انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ رابطے برقرار ہیں اور ایجنسی کے وفود بھی تہران آئے تھے اور تمام مسائل حل کرلئے گئے ہیں - انہوں نے کہا کہ جن باتوں کو مشکوک بناکر پیش کیا گیا تھا درحقیقت ان کی اتنی اہمیت ہی نہیں تھی کہ ماہرین کی سطح پر ان کا جائزہ لیا جاتا - انہوں نے کہا کہ انہی الزامات کی ہی وجہ سے ایٹمی معاہدہ طے پایا تھا اور پچھلے بیس برسوں سے اسی طرح کے بے بنیاد الزامات عائد کئےجارہے ہیں ۔
ایران کے محکمہ ایٹمی توانائی کے سربراہ نے آئی اے ای اے کے سربراہ کے آئندہ دورہ تہران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرسکتا ہے لیکن ہم معمول سے ہٹ کر کسی بھی بات کو خواہ وہ سیاسی ہو یا پھر دباؤ کی شکل میں قبول نہیں کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242