8 ستمبر 2022 - 07:46
آیت اللہ رمضانی: شیعہ معاشروں کے بحرانوں سے گذرنے کے لئے عقلیت، انصاف اور انسانی وقار کی ضرورت ہے

آیت اللہ رمضانی نے "عقلیت، عدالت و کرامت" کے عنوان سے منعقدہ، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ساتویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اجلاس کا یہ عنوان خطے اور دنیا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر چنا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی -ابنا- کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ رضا رمضانی نے جمعرات، یکم ستمبر 2022ع‍ کو، اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے ساتویں اجلاس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: یہ اسمبلی مرجع عالی قدر آیت اللہ العظمی امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی قیادت میں بپا ہونے والے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ثمرات میں سے ایک ہے جس کا قیام عالم تشیّع کے علماء و مفکرین کی تجویز اور اسلامی انقلاب کے رہبر معظم امام خامنہ ای (دام ظلہ العالی) کی منظوری سے، عمل میں لایا گیا۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے اپنی 32 سالہ تاریخ میں قابل قدر کارنامے سرانجام دیئے ہیں، اور اس سلسلے میں، میں سابقہ سیکریٹری جنرلوں، شورائے عالی اور جنرل اسمبلی کے اراکین کی کاوشوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انھوں نے کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کا نیا دور، انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے ہدایت اور مطالبات کے مطابق، پیروان اہل بیت(ع) کی اس عالمی تنظیم کے نقطہ نظر، ڈھانچے، طور طریقوں اور کارکردگی میں تبدیلی کا دور ہے۔

انھوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جنرل اسمبلی کا ساتواں اجلاس بدقسمتی سے ذمہ دار حکام کے اعلان کردہ موثر پروٹوکولز کے مطابق منحوس کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے تین سال کی تاخیر سے منعقد ہؤا۔

انھوں نے کہا: اجلاس کے انعقاد کے دفتر میں میرے رفقائے کار کی کئی مہینوں سے جاری کوششوں کے نتیجے میں جنرل اسمبلی کے اراکین کو مدعو کرکے، خوش قسمتی سے، آج کے ان حالات میں، 117 ممالک سے کثیر تعداد میں اراکین شرکت کی ہے۔

انھوں نے مزید کہا: دوسرے مدعوین کے ساتھ ساتھ، آج متعدد اہم دینی اور علمی شخصیات، اور پیروان اہل بیت(ع) میں سے اقتصادی دنیا کے فعال کارکنان اور بہنوں کے ایک گروپ کی شرکت سے، صدر اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی میں س اجلاس کا افتتاح ہؤا۔

انھوں نے کہا: امام کے مطلوبہ مقاصد کے ساتھ تجدید عہد، رہبر انقلاب کے ساتھ ملاقات اور تہران کی نماز جمعہ میں شرکت بھی اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ اجلاس کے دوسرے پروگراموں میں تین علاقائی کمیشنوں - ایشیا و بحرالکاہل کمیشن، افریقہ اور عرب ممالک سے متعلق کمیشن اور یورپ و امریکہ کمیشن، - نیز پیروان اہل بیت(ع) کے اقتصادی کمیشن کے اجلاس منعقد ہونگے۔

سیکریٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی، نے کہا: "جامعاتی شخصیات" اور "خواتین" کی دو نشستیں اور ویکی شیعہ میں پانچ نئی زبانوں نیز فارسی اور عربی میں ابوطالب(ع) بین الاقوامی سیمینار کی کاوشوں کے 21 جلدوں پر مشتمل مجموعے کی رونمائی کی تقریب بھی، اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

