اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کی نامور علمی شخصیت، مدیر و مدبر، مفکر و متفکر، استاذ الاساتذہ، نجم الواعظین، اردو، عربی اور فارسی ادب کے ماہر، تاریخ، کلام، فلسفہ، تفسیر، فقہ و اصول کے استاد حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا ابن علی واعظ کا آج دہلی کے اسپتال میں انتقال ہو گیا ہے۔
مرحوم انقلاب اسلامی کے سخت حامی، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے مدافع اور رہبر انقلاب اسلامی کے دوستدار اور نہایت معتقد تھے۔
اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی اس موقع پر مرحوم کے لیے بلندی درجات کی دعا کے ساتھ ساتھ لواحقین کی خدمت میں تسلیت پیش کرتی ہے۔

زندگی نامہ
آپ ۱۹۳۹ میں ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے علاقے شیعہ نگر رجیٹی ضلع غازی آباد میں پیدا ہوئے۔
تعلیم وتربیت:
آپ ۱۹۴۸ء میں حصول تعلیم کے لئے لکھنؤ تشریف لے گئے۔ لکھنؤ میں آپ نے جامعۂ ناظمیہ میں۱۹۴۸میں اور نومبر۱۹۵۹ کے اواخر میں مدرسۃ الواعظین میں داخلہ لیا۔ مدرسۃ الواعظین میں آپ کے ساتھ رئیس الواعظین مولانا کرارحسین صاحب قبلہ واعظ اور جناب مولانا سید جعفر مجتبی صاحب قبلہ اور علامہ ذیشان حیدر جوادی صاحبآپ کے ہم درس تھے۔
تدریس:
علوم آل محمد (ع) کی تدریس اورشریعت محمد وآل محمد (ص) کی خدمت آپ کا نہایت پسندیدہ مشغلہ رہا اور آپ کی زیادہ خدمت، علوم آل محمد(ص)کی تدریس رہی ہے۔ مبالغہ نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ ہندوستان کے نوے فیصد علما آپ کے براہ راست یا بالواسطہ شاگرد ہیں۔ آپ نے دینی مدارس میں رسمی تدریس کے علاوہ دیگر مراکز میں بھی تدریس فرمائی ہے۔ آپ کی تدریس و تعلیم کی ابہت بعض جگہ اس حد تک پہونچی ہے کہ بعض افراد جنہوں نے آپ سے نہیں پڑھا ہے وہ بھی خود کو کچھ وجوہات کی بناپر آپ کا شاگرد بتاتے ہیں۔ ہندوستان میں آپ نے عام طور پر اردوزبان استعمال کی ہے۔ لیکن بیرون ہند میں آپ نے عربی زبان میں بھی درس دیا ہے۔ آپ جہاں بھی رہے آپ نے وہاں تربیت مدرسین کو انجام دیا لیکن جتنی مدت آپ تنظیم المکاتب میں رہے اتنی مدت میں یہ کام زیادہ نظم کے ساتھ انجام پایا۔
تنظیم المکاتب کے مکاتب کیلئے مدرسین کی تربیت کا سلسلہ آپ کا اہم کارنامہ ہے۔ آپ نہایت عمدہ خوش نویس شخصیت ہیں لہذا خوشنویسوں اور کاتبوں کی تربیت بھی اپ نے انجام دی آپ جہاں بھی رہے آپ نے وہاں یہ کام انجام دیا لیکن جتنی مدت آپ تنظیم المکاتب میں رہے اتنی مدت میں یہ کام زیادہ نظم کے ساتھ انجام پایا۔ ۱۹۶۷ میں بیسویں صدی کی ستر کی دہائی میں منصبیہ عربک کالج میرٹھ میں آپ تقریبا دس سال رہے۔ آغازمیں آپ مدرس کے عنوان سے رہےاورآخرمیں مختصرمدت کے لئے یہاں کے نائب مدیر رہے ۔اس دورکے آپ کے بہت سے شاگردہیں جن میں مشہورذاکر، استاد، مبلغ اورشاعرہیں اوردنیاکے گوشے گوشے میں مصروف خدمات ہیں۔
