23 مارچ 2021 - 12:03
مولانا محمد موسوی کے حکم کی تعمیل میں درسگاہ باقریہ کی تعمیر ہوئی: مولانا حسین عباس ترابی

ہم دین کو دنیا سے الگ کرکے دیکھتے ہیں جبکہ دین کے تمام احکامات کی تائید آج کی سائنس اور ٹکنالوجی بھی کرتی نظر آتی ہے۔ نماز کے بےشمار فائدے ہیں اسی طرح روزہ سے کینسر تک کا علاج ممکن ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ درسگاہ باقریہ میں"جلسہ تعلیمی مظاہرہ وتقسیم انعامات" کے عنوان سے"حسینہ افسر جہاں بیگم ، بنجاری ٹولہ گولڈن ٹی سینٹر، اکبری گیٹ ، چوک لکھنؤمیں ایک پروگرام منعقد ہوا ۔ جناب ولی عباس نے تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز کیا ۔ نظامت کے فرائض شان لکھنوی نے انجام دیئے ۔جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے جسٹس شبیہ الحسنین نے کہا کہ علم دین و دنیا دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں بلکہ ہر وہ علم جو خدا کی خوشنودی اور انسانیت کی خدمت کی غرض سے حاصل کیا جائے وہ عبادت ہے۔ ہم دین کو دنیا سے الگ کرکے دیکھتے ہیں جبکہ دین کے تمام احکامات کی تائید آج کی سائنس اور ٹکنالوجی بھی کرتی نظر آتی ہے۔ نماز کے بےشمار فائدے ہیں اسی طرح روزہ سے کینسر تک کا علاج ممکن ہے۔
اس سے قبل درسگاہ باقریہ میں مختلف درجات کے بچوں نے تعلیمی مظاہرہ پیش کیا جس میں محترمہ عینی زہرا نے ماں باپ کے مر تبہ پر روشنی ڈالی ،محترمہ گل فاطمہ ، محترمہ مر یم نقوی ، محترمہ کسازہرا نے نہج البلاغہ سے کلامات قصار پیش کیے ۔ جناب علی عالم نے علم کی اہمیت ہندی تقریر کی جناب علمیر حسین نے غسل کے احکا م بیان کیے ۔ جناب محمد علی ، جناب لایب ، جناب کیہان ، جناب زینل نے محنت و مشقت پرنظم پیش کی ۔ محترمہ مصباح فاطمہ ، محترمہ مریم فاطمہ ، محترمہ ذہین فاطمہ ، محترمہ انمتافاطمہ ، محترمہ علیزا فاطمہ نے "میں ایک شیعہ بچہ ہوں " نظم پیش کی ۔ منتشا رضوی اور زہرا رضوی نے "علم کی اہمیت " اور طریقہ دعا" انگریزی میں تقریر کی ۔ ام لیلیٰ نے شمس تبریزی کی نظم "علی بود" نظم پیش کی  جسے حاضرین نے بہت پسند کیا اور بچوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
مولاناحسین عباس ترابی نے درسگاہ باقریہ کی تعلیمی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ سید علی الحسینی سیستانی مرجع وقت کے نمائندہ خاص مولانا سید محمد موسوی نجفی ہاؤس کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے یہ درسگاہ باقریہ فروری 1987 سے مسلسل تیس سالوں سے بھی زیادہ مدت سے اپنی دینی خدمات انجام دے رہی ہے۔ 1994 سے یہ درسگاہ باقریہ تنظیم المکاتب سے الحاق ہوئی ۔ جس میں ہر سال امتحان تنظیم المکاتب کی جانب سے لیا جاتا ہے جس میں یہاں کے بچوں نے صوبائی اور کل ہند میں امتیازی مقام حاصل کیا۔
 آخر میں مختلف درجات میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلاب کو جسٹس شبیہ الحسنین کے ہاتھوں خصوصی انعام اور میڈل دیا گیا اور درجہ پنجم سے فارغ التحصیل ہونے والی پانچ طالبات محترمہ ام لیلیٰ، محترمہ صدف فاطمہ، محترمہ ردا فاطمہ، محترمہ مریم نقوی اورمحترمہ روشنی فاطمہ کو بھی اسناد اور ٹرافی بھی دی گئی۔ آخر میں درسگاہ کے منتظم مولانا محمد عباس ترابی نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔
پروگرام میں مولانا محمد شاہد جناب انجینئر اخلاق حسین ، جناب میثم جعفر اجتھادی ،جناب جعفر عباس (سیف ) ،جناب محمد نبیل ،جناب سید رضوی سعید ، جناب حسن عباس، جناب سید محمد سعید زیدی ، جناب تقی حیدر رضوی ، جناب انیس عباس کے علاوہ طلبہ و طالبات کے والدین اور کثیر تعداد میں دیگر افراد موجود تھے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