہنچیں گی برائیاں اس کی جو انھوں نے کیا ہے اور یہ بے بس کرنے والے نہیں ہیں [اور عذاب سے بھاگنے پر قادر نہیں ہیں]"۔ (سورہ زمر، آیات 51)۔

بہت عمدہ کلام ہے، سیدہ نے اول الذکر آیت کو قاعدہ کلیہ اور "کبریٰ" پر پیش کیا اور اب اسم اشارہ "هَٰؤُلَاءِ" کے ذریعے اپنے معاشرے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یعنی اگر لوگ ظلم و ستم والے ہوں، تو انہیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنا ہوگی، اور وہ خدا کو عاجز و بے بس نہیں کر سکتے اور اسے اپنی سنتوں سے دستبردار ہونے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ اس آیت کی طرف اشارہ بھی بہت سبق آموز ہے، اور ایک قسم کی پیشن گوئی بھی ہے؛ یعنی اس آیت کریمہ کی رو سے، اس معاشرے کے افراد اللہ کی حکم عدولی اور اس کے احکام کو نظر انداز کرنے اور [غدیر میں کی ہوئی] بیعت توڑے کی وجہ سے ضرور بضرور اللہ کی طرف کی عقوبت و سزا میں مبتلا ہونگے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ احمد بن علی طبرسی، الاحتجاج، ط 1402ھ، ج1، ص108۔

2۔ شہین خشاوی، زندگانی سیاسی حضرت فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا)، مطبوعہ 1378ھ ش

3۔ احمد بن طیفور بن قاسم مروزی (المعروف بہ ابن طیفور)، بلاغات النساء، ص19۔

4۔ ابن ابی الحدید معتزلی، شرح نہج البلاغہ، ج16، ص223۔

5۔ یعقوبی، احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، طبع بیروت، ج2، ص115۔

6۔ علیرضا کرمی، سیرہ و سیمای ریحانۂ پیامبر، طبع 1380ھ ش، ص734۔

7۔ محترمہ محبوبه خزاعی و معاونین، "تحلیل خطبۂ عیادت بر پایۂ نظریۂ کُنِشِ گُفتاری"، ص7-8.

 8۔ محترمہ فتحیہ فتاحی زادہ، محمد رضا رسولی راوندی، "اسناد و شروح خطبہ ہائے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا"، ص17۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110