مقام تدریس:
جامعہ باب العلم، منصبیہ عربی کالج، تنظیم المکاتب، افریقا، حوزہ علمیہ غفرانمآب, حوزہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام
تبلیغی و دینی مصروفیات:
جامعۂ ناظمیہ اورمدرسۃ الواعظین سے فراغت کے بعد آپ۲۲/نومبر۱۹۶۲سے مدرسہ باب العلم نوگاواں سادات ضلع امروہہ کے تین سال تک زعیم رہے۔ نوگاواں قیام کے دوران آپ نے وہاں ایک اہلسنت عالم دین سے مناظرہ بھی کیا اوراس کو شکست دی۔ اس کے بعد آپ نے یہ ترجیح دی کہ مدیر کے بجائے مبلغ کی حیثیت سے دین اسلام کی خدمت کریں۔ اس لئے آپ واپس مدرسۃ الواعظین تشریف لے گئے۔ اوراس مرکز کے تحت ہندوستان کے مختلف صوبوں منجملہ کشمیر، گجرات، کرناٹک، راجستھان، پنجاب، بنگال، بہار، مدھیہ پردیش، تامل ناڈو، آندھراپردیش اور مہاراشٹر کے تقریبا چھ سال تک تبلیغی دورے کئے۔ آپ تقریبا سات سال تک قصبہ شکارپورضلع بلند شہرکے امام جمعہ والجماعت رہے۔ اس دوران آپ نے وہاں دیگرمذہبی اورمعاشرتی امور بھی انجام دئے منجملہ یہ کہ سالانہ مجالس کا سلسلہ قائم کیا جو اب بھی جاری ہے۔
۱۹۵۷میں نقاش بکڈپو لکھنؤ کی بنیاد ڈالی۔ یہاں سے "گلہائے عصمت" نامی کتاب طبع ہوئی۔ اس بکڈپو کا وجود دو سال باقی رہا ۔ ۱۹۶۱ء میں آپ نے شیعہ نگر رجیٹی ضلع غازی آباد میں شیعہ لائبریری کی بنیاد ڈالی جو چند سال سرگرم رہی۔ نیز ابتدائی تعلیم کے لئے۱۹۶۷ء میں قصبہ شکارپور ضلع بلند شہر میں مدرسہ ناصرالعلم کی بنیاد ڈالی جو اب بھی قائم ہے۔ ۱۹۶۸ء میں آپ نے با ڑہ ہندوراؤ دہلی میں ابتدائی تعلیم ہی کے لئے مدرسہ باقرالعلوم علیہ السلام کی بنیاد ڈالی جو تقریبا پانچ سال جاری رہا۔ ۱۹۶۷ء میں بیسویں صدی کی سترکی دہائی سے منصبیہ عربک کالج میرٹھ میں آپ تقریبا دس سال رہے۔ آغاز میں آپ مدرس کے عنوان سے رہے اورآخرمیں مختصرمدت کے لئے یہاں کے نائب مدیر رہے۔ اس دور کے آپ کے بہت سے شاگردہیں جن میں مشہور ذاکر، استاد، مبلغ اور شاعر ہیں اور دنیا کے گوشے گوشے میں مصروف خدمات ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اوراہم آپ کی خدمت وہاں کی لائبریری کو مرتب کرناہے۔
۱۹۷۱ء میں مکتبۂ علمیہ دہلی کی بنیاد ڈالی جہاں سے کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ اس کا وجود پانچ سال تک باقی رہا۔ 1978ء میں شاہوار بکڈپو کی بنیاد ڈالی۔ اس کا وجود دو سال باقی رہا اوریہاں سے ایک کتاب (حسن قبول) شائع ہوئی۔ بیسویں صدی کی سترکی دہائی کے آخرمیں اوراسی کی دہائی کے آخرمیں تقریبا تین سال تک مجلہ "ندائے امن "کی مجلس ادارت کے رکن اورمقالہ نویسی کے امورمیں خصوصی معاون رہے۔ ۱۹۷۸ء میں آپ نے مؤسسہ ز ینبیہ س کی بنیاد ڈالی جو اب بھی برقرارہے اورابتدائی مکتب، امام بارگاہ، لائبریری، پبلکیشن، تبلیغات اور ابتدائی حوزۂ علمیہ جیسے شعبوں میں سرگرم ہے۔ البتہ ضروری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے حوزۂ علمیہ مستقل طور پرسرگرم نہیں ہے بلکہ دوروں اورنامنظم کلاسوں کی شکل میں اپنی سرگرمی جاری رکھے ہوئے ہے۔
