اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رمضانی نے اپنے لبنان دورے کے دوران تحریک امل کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ حسن عبد اللہ سے ملاقات کی۔

شیخ حسن عبد اللہ نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا: علامہ سید عبدالحسین شرف الدین اور امام موسیٰ صدر کی ثقافتی اور تبلیغی سرگرمیاں اس بات کا سبب بنی کہ اس خطے میں مختلف ادیان و مذاہب کے باوجود علاقے میں کوئی اختلاف نظر نہیں آیا اور ہمیشہ اس خطے میں یکجہتی اور پرامن ماحول رہا۔ اس خطے میں مختلف قومیتوں کے لوگوں اور اقوام متحدہ کی افواج کی موجودگی کے باوجود مزاحمت کا جذبہ موجود ہے اور اس جذبے نے دشمن کو ہمارے ملک اور اس خطے کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں دیا۔
انہوں نے کہا: ہمیں امید ہے کہ ہم اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ اشاعت اور ثقافت کے میدانوں میں تعاون کریں گے اور اس علاقے میں اس اسمبلی کی اشاعتوں سے استفادہ کریں گے۔

اہل بیت(ع) عالمی مجلس کے سکریٹری جنرل نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: 70 سال قبل قم نامی ایک کتاب شائع ہوئی تھی جس میں قم کے حوزہ علمیہ اور مراجع تقلید و طلاب پر وسیع تحقیق کی گئی تھی ۔ سب یہ کہتے تھے کہ یہ کتاب کیوں لکھی گئی اور ایسی کتاب کی تالیف فضول ہے، جب کہ دشمن نے 70 سال قبل اس تحقیق کے ذریعے آج کے مراجع اور علماء کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہمیں بہت ہوشیار رہنا چاہیے کہ ان اختلافات کے جال میں نہ پھنسیں اور ان سازشوں کا شکار نہ بنیں۔
انہوں نے مزید کہا: ہمارا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) اور اہل بیت (س) تمام مسلمانوں کے لئے ہیں اور ان مشترکات کے مطابق ہمیں تمام مسلمانوں اور سنیوں کے ساتھ تعلقات کو بڑھانا چاہئے اور تکفیری جماعت اور داعش کو خالص اسلام محمدی سے دور کرنا چاہیئے۔ جناب شیخ حسن عبداللہ نے خبر دی کہ کہ اس خطے میں ہر 6 ماہ بعد بین المذاہب گفتگو کا انعقاد کیا جاتا ہے جو کہ ایک اچھی خبر ہے اور اسے مزید تقویت ملنا چاہیے۔ علامہ شرف الدین اور امام موسیٰ صدر اس اتحاد کی تحریک کے پرچم بردار تھے، چرچ میں امام موسیٰ کی رفت و آمد نے بین المذاہب گفتگو کی راہ ہموار کی لہذا اس طرح کی گفتگو کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

ملاقات کے آخری حصے میں اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل نے امل تحریک کے نمائندے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ہم اس خطے میں آپ کے ساتھ ثقافتی تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242