اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے اپنے لبنان دورے کے دوران تحریک امل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر خیل حمدان سے ملاقات کی۔
ڈاکٹر خلیل ہمدان نے اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا: آج ہم اسلامی جمہوریہ ایران اور شیعوں کے خلاف مزاحمت کو کمزور کرنے کے لیے بہت سی سازشوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، لیکن مزاحمت نے ثابت قدم رہنے کے لیے بہت سے شہیدوں کی قربانیاں دیں۔ آج بہت سے مسائل کے باوجود امل تحریک اور حزب اللہ مزاحمت کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور یہ امام خامنہ ای کی حمایت اور رہنمائی سے حاصل ہوئی ہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی ایک کامیاب ادارہ ہے
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بارے میں یہ ضرور کہوں گا کہ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں متعدد بار اسمبلی کی کانفرنسوں اور پروگراموں میں شرکت کر چکا ہوں۔ اسمبلی کئی اجتماعی پروگراموں کے انعقاد کے ذریعے پوری دنیا کے شیعوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اور خدا کا شکر ہے کہ یہ بہت کامیاب ادارہ ہے۔ اور شیعوں کی ترویج اور مظلوموں کی حمایت کے لیے ہر پہلوؤں کے اعتبار سے اچھی فعالیتیں انجام دی ہیں اور ہم اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔
امل تحریک کے نائب وزیر تعلیم نے مزید کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی اہمیت یہ ہے کہ امام خامنہ ای کی قیادت میں اس نے بین الاقوامی میدان میں ظالم اور مظلوم کے عنوان سے ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے۔ نظریات پہلے بھی مضبوط اور کمزور ممالک یا اسلامی یا غیر اسلامی ممالک پر مبنی رہے ہیں لیکن ہم نے دیکھا کہ امام خامنہ ای نے ممالک کو ظالم اور متکبر ممالک اور مظلوم اور غیر متکبر ممالک میں تقسیم کیا اور یہ ایک نیا نظریہ ہے کہ جو امام خامنہ ای نے پیش کیا۔
مزاحمت کا جغرافیہ پھیل رہا ہے
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل آیت اللہ رضا رمضانی نے دہشت گردی کے واقعے میں لبنانی عوام کی اجتماعی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے اپنی گفتگو میں کہا: دہشت گردی کے اس واقعے میں حزب اللہ کے تین افراد شہید اور تحریک امل کے تین افراد شہید ہوئے، اس کا مطلب یہ ہے کہ حزب اللہ اور تحریک امل دونوں دشمنان اسلام و بشریت کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ میں نے سید حسن نصر اللہ اور نبیہ بری سے ملاقاتیں کیں اور ظاہر ہے کہ دونوں معززین نے اتحاد اور یکجہتی کی بات کی۔ آج امام موسی صدر اور شیخ شمس الدین کی روش کو ایک منظم طریقے سے مرتب اور اس پر عمل کرنا ہوگا اور اس روش کو فکری نظام، گفتگو کے میدان اور یہاں تک کہ عسکری شعبے میں بھی اختیار کیا جانا چاہیے۔ ہم شہید چمران اور سید احمد خمینی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں جو اس تحریک پر یقین رکھتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا: "مغرب میں بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اب دنیا میں مذہب کی بنیاد پر انقلاب نہیں آئے گا، اور یہ کہ جس معاشرے میں انقلاب برپا ہو گا وہ سیکولرازم کی طرف جائے گا اور مذہبی انقلاب نہیں آئے گا، اور اگر کوئی انقلاب آئے گا وہ انقلاب سیکولر اور غیر مذہبی ہو گا۔ لیکن مذہبی انقلاب امام خمینی کے ہاتھوں برپا ہوا اور مغربی فلسفی میشل فوکو نے ایران آکر ایرانی انقلاب کے بارے میں مضامین لکھے اور اس کا خوب ذکر کیا۔ اب اسلامی انقلاب کے بعد ہم کفر اور اسلام کے درمیان ہیں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے مزید کہا: جب امام خامنہ ای امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت پر مبارکباد دینا چاہتے ہیں تو وہ صرف مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے تمام مظلوموں کو بھی مبارکباد دیتے ہیں، کیونکہ امام مہدی علیہ السلام صرف شیعوں کے نہیں ہیں۔ ہم زیارتوں میں پڑھتے ہیں "السلام علیک یا امام الانس و الجان"۔
آیت اللہ رمضانی نے دنیا میں طاقت کے بلاکس کے خاتمے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "40 سال پہلے دنیا میں صرف دو بلاک تھے، مشرقی بلاک تحلیل ہو گیا تھا اور مغرب میں کسی کو بھی اس بلاک کے خلاف رائے دینے کا حق نہیں تھا، لیکن آج ایران کے اسلامی انقلاب کی برکت سے ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ مغرب کی طاقت کا سورج ڈوب رہا ہے اور مزاحمتی محاذ کی جانب سے اسے تنقید اور اور مقابلے کا سامنا ہے۔ مغرب والے اس وقت ایران میں داخل ہو رہے تھے اور ایران کے لیے فیصلہ کر رہے تھے جب کہ ایران کے شاہ کو خبر نہیں تھی۔ لیکن آج ایران اپنی عسکری طاقت اور ٹیکنالوجی کے باعث چھ عالمی طاقتوں کا سامنا کر رہا ہے اور ان سے مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: امریکہ کی سیاسی بالادستی اور اس ملک کی اجارہ داری ختم ہو چکی ہے اور یہ فتح مسلمانوں اور مزاحمت کی ہے اور اس فتح میں اسلامی جمہوریہ ایران اور شیعوں نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امام موسی صدر ان اولین لوگوں میں سے تھے جنہوں نے استکبار کے خلاف مزاحمت کی اور اس مزاحمت کا سہرا آج حزب اللہ کے سر پر سجھا ہے۔ انشاء اللہ ہم اس مزاحمت کی طاقت کو پہلے سے زیادہ مضبوط دیکھیں گے۔ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ مزاحمت کا جغرافیہ روز بروز پھیلتا جا رہا ہے۔ ثقافتی اور تعلیمی کام بھی جسمانی طاقت کے ساتھ ساتھ مزاحمتی قوتوں کے لیے ضروری ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242