۱۹۷۹ء میں آپ نے شیعہ نگررجیٹی ضلع غازی آباد میں انجمن حسینی کی تاسیس کی۔ یہ انجمن تقاریر، مجالس نوحہ خوانی اورسینہ زنی کے سلسلے میں قائم کی گئی۔ یہ چند سال تک بہت سرگرم تھی لیکن پھراس کی سرگرمیاں باقی نہ رہیں۔۱۹۸۰ء میں آپ نے شیعہ نگر رجیٹی ضلع غازی آباد میں ہی انجمن غنچہ حسینی کی بنیاد ڈالی۔ یہ انجمن بھی تقاریر ،مجالس، نوحہ خوانی اورسینہ زنی کے سلسلے میں قائم کی گئی اور جوانوں اور نوجوانوں سے مخصوص تھی ۔ یہ انجمن چند سال تک جوش وخروش کے ساتھ باقی رہی۔ بیسویں صدی کی اسی کی دہائی میں چھ سال تک رسمی طورپرمجلہ تنظیم المکاتب لکھنؤ کی مجلس ادارت کے رکن رہے۔ اورغیررسمی طورپرتقریبا اٹھارہ سال تک رکن رہے۔ جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب کے یوم تاسیس یعنی گیارہ ذیقعدہ۱۴۰۳ھ سے لے کر گیارہ شعبان۱۴۱۳ھ تک اس مدرسہ کے مدیر رہے۔
۱۴۱۳ھ سے لے کرتقریبا دوسال تک ممباسہ کینیا افریقہ میں امام جمعہ والجماعت رہے ۔ امام جمعہ والجماعت ہونے کے علاوہ آپ یہاں دوسرے مذہبی اورمعاشرتی اموربھی انجام دیتے تھے۔ دیوان امام خمینی رہ کا شعر بہ شعر اور نظم بہ نظم ترجمہ یہیں مکمل ہوا۔ ۱۴۱۵ھ سے لیکردوسال تک آپ موشی تنزانیا میں امام جمعہ والجماعت رہے۔ امام جمعہ والجماعت ہونے کے علاوہ آپ یہاں بھی دوسرے مذہبی اورمعاشرتی امور انجام دیتے تھے ۔ امام خمین رہ کی عرفانی کتاب ” آداب نماز“ کا اردوترجمہ آپ نے یہیں کیا اورکتاب ”امہات الائمہ ازبعثت تاغیبت “ یہیں تالیف کی جو ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے۔ جولائی۲۰۰۲ء سے لے کر تقریبا دو سال تک حسینیہ باب المراد، ترلوک پوری دہلی میں امام جمعہ والجماعت رہے ۔ امام جمعہ والجماعت ہونے کے علاوہ آپ یہاں بھی دوسرے مذہبی اورمعاشرتی امور انجام دیتے تھے۔ اس مدت میں آپ نے چودہ جلدی اہم کتاب "اجتہاد و زمان ومکان" کے بعض حصوں کا ترجمہ کیا۔ یہ کتاب ”مؤسسہ تنظیم ونشرآثارامام خمینی “ کی جانب سے ترجمے کیلئے آپ کے پاس بھیجی گئی تھی۔ تقریبا تین سال تک رسولپور سادات دھولڑی ضلع میرٹھ میں امام جمعہ والجماعت رہے۔
۲۰۰۹ء سے لے کر۲۰۱۷ تک آپ حوزۂ علمیہ غفرانمآب لکھنؤ کے مدیر رہے۔ اس کے بعد ۱۴۳۹ھ کے ہفتہ وحدت میں اپنے فرزند جناب محمد باقر رضا کے ساتھ دہلی کے اندر حوزہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام کی بنیاد رکھی اور الحمد للہ اب اس کے مدیر و مدبر ہیں۔ مقالہ نویسوں کی تربیت: اس فن کوبھی انہوں نے خود تک محدود نہیں کیا اورجہاں بھی رہے منصوبہ بند طریقے سے اورغیرمنظم طورپراس کو جاری رکھا۔ جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب لکھنؤ میں اس فن کی تدریس زیادہ منظم طورپرانجام پائی اوربہت سے طلاب اس سے فیضیاب ہوئے۔
