ابنا کی رپورٹ کے مطابق "الخبر الاسبوعی"، نامی ہفتہ وار مجلے نے مذکورہ خبر درج کرکے لکھا ہے کہ شیخ «محمدعلی فرکوس» المعروف «ابوعبدالعزیز»، نے ایک فتوی جاری کرکے جلیبی اور رمضان المبارک میں استعمال ہونے والی «الطمینہ» نامی مٹھائی کی حرمت کا اعلان کیا ہے اور اس طرح انہوں نے اپنے مریدوں اور اور پیروکاروں کو اس لذیذ مٹھائی سے محروم کردیا ہے جو ان کی رائے میں «بدعت ہے جو دین میں وارد ہوئی ہے».
انہوں نے فتوی کی تفصیل میں لکھا ہے کہ چونکہ جلیبی کے درمیان «صلیب جیسی اشکال» بن جاتی ہیں اور اس کے لئے کوئی شرعی دلیل بھی قرآن و سنت میں موجود نہیں ہے لہذا اس مٹھائی کا استعمال حرام اور بدعت ہے.
تردید مگر تصدیق سی بدتر!
مذکورہ سلفی مفتی نے ذرائع ابلاغ کے رد عمل کے جواب میں جلیبی کو شرائط کے ساتھ حلال قرار دیا !
مفتی صاحب کی عجیب وضاحت سے وہابیت و سلفیت کے جمود سے مزید پردے بھی اٹھ گئے.
محمد علی فرکوس نے اپنی ویب سائٹ میں ایک فرضی استفتاء کے جواب میں ایک طویل مقدمہ ذکر کرکے لکھا ہے:
«اگر کوئی شخص کوئی غذا عبادت کے عنوان سے صرف کرے؛ یا اسے مستحب اور سنت سمجھ کر کھالے جبکہ قرآن و سنت میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو؛ اس نے درحقیقت خود ہی شرعی قانون سازی کی ہے جو خدا کی طرف سے نازل نہیں ہوئی اور اس طرح کی قانون سازی بدعت اور حرام ہے».
شيخ فركوس مزید لکھتے ہیں: «چنانچہ اگر کسی کا عقیدہ ہو کہ جلیبی کھائے بغیر اس کا روزہ مکمل نہیں ہے؛ یا یہ کہ اس کے فرزند کا عقیقہ «طمینہ» پکائے بغیر مکمل نہیں ہوتا؛ یہ درحقیقت دین میں نئی قانون سازی کے زمرے میں آتا ہے اور بدعت ہے اور نتیجتاً حرام ہے».
حالانكہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی مسلمان جلیبی یا کوئی دوسری مٹھائی یا خورد و نوش کی کوئی چیز اس نیت سے ہرگز نہیں کھاتا کہ یہ مستحب ہے یا اس کے بغیر روزہ مکمل نہیں ہوتا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روایتی مٹھائیان پورے عالم اسلام میں کھانے پینے سے اجتناب کے نتیجے میں خون کے اندر شکر کی کمی (Hhypoglycemia) سے پیدا ہونے والے جسمانی نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے استعمال ہوتی ہیں.
یادرہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سلفی اور وہابی مفتی اس طرح کے مضحک فتاوی جاری کرتے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ حضرات شدید فکری اور علمی جمود کا شکار ہیں اور اسی بنا پر یہ حضرات زیارت قبور اور توسل سمیت دین اسلام کی روشن ترین سنتوں کو بھی اپنے ذاتی فرضیات اور من گھڑت نیتوں کا حوالہ دے کر حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ کوئی بھی مسلمان زیارت قبور اور توسل میں مشرکانہ نیات شامل نہیں کرتا اور صرف اللہ کو ہرچیز میں مؤثر سمجھتا ہے.
حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ : «میں علم کا شہر ہوں اور علی (ع) اس کا دروازہ ہیں» اور یہ حضرات خاندان دین و علم یعنی اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات و معارف سے محروم ہیں جبکہ دین و قرآن و سنت کے حقیقی مفسرین اور شارحین ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ حضرات اپنے پیٹ سے پیدا ہونے والے تفکرات کے زیر اثر دین کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں.