12 اپریل 2022 - 14:51
ہمیں فلسطینیوں کیساتھ مل جل کر رہنے کے طریقے تلاش کرنا ہونگے، بنی گانٹز

صیہونی حکومت کے وزیر جنگ کا کہنا ہے کہ ہم فلسطینی اتھارٹی کیساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مضبوط کر رہے ہیں، ہمیں فلسطینی اتھارٹی کیساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کیساتھ دو ریاستی حل کی بجائے دو اتھارٹیز کے ذریعے ساتھ رہنے کے طریقے تلاش کرنے ہونگے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیل کے وزیر جنگ نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت کو دو اتھارٹیز کے ذریعے فلسطینیوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کے طریقے تلاش کرنے چاہیئں۔ فارس نیوز کی بین الاقوامی سروس کے مطابق، اسرائیلی وزیر جنگ بنی گانٹز نے پیر کے روز کہا ہے کہ ہم فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اپنے تعلقات کو ہر سطح پر مضبوط کر رہے ہیں اور ہمیں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ سکیورٹی تعاون جاری رکھنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی بجائے دو اتھارٹیز کے ذریعے ساتھ رہنے کے طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ اسرائیلی وزیر جنگ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایٹمی معاہدے سے ایران کو بہت زیادہ رقم ملے گی اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے خطے میں ہماری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

گانٹز نے تاکید کی کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ مضبوط ہونا چاہیئے۔ اسرائیلی وزیر جنگ نے سپاہ پاسداران کے بارے میں اپنے تکراری داعووں کو دوبارا دہرایا۔ یاد رہے کہ صیہونی حکومت مغربی ایشیائی خطے میں واحد ایٹمی ہتھیاروں کی حامل ریاست ہے۔ اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت کے ہتھیاروں میں 90 سے زائد ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔ دوسری جانب ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا رکن ہے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کار باقاعدگی سے ایران کی جوہری تنصیبات کا دورہ کرتے رہتے ہیں، صیہونی حکومت اب تک جوہری عدم پھیلاو کے معاہدے میں شمولیت سے انکار کرتی آئی ہے اور اس نے "آئی اے ای اے" کے معائنہ کاروں کو اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت نہیں دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242