انھوں نے کہا: اسمبلی کے شہید اور مرحوم اراکین کے حالات زندگی پر مشتمل کتاب "ہمراہان مجمع" (اسمبلی کے ساتھی) نامی کتاب کی رونمائی، اور خطے کے تازہ ترین حالات سے آگہی کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ دوستانہ ملاقات بھی، اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہیں۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کی جنرل اسمبلی کا ساتواں اجلاس "اہل بیت عقلیت، عدالت اور کرامت کا محور" کے عنوان سے منعقد ہو رہا ہے اور اجلاس کا یہ عنوان خطے اور دنیا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر چنا گیا ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے کہا: آج کی دنیا اور بطور خاص امت مسلمہ اور شیعیان اہل بیت(ع) کو بحرانوں سے گذرنے کے لئے عقلیت، انصاف اور انسانی وقار کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا: یہ نقطہ نظر عالمی تسلط پسند نظام کی سازشوں کا سامنا کرنے کے لئے ہے جو فوجی یلغار اور ممالک پر قبضے، یا غاصبوں اور قابضوں کی حمایت کرکے، اقوام کی دولت ہتھیا کر اور ان کے خودمختارانہ ارادوں کو اپنے قابو میں لا کر، اپنی یکطرفہ بالادستی کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دشمن مسلمانوں اور حریت پسند مستضعفین کے درمیان اختلاف پھیلا کر اقوام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا چاہتا ہے انہیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں محرومیت سے دوچار کرنا، ترقی اور پیشرفت کے لحاظ سے دنیا کے مختلف طبقوں کے درمیان دراڑوں کو وسیع تر کرنا، دینی اصولوں اور مبادی و مبانی سے نا آگاہی اور انحراف اور اخلاقی پستیوں اور فطرت مخالف رویوں کی ترویج اور مطلق لذت پسندی کو دنیا پر مسلط، کرنا چاہتا ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے مسلم اقوام، خاص کر پیروان اہل بیت(ع) کے خلاف ابلیسی طاقتوں کے استعماری اقدامات کے مقابلے میں مقاومت اور مزاحمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ طرز فکر سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) کی تعلیمات کا ثمرہ ہے جو موجودہ دنیا میں استکبار اور جبر کے خلاف جدوجہد اور آزادی اور حریت پسندی کے اصل داعی ہیں۔.

انھوں نے کہا: پیروان اہل بیت(ع) خالص محمدی(ص) اسلام پر ایمان رکھنے والے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر غصب شدہ سرزمین، قبلۂ اول، قدس شریف، مظلوم فلسطینی قوم اور - امت مسلمہ کے محوری اور مرکزی مسئلے کے طور پر - فلسطین کاز کا دفاع کرتے ہیں لیکن انہیں خطے اور دنیا کے مختلف علاقوں میں سامراج کے پیدا کردہ تباہ کن بحرانوں کا سامنا ہے صرف اس لئے کہ امت مسلمہ متفقہ طور پر عظمت رفتہ کی بحالی اور اپنے حقوق کے حصول کے لئے نہ اٹھ سکے اور اتحاد بین المسلمین معرض وجود میں نہ آ سکے۔

انھوں نے کہا: حالیہ ایک عشرے کے دوران انتہاپسندوں اور دہشت گرد تکفیریوں کے خلاف مقاومتی افواج کی جدوجہد کو اس استعماری رویے کی مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ تکفیری جماعتیں فرقہ وارانہ اور گروہی تشخص کی بنیاد پر جنگ اور وحشیانہ قتل اور خونریزی کے ذریعے امریکی-صہیونی منصوبے کے نفاذ کے لئے کوشاں ہیں۔

انھوں نے کہا: جنگ اور خونریزی کی قیمت خطے کے ممالک - خاص کر لبنان، شام، عراق، بحرین، یمن، کشمیر، افغانستان اور پاکستان میں ایتامِ آل محمد(ص) [شیعیان آل رسول(ص)] کو ادا کرنا پڑی ہے۔

انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا: سرزمین عراق اہل بیت (علیہم السلام) مراقدِ منورہ کی سرزمین اور عظیم شیعہ آبادی کا ملک ہے؛ جو ان دنوں ایک بار پھر اختلاف اور افراتفری، قانون گریزی، اور بنیادی حقوق کے انکار کے مرحلے سے گذر رہا ہے؛ جس کی وجہ سے دشمن اس ملک کو ایک بار پھر للچاتی نظروں سے دیکھنے اور استبدادی دور کے پلٹانے کے بارے میں سوچنے لگا ہے۔

انھوں نے کہا: یمن کے مظلوم عوام اور بےگناہ بچے غربت اور بھوک و افلاس اور جنگ اور بمباری کے نتیجے میں اپنے اور اپنے عزیزوں کے قتل، سے دکھ اور تکلیف میں مبتلا ہیں، ادھر بحرین اور افغانستان کے عوام بھی ماضی کی طرح آج بھی اپنے شہری حقوق اورعدل و انصاف کے فروغ اور انسانی وقار کے تحفظ کے لئے کوشاں ہیں۔

سیکریٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے کہا: کشمیر اور پاکستان میں آج بھی شیعیان اہل بیت(ع) کو تکفیری جماعتوں کی طرف سے تشدد، طاقت کے استعمال اور تخریب کارانہ اقدامات کا سامنا ہے، اسلامی ایران بھی - جو ظلم و استکبار نیز دشمنان امت کے سامنے سرتسلیم ہونے کے خلاف، مقاومت [مزاحمت] اسلامی کی قیادت کر رہا ہے - تاریخ کی شدیدترین اور ظالمانہ ترین اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا: اگر خطروں سے نمٹنے کے لئے طاقت سازی، علاقائی معاہدہ سازی اور تسدیدی قوت پیدا کرنے کے ذریعے پیدا کی جانے والی مزاحمت کی صلاحیتیں نہ ہوتیں، بلاشبہ اسلامی ایران کا انجام بھی خطے کے دوسرے ممالک سے بہتر نہ ہوتا۔

انھوں نے منصوبہ بند صہیونی-مغربی یلغار اور عالمی نرم جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انھوں نے عالم اسلام و تشیّع کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہؤا ہے، اور ان کا مقصد آج کی نوجوان نسل کے ایمان کا خاتمہ یا کمزور کرنا ہے؛ کیونکہ امریکی سرکردگی میں مغربی سامراج اچھی طرح جانتا ہے کہ سوویت اتحاد کے زوال اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد یک قطبی عالم نظام کے سلسلے میں، یکطرفہ امریکی بالادستی مسلط کرنے کی کوششوں کے سامنے صرف اور صرف عالم اسلام ہے جو مغربی توسیع پسندی، مطلق العنانیت، تکبر اور اقوام عالم کے وسائل پر قبضے کے سامنے مزاحمت کر سکتا ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: دشمن کی میدانی کاروائیاں اور سازشیں محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی کامیابیوں کی برکت سے، ناکام ہو چکی ہیں؛ اور آج [نرم جنگ کے ضمن میں] دینی اور قومی تشخص کو مسخ کرنے، لذت پسندی اور بے راہ روی، اخلاقی برائیاں اور فحاشی و عریانی، منشیات اور ہمجنس پرستی کی ترویج، لوگوں کے دینی اعتقادات اور دینی احکام اور اصولوں پر حملہ، الحاد اور لادینیت اور علمانیت کی تبلیغ، معاشرے، حکومت اور بین الاقوامی تعلقات میں دین کے پلٹ آنے کی مخالفت نرم جنگ کے اہم ترین پہلو ہیں۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: دشمن کی طرف سے مسلم عوام اور دینی بنیادوں کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی غرض سے تمام قدیم اور جدید ابلاغی ذرائع، سائبر اسپیس، سوشل میڈیا، تحقیقاتی مراکز اور سائبر آرمیوں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور ان وسائل و ذرائع کے ذریعے مغربی اور استعماری اقدار کی تلقین و ترویج کی جا رہی ہے، تاکہ مسلمانوں کی طرف سے ہر ایسے اقدام کا سد باب کیا جا سکے جو ان کے سرمایہ پرستانہ مفادات کو ٹھیس پہنچا سکتا ہے۔

سیکریٹری جنرل اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے کہا: میدانی فتوحات اور دشمن کی - بین الاقوامی صیہونیت، تکفیری گروہوں اور صہیونی دشمن کے ساتھ سمجھوتہ اور تعلقات کو معمول پر لانے والی ریاستوں کی آستین سے نکلی ہوئی سازشوں کی - شکست کے بعد، ان خطرات کا مقابلہ تمام مسلمانوں اور اہل بیت رسول(ص) کے پیروکاروں کے شعور و آگہی کی تقویت اور احساس ذمہ داری سے ہی کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا: جہل اور نادانی آج کے انسانی اور اسلامی معاشروں پر پڑی سب سے بڑی آفت ہے اور دشمن اقوام عالم کو اس آفت سے دوچار کئے رکھنے اور انہیں علم و آگہی سے دور رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔ اور دشمن کی اس پالیسی کی بنا پر ہم پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ سید الاحرار حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے اس طرح کے خطرناک جہل و نادانی کے ازالے اور حق و حقیقت کے احیاء کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کیا ہے۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے کہا کہ معاصر دنیا کی پیشرفت صرف سیاسی اور میدان تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ دشمنان اسلام کی کوشش ہے کہ بنیادی طور پر سماجی اور بین الاقوامی میدانوں میں دین کا کوئی کردار ہی نہیں ہونا چاہئے؛ بلکہ اس کو مذہبی اعمال و مناسک اور انفرادی اعمال و فرائض تک محدود ہونا چاہئے۔

