اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی 9دسمبر انسداد کرپشن کے عالمی دن اور 10دسمبر انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کہتے ہیں کہ کرپشن کے خاتمے کےلئے جب تک صحیح معنوں میں عادلانہ نظام اور غیر جانبدار احتساب نہ کیا جائے تو اس وقت تک بدعنوانی کا خاتمہ ممکن نہیں، انسانی حقوق کی فراہمی کے دعوے بھی محض دعوے ہی رہے، اقوام متحدہ جیسا طاقت ور ادارہ عالمی طاقتوں کے سامنے ڈھیر ہوگیا، کشمیر و فلسطین سمیت آج بھی کئی خطے بنیادی انسانی حقوق کو ترستے ہیں مگر یو این او مذمتی بیانات اور مختلف دن منانے سے آگے نہیں بڑھتا۔
قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ ماضی کی طرح آج بھی کرپشن کے خلاف جہاد کے بلند دعوے کئے جاتے ہیں مگر نظام میں خامیوں کو دور نہیں کیاجاتا جب تک سسٹم میں اصلاحات نہ ہوں اس وقت تک کرپشن کے خاتمے اور احتساب کی باتیں صرف دعوے ہی ہونگے، گذشتہ تین دہائیوں سے مختلف اوقات میں یہ دہائی دی جاتی رہی، مگراحتساب ہوتا دکھائی نہیں دیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ احتساب اور صحیح معنوں میں کڑا اور عادلانہ احتساب کیا جائے، لیکن اس احتساب میں انصاف ہوتا ہوا بھی نظر آنا چاہیئے، اسی طرز کے احتساب سے نہ صرف ملک معاشی طور پر مستحکم ہوگا بلکہ سیاسی طور پر بھی ملک آگے بڑھے گا۔
قائد ملت جعفریہ نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہاکہ افسوس کہ اقوام متحدہ اقوام عالم کے لئے انسانی حقوق کی فراہمی کے اپنے مشن میں کامیاب نہ ہوسکا، بڑی ریاستوں اور جارح ممالک کے سامنے اقوام عالم کے سب سے بڑے ادارے کی ایک نہیں چلتی، ایسا ہوتا تو بیشتر قراردادوں اور مذمتی بیانات کے بعد مقبوضہ کشمیر، فلسطین سمیت دنیا کے مظلوموں کو داد رسی مل چکی ہوتی، آج بھی کشمیری مظلومیت کی تصویر ہیں جبکہ فلسطینی اپنے آبائی خطے میں بے یارو مددگار، بعض ممالک میں بنیادی حق سلب ہورہے ہیں، بات کرنے تک کی آزادی نہیں، صرف دن منانے سے حقوق حاصل نہیں ہوتے، ان کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں ہونیوالے ظلم و جبر کی داستانیں انسانی حقوق کے زمرے میں نہ آتیں؟ افریقہ سے افغانستان تک انسانیت کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا کیا وہ عالمی ضمیر جھنجوڑنے کے لئے کافی نہیں؟ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تدارک صرف زبان سے نہیں ہوگا بلکہ اقوام متحدہ کو عملی اقدامات اٹھانا ہونگے۔انہوںنے ملک کی مجموعی انسانی حقوق کی صورتحال پر کہاکہ یہ ملک لاکھو ں جانوں کی قربانیوں کے بعد اسلامی فلاحی جمہوری ریاست کےلئے وجود میں آیاتھا مگر افسوس جسے انسانی حقوق کی فراوانی کا ماڈل بننا تھا وہاں آج بنیادی آئینی و شہری آزادیوں کو مسلسل سلب کیا جارہاہے۔پاکستان میں انسانی حقوق کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے جسے بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242