دوسروں کے آثارکی اصلاح: بہت سے مواقع ایسے آئے ہیں جب دوسروں نے اپنے آثاراصلاح کی غرض سے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے ۔ تقاریر: آپ تقریبا پچاس سال سے تقریریں کرنے اورمجلسیں پڑھنے میں مصروف ہیں۔ اگرہم اندازہ لگانا چاہیں توہر سال سو سے دو سو تک تقریریں ہوتی ہیں۔ یعنی آپ نے ابھی تک تقریبا پانچ ہزارسے دس ہزارتک تقریریں کی ہیں۔ مقررین اورذاکرین کی تربیت: آپ اس کے علاوہ کہ ہندوستان میں توانا مقرراورکامیاب ذاکر کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں، بہت سے مقررین اورذاکرین آپ کے دست پروردہ ہیں۔ کیونکہ آپ جہاں بھی رہے وہاں آپ نے مقررین کی تربیت کی۔ ہندوستان کے بہت سے ذاکرین آپ کا شاگرد ہونے پر فخر کرتے ہیں۔ جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں یہ کام زیادہ نظم کے ساتھ انجام پاتا تھا اور آپ نے وہاں اس فن کے اصول کومرتب کیا جو اب بھی اس مرکز کے دفترمیں محفوظ ہیں۔
تاسیسات:
۱] شیعہ نگررجیٹی ضلع غازی آباد میں شیعہ لائبریری قائم کی۔
۲] ابتدائی تعلیم کیلئے۱۹۶۷میں قصبہ شکارپور ضلع بلند شہر میں مدرسہ ناصرالعلم کی بنیاد ڈالی۔
۳] ۱۹۶۸ء میں آپ نے با ڑہ ہندوراؤدہلی میں ابتدائی تعلیم ہی کیلئے مدرسہ باقرالعلوم کی بنیاد رکھی جو تقریبا پانچ سال جاری رہا۔
۴] ۱۹۷۱ء میں مکتبۂ علمیہ دہلی کی تاسیس کی۔
۵] ۱۹۷۸ء میں شاہوار بکڈپو کی بنیادڈالی۔
۶] ۱۹۷۸ء میں آپ نے مؤسسہ ز ینبیہ کی تاسیس کیا۔
۷] ۱۹۷۹ء میں آپ نے شیعہ نگررجیٹی ضلع غازی آباد میں انجمن حسینی کی خشت اول رکھی۔
۸] ۱۹۸۰ء میں آپ نے شیعہ نگر رجیٹی ضلع غازی آباد میں ہی انجمن غنچہ حسینی کی تشکیل دی۔
۹] ۱۹۵۷ء میں نقاش بکڈپو لکھنؤ کی بنیادڈالی۔
۱۰] ۱۴۳۹ھ کے ہفتہ وحدت میں اپنے فرزند جناب محمد باقر رضا کے ساتھ دہلی کے اندر حوزہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام کی بنیاد رکھی۔
خاص عہدے:
۱۔ مدیر اول باب العلم نوگانواں سادات
۲۔ مدیر اول تنظیم المکاتب لکھنؤ
۳۔ مدیر اول حوزہ علمیہ غفرانمآب لکھنؤ
۴۔ مدیر اول حوزہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام دہلی
۵۔ موسس موسسہ زینبیہ، رجیٹی
۶۔ سرپرست موسسہ اسلام فہمی دہلی
شاعری:
ماہ صفر۱۳۸۲ھ مطابق جولائی۱۹۸۲میں آپ نے پہلا مرثیہ "مقصد تخلیق " کے عنوان سے کہا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے:"آج گونجی ہوئی عالم میں صدا کس کی ہے؟"۔ دیوان امام خمینی کا منظوم ترجمہ کیا۔ آپ نے عربی میں بھی شاعری کی ہے جو چھپی تو نہیں ہے لیکن محفوظ ہے۔ تخلص شائق اور واعظ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
242