انھوں نے کہا کہ دشمنوں کا ایک منصوبہ دین کی تہذیبی اور سماجی پہلؤوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنا ہے، اسی لئے آج، بصیرت افزائی اور ہوشیاری و آگہی میں اضافہ، اسلام کی تجدید حیات، شان و عظمت اور خدا کی رضا کے حصول اور کلمۃ اللہ کی سربلندی کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے ارادے کی تکمیل کا بہترین طریقہ ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی "جہاد تبیین" پر زور دے رہے ہیں جس کا مطلب تمام مسلمانوں کی ہمہ گیر دینی بصیرت افزائی ہے۔

انھوں نے کہا: اس اجلاس میں مؤمن قریش، عمّ النبی(ص)، آنحضرت کے جانشین امیرالمؤمنین(ع) کے والد حضرت ابو طالب(ع) کی طرف دی جانے والی توجہ، بہت بجا تھی، ابو طالب(ع) دشمن کے ساتھ معرکے کے بیچ دشمنان اسلام کے آمنے سامنے حق و حقیقت کے دفاع کے سلسلے میں آگہی، بصیرت اور مقاومت و استقامت کی علامت ہیں۔

انھوں نے کہا: اسلام اور امت اسلامیہ کی شان و عظمت کے احیاء کے لئے ہم سب مسلمانوں اور مکتب اہل بیت(ع) کے پیروکاروں کے اس پختہ عزم کی ضرورت ہے کہ سائنسی ترقی کی ضرورت کے بارے میں بیداری کو تقویت پہنچائیں اور نرم جنگ سے نمٹنے کے لئے بصیرت و بیداری میں اضافہ کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے خودکفالت اور غیر وابستگی اور طاقت پیدا کرنے کی طرف بڑھ کر بہت سارے شعبوں میں دشمن کی پیشقدمی روکنے میں کامیاب ہؤا ہے۔

آیت اللہ رمضانی نے کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے تمام شعبوں میں تبدیلیاں لانے کے لئے اپنے پروگراموں کا آغاز کیا جو شیعہ معاشروں میں تبدیلیوں کا باعث بنیں گی۔

انھوں نے کہا: ہم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے مقاصد کی تکمیل کے لئے تمام علماء، مفکرین، فعال اور پرعزم کارکنوں کی طرف تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہیں چنانچہ وہ ہمیں اپنی مفید تجاویز اور مشوروں سے نوازیں؛ ان مشوروں اور تجاویز سے ہم اپنے معینہ راستے پر تبدیلی اور ترقی نیز تعاون اور عملی شراکت داری کے سلسلے میں مدد لیں گے۔

ان کا کہنا تھا: بلا شبہ یہ تعاون اور فکری طور پر ایک دوسرے کی تقویت اور عمومی اور ہمہ گیر جدید اسلامی تہذیب کی بنیاد فراہم کرتا ہے، ایسی تہذیب کی بنیاد جو ایک الٰہی اور انسانی، ہمہ گیر اور عالم انسانیت کے نجات دہندہ کے ظہور پر نور کی تمہید سازی سمجھی جاتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا: اس تحریک کا اوزار اور اس کی فکری بنیاد ائمۂ طاہرین (علیہم السلام) کی تعلیمات و معارف پر مبنی اسلامی طرز زندگی پر تحقیق ہے۔

اسلامی اور علوی طرز زندگی کو فروغ دینے کا دارومدار اہل بیت علیہم السلام کی پیروی کرنے والے مسلمانوں کے باہمی تعاون اور - عقلیت، انصاف اور وقار کے سائے میں - چیلنجوں اور خطرات کے مقابلے میں ان کی مضبوطی اور آگہی پر ہے؛ اور ان اقدار کے محافظ اہل بیت (ع) ہیں۔

اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا: مجھے امید ہے کہ تمام علماء اور مفکرین اور اس اجلاس کے تمام مہمانان گرامی، اس قسم کے اجلاسوں میں اپنی سرگرم شرکت کا سلسلہ جاری رکھیں اور اسمبلی کی حصولیابیوں کو زیادہ سے زیادہ بہتر اور قوی تر بنائیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110