اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی اور آل جموں و کشمیر شیعہ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری جناب عابد حسین انصاری نے ایک مشترکہ بیان میں شیعیان کشمیر کے معاملات میں غیر ریاستی عناصر کی دخل اندازی کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت ہند یا گورنر انتظامیہ ان عناصر کے بہکاوے میں آکرکوئی ایسا اقدام نہیں کرے گی جو مسلک تشیعہ کے روح اور اصول و ضوابط کے منافی ہو اور جس سے شیعیان کشمیر کے مسلکی جذبات اور عقیدے کو کوئی ٹھیس پہنچے اور جو اقدام یہاں کی شیعہ برادری کی راہ و روش میں غیر متوقع تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ شیعیان کشمیر سے متعلق کسی بھی حکومتی پالیسی کے حوالے سے مرکزی سرکارکو غیر ریاستی عناصر اور یہاں کے غیر معروف عناصر کے بجائے شیعیان کشمیر کی مسلمہ نمائندہ دینی و سیاسی تنظیموں کے ساتھ صلح و مشورہ کرکے ان کا موقف اور نقطہ نگاہ جاننے کی کوشش کرنی چاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر شیعیان کشمیر کی نمائندہ دینی و سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لئے بغیر شیعہ موقوفات سے متعلق کوئی جبری فیصلہ نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ حکومت ہند کی ایک بڑی سیاسی غلطی ہوگی جس کے دور رس منفی سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔
بیان میں کہا گیاکہ گزشتہ کئی سال سے چند غیر ریاستی مولوی صاحبان کشمیر میں آکر شیعیان کشمیر کی پسماندگی پر مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنے حقیر مقاصد کے لئے سر گران ہیں ان عناصر کی یہ سرگرمیاں کشمیر میں اتحاد بین المسلمین کے ماحول کو نقصان پہنچا سکتی ہیں کشمیر روایتی بھائی چارے اور اتحاد بین المسلمین کا گہوارا ہے اور ہم اس اخوت اسلامی کے ماحول کو درہم برہم کرنے والے عناصر کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ جو عناصر شیعیان کشمیر کے خیر خواہ بن کر مرکزی سرکار کو شیعیان کشمیر کے دینی معاملات میں مداخلت کی ترغیب دے رہے ہیں انہیں پہلے اپنے علاقوں میں شیعہ فرقے کی حالت زار اور دیگر پریشان کن معاملات کو سدھارنے کی کوشش کرنی چاہے۔
بیان میں کہا گیا کہ شیعیان کشمیر کے دینی امورات سے متعلق غیر ریاستی مولوی صاحبان اور یہاں کے چند غیر معروف سازشی عناصر کی تگ و دو کو ایک سنجیدہ عمل تصور کرکے مرکزی سرکار شیعیان کشمیر کے عزت و احترام ، جذبات اور مسلکی عقائد کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہیں جس کے منفی نتائج کی ذمہ دار خود مرکزی سرکار ہوگی ۔
بیان میں زور دیکر کہا گیا کہ موقوفات کی شرعی حثیت کو زک پہنچانے کے کسی بھی اقدام کے خلاف شدید رد عمل ہوگا اور موقوفات کی شرعی حثیت کو نقصان پہنچانے کی کوئی بھی کاروائی شیعیان کشمیر کے لئے ناقابل برداشت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