اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ارنا نیوز کے مطابق صدرِ پاکستان عارف علوی نے بین الاقوامی اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کے یک طرفہ اور جابرانہ اقدامات کا ذکر حوالہ دیا اور کہا کہ آج ہم اپنے علاقے میں یک طرفہ پابندیوں اور جابرانہ اقدامات کے منفی نتائج کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ملکی سرمایوں کو منجمد کرنے اور بینکنگ کے نظام کو محدود کرنے سے انسانی درد و رنج میں اضافہ ہوتا ہے اور اس قسم کے اقدامات سے علاقائی صلح و امن کے لئے سنگین خطرات پیدا ہو جاتے ہیں۔
عارف علوی کا کہنا تھا کہ ای سی او تنظیم کے رکن ممالک اقتصادی اور معیشتی رشد و ترقی کے لئے درکار سبھی لازمی عناصر کے حامل ہیں اور غنی ذخائر، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد، جغرافیائی رشتے اور ثقافتی اشتراکات اس خطے کی اہم خصوصیات شمار ہوتی ہیں۔
صدر پاکستان کا کہنا تھا کہ بعض تاریخی وجوہات کی بنا پر ای سو او کے رکن ممالک تجارت، سرمایہ کاری، مالی، بنیادی تنصیبات، علاقائی رشتوں، متحرک افرادی قوت اور آپس میں موجود سماجی رشتوں کے نقطہ نظر سے کم ترین اتحاد و اتفاق کے حامل ہیں۔
انہوں نے افغانستان کی صورتحال کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ علاقائی تعلقات کا انحصار افغانستان کے امن و استحکام پر ہے۔ عارف علوی نے عالم اسلام منجملہ ای سی او کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ افغانستان میں انسانی المیے کی روک تھام کے لئے میدان میں آئیں۔