عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق، تنظیم "جمہوریت عرب دنیا کے لئے، اب ہی" (DAWN) نامی ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی حکمرانوں نے 10 قاضیوں کو "ملک دشمنی" اور خیانۃ العظمی (یعنی [ملک کے ساتھ] عظیم ترین غداری" کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے اور ان الزامات کی سزا موت ہے۔ یہ ایسا الزام ہے جس کی سزا موت ہے۔ ان گرفتاریوں کا حکم ولی عہد محمد بن سلمان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے منصوبے کے سلسلے کے ایک قدم کے طور پر، دیا ہے۔ سعودی اٹارنی جنرل نے ان کے لئے عدالت سے سزائے موت کی استدعا کی ہے۔
ادھر منطقۃ القطیف سے سعودی بادشاہت کے ایک مخالف راہنما شیخ حسن صالح نے العالم نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ ان سعودی ججون نے سینکڑوں شیعہ نوجوانوں سمیت ہزاروں افراد کو صرف سعودی بادشاہ کی خوشنودی کے لئے، موت کی سزائیں دلوائیں لیکن جب بن سلمان نے ان کو وہابی باشندوں کو سزائے موت دینے کی ہدایت کی تو انہوں نے انکار کیا اور بن سلمان کے غضب کا نشانہ بن کر اس حدیث شریف کا مصداق ٹہرے کہ "مَن أعانَ ظالِما سَلَّطَهُ اللّه ُ علَيهِ؛ جس نے ظالم کی مدد کی خدا اس کو اس پر مسلط کرتا ہے"۔ (کنز العمال)
شیخ صالح کا کہنا تھا کہ "سعودی ولی عہد واحد شخص ہے جو سعودی عملداری کے تمام مسائل - بالخصوص دینی امور سے متعلق مسائل - میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور جس وقت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے وہابی ادارے نے سب سب کو تنگ کر دیا تو محمد بن سلمان نے اس کو فحاشی اور گناہوں کے مرکز میں بدل دیا اور سب کچھ اس ملک میں مجاز قرار دیا گیا"۔
انھوں نے کہا: "جن قاضیوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور سعودی اٹارنی حنرل نے ان کے لئے عدالت سے سزائے موت کی استدعا کی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کو گرفتار کروا کر تشدد اور تعذیب کے ذریعے ایسے اعترافات پر مجبور کرتے تھے جن پر انھوں نے ملزموں سے دستخط کروائے ہوتے تھے، اور انکار کی صورت میں انہیں مزید تشدد کا نشانہ بناتے تھے یہاں تک کہ وہ مجبور ہوجاتے تھے کہ ایسے الزامات کو اپنے ذمے لے لیں جن کا ان سے تعلق ہی نہیں ہوتا تھا؛ اور ان قاضیوں کے ہاتھ ہزاروں بے گناہوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں"۔
سعودی عرب میں بن سلمان کے وفادار ججوں کی گرفتاری کی مہم کے بارے میں دلچسپ تفصیل:
واضح رہے کہ "ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناو" (DAWN) نے انکشاف کیا ہے کہ ریاض میں خصوصی فوجداری عدالت، - جو سعودی عرب میں "دہشت گردی" کے مقدمات نمٹاتی ہے - نے ان ججوں کے سلسلے میں مورخہ 16 فروری 2023ع کو اپنی پہلی سماعت میں ہی ان میں سے چھ مشہور سابق ججوں پر "بڑی غداری" کا الزام عائد کیا ہے اور چار سابق ججوں کا کیس عدالیت عالیہ میں ہے۔ سعودی عرب میں یہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں انہیں موت کی سزا دی جائے گی۔
مذکورہ ادارے نے کہا ہے کہ سعودی حکومت نے ملزموں پر قانونی صلاح مشورے اور وکلاء کی خدمات حاصل کرنے پر پابندی لگائی ہے اور انہیں گرفتاری کے دن (11 اپریل 2022ع) سے اب تک بیرونی دنیا سے الگ تھلگ رکھا ہے۔
