2 اپریل 2021 - 11:39
ریاستی اداروں کو کسی بھی شہری کے قانونی حقوق سلب کرنے کا حق حاصل نہیں: علامہ امین شہیدی

کوئی بھی محبِ وطن اورذی شعورپاکستانی یہ نہیں چاہتاکہ مجرم کی پکڑنہ ہو۔اگرکوئی مجرم ہےتواسےعدالتوں میں تمام شواہدکےساتھ پیش کیاجائےاورجرم ثابت ہونےپرسزابھی دی جائے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار شیعہ مسنگ پرسنزکمیٹی کی جانب سےآج ملک بھرمیں مسنگ پرسنزکی بازیابی کےلئےباقاعدہ احتجاج کاآغازہورہاہے۔اس حوالہ سےامتِ واحدہ پاکستان کےسربراہ علامہ محمدامین شہیدی نےاپنےایک پیغام میں کہاہےکہ ہم سب کواس معاملہ کےحل کےلئےمسنگ پرسنزکےخانوادوں کابھرپورساتھ دیناچاہیے۔پاکستان اسلامی جمہوریہ ہےاوراس نام سےظاہرہوتاہےکہ یہاں جمہوری نظام ہے۔جمہوریت کاجوتصوردنیامیں رائج ہےاس کےمطابق ایک ایسامعاشرہ جہاں قانون کی حاکمیت ہونی چاہیےاورہرانسان کوشخصی آزادی کےساتھ زندگی گزارنےکاحق حاصل ہوناچاہیے۔تمام اداروں کواپنےدائرہ کارمیں رہتےہوئےفرائض کی انجام دہی کرنی چاہیے، لیکن ایک عرصہ سے دیکھنے میں آرہاہےکہ پاکستان میں بےگناہ انسانوں کواُٹھالیاجاتاہے،غائب کردیاجاتاہے۔والدین ان کی راہ تکتےتکتےیاتوبینائی سےمحروم ہوجاتےہیں یادنیاسےرخصت ہوجاتےہیں۔لیکن ان بچوں کواُٹھانےوالےظالموں کورحم نہیں آتااورنہ وہ انسانیت کامظاہرہ کرتےہیں۔نتیجتاکچھ لوگ مرجاتےہیں،کچھ رہاکردیےجاتےہیں لیکن نیم مردہ حالت میں۔ کچھ کومارکرپھینک دیاجاتاہےاورکچھ کوپیسےبٹورکراوران کےبینک اکاؤنٹس خالی کرادیےجاتےہیں،یاپھران کی گاڑیاں چھین کرکسی کیس میں ملوث کرکےپولیس کےحوالہ کردیاجاتاہے۔اس قسم کی شکایتیں مسلسل ہیں اوریہ سب انسانیت،قانون پسندی یاجمہوریت نہیں بلکہ فرعونیت،ظلم،ابوجہل کی صفات اوریزیدیت ہے۔یہ حب الوطنی کی آڑمیں ملک دشمنی ہے۔
کوئی بھی محبِ وطن اورذی شعورپاکستانی یہ نہیں چاہتاکہ مجرم کی پکڑنہ ہو۔اگرکوئی مجرم ہےتواسےعدالتوں میں تمام شواہدکےساتھ پیش کیاجائےاورجرم ثابت ہونےپرسزابھی دی جائے۔اگریہ مطالبہ کیاجائےتوجواب آتاہےکہ ہماری عدالتیں مجرموں کوسزانہیں دیتیں۔اس کامطلب یہ ہواکہ آپ کانظام کرپٹ اورریاستی ڈھانچہ دیمک زدہ ہےلہذااس کی اصلاح کیجئے۔اس طرح بےگناہ جوانوں کواُٹھایاجاناقابلِ قبول نہیں۔اس سےمعاشرہ کی اصلاح ہوگی اورنہ ہی ملک پُرامن ہوگااورنہ اس سےبائیس کروڑعوام کوفائدہ ہوگاسوائےچندبلیک میلرزکے۔
مسنگ پرسنزکامعاملہ انتہائی سنجیدگی سےدیکھنےکی ضرورت ہے۔ان کےخانوادےاپنےگمشدہ پیاروں کےمنتظرہیں۔وہ بےگناہ ہیں،ہمیں ان کاساتھ دیناچاہیے۔وہ اُس وقت تک بےگناہ ہیں جب تک کوئی پاکستانی معتبرعدالت انہیں مروجہ قانون کےمطابق اوربغیرکسی دباؤکےمجرم قرارنہ دے۔کسی کویہ حق حاصل نہیں ہےکہ ان کو مجرم بناکران کی لاشیں ان کےگھروں پربھیج دے۔ اس مسئلہ کودانشمندی سےحل کرنےکی ضرورت ہے۔ہماراریاستِ پاکستان سےمطالبہ ہےکہ تمام بےگناہ افرادکوفوری اوربغیرکسی شرط کےرہاکیاجائے۔اگر کسی پرشک ہےاوراس کےخلاف ثبوت ہےتواسےعدالت میں پیش کیاجائےورنہ یہ بےچینی اوراضطراب پھیلتاچلاجائےگااوریہ ملک کےمفاد میں نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۲۴