17 مارچ 2022 - 17:29
کراچی۔نمائش چورنگی سانحہ پشاور اور کراچی میں شیعہ نسل کشی کے خلاف احتجاج۔

سانحہ پشاور، کراچی میں شیعہ کلنگ ، دہشتگردی کی نٸی لہر ،زخمیوں سے غیر انسانی سلوک، متنازع نصاب کی سازش اور سعودی عرب میں جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے بے گناہ نوجوانوں کو پھانسی دینے کے خلاف محفل شاہ خراسان روڈ سولجر بازار سے نمائش چورنگی تک شیعہ حیدر کرار کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سانحہ پشاور، کراچی میں شیعہ کلنگ ، دہشتگردی کی نٸی لہر ،زخمیوں سے غیر انسانی سلوک، متنازع نصاب کی سازش اور سعودی عرب میں جمہوریت کا مطالبہ کرنے والے بے گناہ نوجوانوں کو پھانسی دینے کے خلاف محفل شاہ خراسان روڈ سولجر بازار سے نمائش چورنگی تک شیعہ حیدر کرار کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

اس موقع پر شرکاٸے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری مولانا محمد صادق جعفری، مولانا حیات عباس نجفی ، مولانا سید سفیر علی نقوی، برادر ناصر حسینی، برادر شبیر حسینی و دیگر نے کہا کہ معروف قانون دان و شیعہ رہنما سلمان حیدر ایڈووکیٹ کا قتل ان مذموم عناصر کی کارستانی ہے جو ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ہم ظلم و بربریت کے اس واقعہ کی شدید مذمت اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ملک بھر میں ایک بار پھر تکفیری دہشتگرد قوتیں متحرک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔اگر انہیں سختی سے روکا نہ گیا تو دہشت گردی کے خلاف لڑی گئی طویل جنگ اور ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانیاں رائیگاں چلی جائے گی۔ قومی سلامتی کے اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ملک دشمنوں کو سر اٹھانے سے پہلے کچل دیں۔پشاور میں شیعہ مسجد کو نشانہ بنانے اور کراچی میں شیعہ وکیل کی ٹارگٹ کلنگ جیسے سنگین واقعات کے بعد قانون نافذکرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔شیعہ مساجد، امام بارگاہوں کے ساتھ علما وذاکرین اور معروف شیعہ شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے۔حساس اداروں کی جانب سے شیعہ علماء کرام شخصیات کو تھریڈ کے لیٹرز تو نکلتے ہیں مگر سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی۔ آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا؟حکومت اس سلسلے میں فوری طور پر احکامات صادر کرے۔ ملک میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکنے کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔مقررین نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کو اگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس انداز میں استعمال کیا جاتا تو آج نتائج مختلف ہوتے اور ملک دشمن عناصرکو آزادانہ ملک دشمن سرگرمیوں کا موقع نہ ملتا۔ ریاست اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان کے سات کروڑ تشیع کو جان و مال کا تحفظ دے۔

انہوں نے کہا کہ شہید سلمان حیدر نے ہمیشہ اتحاد بین المسلمین کا پرچار کیا۔ یہاں مذہبی منافرت اور انتشار پھیلانے والے تکفیری عناصر کو نہ صرف کھلی چھوٹ دی گئی ہے بلکہ حکومت کی طرف سے انہیں مکمل تحفظ بھی دیا جاتا ہے ۔اس کے برعکس وحدت و اخوت اور مذہبی رواداری کا پرچار کرنے والوں کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے سلمان حیدر کے قتل کو نظر انداز کیا جانا افسوسناک اور صوبائی حکومت کے تعصب کو ظاہر کرتا ہے۔ ظالموں کو خوش کرنے کے لیے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی ناقابل برداشت ہے۔ سلمان حیدر کےخون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔گورنر ،وزیر اعلی سندھ، کور کمانڈر کراچی قاتلوں کی عدم گرفتاری کا فوری نوٹس لیں قتل میں ملوث دہشتگردوں اور سہولت کاروں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے قاتلوں کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا تک ملت تشیع چین سے نہیں بیٹھے گی۔ملت تشیع اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں ، یکساں نصاب تعلیم کے متنازع نکات اور ملک میں جاری دہشت گردی کی نئی لہر کے خلاف 27مارچ کو نشتر پارک میں بھرپور احتجاج کرے گی اور آئندہ کا لائحہ عمل واضح کیا جائے گا۔مقررین نے سعودی عرب میں جمہوریت کے لٸے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سعودی حکومت کی جانب سے پھانسی دینے کے عمل کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعہ کو عالمی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اہلیبیت کے ماننے والوں کو ڈرایا یا دھمکایا ہر گزنہیں جاسکتا ۔ ہم صرف خدا سے ڈرتے ہیں اور امام علی کے فرمان کے مطابق ہمیشہ ظالم کی مخالفت کرتے رہیں گے۔ احتجاج کا اختتام محفل شاہ خراسان پر دعاٸے امام زمانہ علیہ السلام سے کیا گیا ۔ اس موقع پر شہداء کے لٸے فاتحہ خوانی کی گٸی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

242