ان ججوں میں خصوصی فوجداری عدالت کے المفرح آل جندب، ناصر بن سعود الحربی، عبدالعزیز بن مداوی آل جابر، خالد بن عویض القحطانی اور فہد بن عبداللہ الصغیر، نیز عدالت عالیہ کے عبدالعزیز بن فہد آلداؤد، طلال بن عبداللہ الحمیدان، محمد بن مسفر الغامدی، محمد بن عبداللہ العمری، عبداللہ خالد اللحیدان شامل ہیں۔
ڈان (DAWN) کے ایک اہلکار عبداللہ العودہ نے کہا ہے کہ یہ وہ جج ہیں جنہوں نے سعودی ولی عہد کے حکم پر سعودی شہریوں کے خلاف انتہائی من مانی اقدامات کئے ہیں اور مرضی کی سزائیں سناتے رہے ہیں؛ اس کے باوجود ان پر لگائے گئے خوفناک الزامات، سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی ولی عہد کے شر سے محفوظ نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا: "ان ججوں پر چلایا جانے والا مقدمہ ملک کے اندر ولی عہد کی طرف سے کئے گئے بڑے پیمانے پر صفائی اور مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے عمل اور عدلیہ کو صرف اپنی خواہشات کے تابع بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
ایک مقدمے سے آگاہ ذریعے کے مطابق، لگتا ہے کہ ان قاضیوں پر لگائے الزامات کے پیچھے سیاسی محرکات تھے، ورنہ تو ملزموں کے خلاف کوئی معتبر ثبوت نہیں تھا۔
انھوں نے کہا: میں نے ملزموں کے خلاف دائر عدالتی دستاویزات کا جائزہ لیا، جس سے یہ انکشاف ہوا کہ خصوصی فوجداری عدالت کے ججوں پر یہ الزامات پبلک پراسیکیوشن آفس کے ریاستی سلامتی کے محکمے کے اہلکاروں نے عائد کئے ہیں۔ یہ الزامات اس کے بعد عائد کئے گئے جب گرفتار ججوں نے اعترافی بیانات پر دستخط کئے اور تسلیم کیا کہ انھوں نے ججوں کی حیثیت سے ریاستی سلامتی کے مقدمات کے ملزموں کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ انداز سے "نرمی" روا رکھی تھی۔ اور انہیں جرم کے تناسب سے سزا نہیں دی تھی۔
اس آگاہ ذریعے نے زور دے کر کہا کہ عدالتی دستاویزات اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ ان ججوں کے اعترافی بیانات کو ہی الزامات کا ثبوت قرار اور انسانی حقوق کے مدافعین، پرامن محالفین اور حقوق نسوان کے حامیوں کے خلاف مقدموں میں ان ججوں کے جاری کردہ فیصلوں کو "نرمی" (اور مسامحت) کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔
گرفتار جج بھی بذات خود سعودی سرکار کی مرضی کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی میں کردار ادا کرتے رہے ہیں، بطور مثال، ڈان تنظیم (DAWN) نے اس سے قبل سعودی عرب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں خصوصی فوجداری عدالت کے ان دو ججوں عبداللہ بن خالد آل للحیدان اور عبدالعزیز بن مداوی الجابر کے براہ راست کردار کا انکشاف کیا تھا۔
اللحیدان نے دسمبر 2020 میں حقوق نسوان کی کارکن لُجین الہذلول کو دہشت گردی کے الزامات میں مجرم قرار دیا تھا، جب کہ الجابر نے ایک نابالغ لڑکے اور کئی دیگر افراد کو موت کی سزا سنائی تھی، جن میں سے کئی افراد کے سر مارچ 2022 میں 81 افراد کی اجتماعی پھانسی کے وقت قلم کر دیئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ مذکورہ جج صاحبان محمد بن سلمان کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔
بہرصورت، اب اللہ کو بھول کر اپنے سعودی آقاؤں کی خاطر سینکڑوں بے گناہ افراد کو موت کی سزا سنانے والوں کو خود بھی ان ہی آقاؤں کے حکم پر، سزائے موت کا انتظار ہے۔
مکافات عمل سے غفلت نہ برتو
گندم گندم سے اگتی ہے اور جو جو سے
..........
ترتیب و ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
..........
110