20 مئی 2021 - 12:51
دنیا میں ویکسین اپارتھائیڈ/ اسلامی جمہوریہ ایران پورے مشرق وسطی کو کورونا ویکسین دے سکتا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران ان ملکوں میں سے ایک ہے جنہیں اس عرصے میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ امریکہ اور یورپ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، ایران ضرورت بھر کی دوائیں اور ویکسین ایمپورٹ نہیں کر سکتا۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دنیا میں کورنا (کوویڈ ۔19) کی وباء کے پھیلاؤ کے بعد دنیا کے تمام ممالک اس بیماری میں مبتلا ہوئے اور کثیر تعداد میں لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ منہ دھو بیٹھے۔ تاحال 164 ملین افراد دنیا میں اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور ان سے تقریبا 3/5 ملین مر چکے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران ان ملکوں میں سے ایک ہے جنہیں اس عرصے میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ امریکہ اور یورپ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں، ایران ضرورت بھر کی دوائیں اور ویکسین ایمپورٹ نہیں کر سکتا۔
لیکن ایران کے جوان سائنسدانوں اور استقامت اور پائیداری کا جذبہ رکھنے والے اس ملک کے عوام نے نہ صرف کورونا وائرس کے مقابلے میں شجاعت کا مظاہرہ کیا اور اس مرحلے سے خود کو بچا کر آگے بڑھے بلکہ ملک پر تمام تر پابندیوں کے باوجود مشرق وسطیٰ میں کورونا کی ویکسین کی پیداوار میں اہم کردار ادا کیا اور اس میدان میں مرکزیت حاصل کی۔
یہ ایسے حال میں ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل نے دنیا میں کورونا ویکسین کی تقسیم کو غیرعادلانہ قرار دیا اور اسے "Apartheid vaccine" کا نام دیا۔
ٹیڈروس اذانوم نے کوویڈ ۔19 ویکسین بنانے والوں سے شیڈول سے پہلے "کویکس پروگرام" کے لئے تیار کردہ ویکسین کی خوراکیں مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اور امیر ممالک کو کہا ہے کہ "بچوں کو ویکسین کرنے کے بجائے غریب ممالک کو ویکسین فراہم کی جائے۔"

* ایران مشرق وسطی کو ویکسین فراہم کرسکتا ہے
محترمہ ڈاکٹر "مینو محرز" نے ایران میں تیار کی جانے والی ویکسین کی تازہ ترین صورتحال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایران کی ویکسین ٹرائل انجکشن کے تیسرے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اس مرحلے میں بیس ہزار افراد کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا: فی الحال یہ سلسلہ تہران سے شروع ہو گا اور پھر اصفہان، شیراز اور بوشہر میں ایرانی ویکسین کے ٹیکے لگائے جائیں گے اور اس کے مثبت نتائج سامنے آنے کی صورت میں ملک کے تمام شہریوں کو انجکشن کرائے جائیں گے۔
ایران کے قومی اینٹی کورونا ہیڈ کوارٹر کی رکن ڈاکٹر نے اس سوال کے جواب میں کہ "اگر ایرانی ویکسین بڑے پیمانے پر پیدا ہوتی ہے تو کیا ہم اسے ہمسایہ ممالک کو مہیا کرسکتے ہیں؟" انہوں نے جواب میں کہا: "بین الاقوامی نگرانی کے مراکز سے اجازت حاصل کرنے کے بعد ، ہم اسے کسی بھی ایسے ملک میں بھیج سکتے ہیں جو ہم سے ویکسین کی ڈیمانڈ کرے گا۔" یہاں تک کہ ایران میں مشرق وسطی کے تمام ممالک کو ویکسین فراہم کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

محترمہ محرز نے اس سوال کے جواب میں کہ ایران میں تیار کی جانے والی ویکسین کس طرح کے کورونا وائرس کے مقابلے میں موثر ہو سکتی ہے؟ کہا: ایرانی ویکسین برطانوی کورونا وائرس کے خلاف ضروری مزاحمت رکھتی ہے لیکن دوسری نوعیت کے وائرس جیسے انڈین وائرس یا افریقن فائرس کے مقابلے میں یہ کتنی موثر ہے اس کے لیے ابھی ہمیں ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

* ایران میں تیار کردہ کورونا ویکسین کا پیکیج اکتوبر میں تیار ہو گا
دریں اثنا ، اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر برائے سائنس و ٹکنالوجی کے بائیوٹیکنالوجی ہیڈ کوارٹر کے سکریٹری نے بھی اس بارے میں کہا: رواں سال اکتوبر میں ملک میں کورونا ویکسین کی گھریلو پیداوار کا ایک اچھا پیکیج فراہم کیا جائے گا ، جسے بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر مصطفی قانعی نے مزید کہا: " ایران میں دواؤں کی پیداوار کے میدان میں کوئی مشکل نہیں پائی جاتی اور حکومتی اور عوامی حمایت سے اس سال اکتوبر کے مہینے میں کورونا ویکسین کا ایک اچھا پیکیج سامنے آئے گا۔

..........

242