28 اگست 2021 - 18:31
خطی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کے ذریعے ہی امن حاصل کیا جا سکتا ہے: امیر عبداللہیان

آج عراق اپنی تعمیری کوششوں اور وژن کی وجہ سے خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے پہلے ممالک میں سے ایک تھا جس نے نئے عراق کو تسلیم کیا اور اس ملک میں سیاسی عمل کی حمایت کرکے اس کے سیاسی، معاشی اور تجارتی تبادلے کو فروغ دیا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک بدستور خطی ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول پر زور دیتا ہے اور انہیں امید ہے کہ علاقائی ممالک میں اس اطمینان حاصل ہوجائے کہ قیام امن؛ علاقائی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

"حسین امیر عبداللہیان" نے ہفتے کے روز عراق کی حمایت کے علاقائی اجلاس میں کہا ہے کہ نئے عراق کو از سر نو تعمیر اور علاقائی تعلقات میں بہتری آنے کی ضرورت ہے۔

منعقدہ اس اجلاس میں ایرانی وزیر خارجہ کی تفصیلی تقریر درج ذیل ہے؛

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میں آج اسلامی جمہوریہ ایران اور صدر مملکت ڈاکٹر رئیسی کی طرف سے بغداد میں عراق کی حمایت میں کانفرنس میں حاضر ہو کر بہت خوش ہوں۔ یہ کانفرنس، علاقائی ممالک کی موجودگی کساتھ، خطی ممالک کے درمیان تعاون کے پلیٹ فارم مہیا کرنے میں جمہوریہ عراق کی کوششوں کی تصدیق کرتی ہے اور مجھے امید ہے کہ ان کانفرنسوں کے ذریعے ہم ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور آزاد علاقہ قائم کرسکیں گے۔

معزز سامعین؛

آج عراق اپنی تعمیری کوششوں اور وژن کی وجہ سے خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران خطے کے پہلے ممالک میں سے ایک تھا جس نے نئے عراق کو تسلیم کیا اور اس ملک میں سیاسی عمل کی حمایت کرکے اس کے سیاسی، معاشی اور تجارتی تبادلے کو فروغ دیا۔

دہشتگردی سے آزاد ہونے والے نئے عراق کو آج اندرونی تعمیر نو اور مضبوطی کی ضرورت ہے اور خطے میں تعاون کی وسعت کی ضرورت ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کی علاقائی اور بین الاقوامی پوزیشن کے استحکام، سلامتی، آزادی، علاقائی سالمیت، وقار، اختیار اور فروغ کی حمایت کرتے ہوئے دوطرفہ اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کیلئے اپنی تیاری کا اعلان کرتا ہے۔

حالیہ برسوں میں، اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ عراق کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح 12 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان آٹھ آفیشل ایکٹو کراسنگز کا وجود اور ان کراسنگز میں کورونا پھیلاؤ کے پھیلاؤ کے باوجود تجارتی تبادلے کا تسلسل؛ دونوں مملک کے درمیان گہرے تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں، ایران نے تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات، گیس اور بجلی برآمد کرکے عراق کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کی ترقی میں نمایاں شراکت کی ہے۔

معزز سامعین؛

داعش کا عروج خطے کو درپیش سب سے اہم خطرات میں سے ایک تھا اور اسے ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ بدقسمتی سے، عراق کو دہشت گرد گروہوں کے ظہور سے بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اگر یہ عراقی عوام کی مرضی، اعلی رہنماوں کی حمایت اور عراق کے مختلف طبقات کے عوام کے درمیان اتحاد نہ ہوتا تو یہ واضح نہ ہوتا کہ عراق اور خطے کے ممالک کا کیا ہوگا اور کتنی شدت سے خطے اور دنیا کو دہشت گردی کے خطرات سے خطرہ لاحق ہو جاتا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دوست اور برادر ملک عراق کی مدد کی اور اس سمت میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔ عراقی عوام، جماعتوں، مختلف گروہوں اور عراقی حکومت نے آزادی اور دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے ہزاروں جانیں قربان کیں۔ تاہم، امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا جرم کیا اور انسداد دہشت گردی کی راہ میں جد و جہد کرنے دو عظیم ہیروز جنرل سلیمانی اور ابومہدی المہندس کو شہید کیا۔ انہوں نے نہ صرف اس خطے کے لوگوں کے لیے امن اور سلامتی نہیں لائی بلکہ وہ عدم تحفظ کی بنیادی وجہ تھے اور یہ خطے کے کئی ممالک میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔

یہاں میں عراق کے استحکام اور سلامتی کیلئے خطے کے ممالک کے کردار اور حمایت پر زور دینا چاہتا ہوں اور تمام ہمسایہ ممالک بشمول شام کے دوست اور برادر ملک کی شمولیت کے ساتھ سلامتی کے حصول کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

معزز سامعین؛

حکومت اور اس خطے کی قوموں کی تقدیر مشترکہ مذہبی، ثقافتی، روایتی، تاریخی اور جغرافیائی مفادات کے مطابق جڑی ہوئی ہے۔ جمہوریہ اسلامی ایران بدستور خطی ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن کے حصول پر زور دیتا ہے اور انہیں امید ہے کہ علاقائی ممالک میں اس اطمینان حاصل ہوجائے کہ قیام امن؛ علاقائی ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے خطے میں تمام مذہبی، ثقافتی، تہذیبی خصوصیات اور علاقائی تعاون اور ہم آہنگی کیلئے مادی اور روحانی صلاحیتیں ہیں، لیکن بدقسمتی سے غیر ملکی مداخلتوں اور سیکورٹی پر مبنی خیالات کے غلبے کی وجہ سے اس میں جنگ، عدم استحکام اور عدم تحفظ سمیت کئی مسائل ہیں۔

آج جس بات کی ہمیں پہلے سے زیادہ ضرورت ہے وہ خطی ممالک کی شرکت کیساتھ "پائیدار علاقائی سلامتی" کا قیام ہے جس کا حصول اقتصادی وسائل کے استعمال پر منحصر ہے تاکہ امن اور ترقی کے لیے اتحاد کا قیام ہو۔

والسلام علیکم و رحمه الله و برکاته

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے میں عراق کی حمایت میں علاقائی اجلاس کی شرکت کیلئے بغداد کیا دورہ کیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس اجلاس کا آج بروز ہفتے کو عراق کے ہمسایہ ممالک سوائے شامی صدر اور بعض خطی ممالک اور غیر ممالک کی شرکت سے انعقاد کیا جاتا ہے۔

عراق کے ہمسایہ ممالک سمیت قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل اراکین اور جاپان سے بھی اس اجلاس میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔

عراقی حکومت کے مطابق اس اجلاس کے مقاصد؛ علاقائی کشیدگی میں کمی، اقتصادی تعلقات کا فروغ اور عراق کے پڑوسیوں کے درمیان اختلافات کو حل کرنا ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