اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دشمن نے گذشتہ کئی صدیوں سے مسلم اقوام - بالخصوص شیعیان اہل بیت(ع) - کی بیداری کا سد باب کرنے کے لئے کس اوزار کو سب سے زیادہ استعمال کیا اور اب جبکہ اسلامی انقلاب اس رکاوٹ سے گذرنے کے بعد، پھل دینے لگا ہے، تو کیا دشمن نے اس اوزار کو بالائے طاق رکھا ہے اور اسے مزید بروئے کار نہیں لاتا؟ اس سوال کا جواب گذشتہ جمعرات کو، پیغمبر اعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے جشن بعثت کے سلسلے، مقام معظمِ ولایت، حضرت امام خامنہ ای (ادام اللہ ظلہ) کے نشری خطاب میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔
1۔ امام خامنہ ای (ادام اللہ ظلہ) نے اسلامی حکومت کے قیام کی ضرورت پر زورد دیا اور اس ضرورت کو رائج نعروں کے ذریعے نہیں بلکہ ایسے اصولوں سے استناد کرکے بیان کیا، جنہیں کسی بھی منطقی اور علمی نگاہ کے ذریعے رد نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے کلام اللہ سے استناد کرکے ابتداء میں "حیات طیبہ" کو بعثت انبیاء کا مقصد قرار دیا اور حیات طبیہ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا:
"اس حیات طبیہ سے مراد کیا ہے؟ حیات طیبہ کا مطلب ایک طرف سے انسانی عقل اور انسانی علم کی نشوونما اور دوسری طرف سے انسانی کی روحانی آسائش، انسان کی مادی آسائش، انسان کی زندگی کے ماحول کی سلامتی، انسان کی فلاح و بہبود اور خوشحالی اور ان سے بالاتر انسان معنوی نشوونما اور انسان کا روحانی عروج ہے"۔
آپ نے بعدازاں ان اہداف کو بہت عظیم قرار دیا اور انہیں عملی جامہ پہنانے کے سلسلے میں فرمایا: "اگر نبی اسلام، نبی حق، اللہ کا رسول نے، کسی بھی دور میں ان اہداف کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ کیا تو ان کو لامحالہ ان اہداف کے تناسب سے معاشرتی روابط قائم کرنا پڑیں گے۔ دوسری بات سیاسی اقتدار ہے، یعنی ان سماجی روابط کو ایسا شخص قائم نہیں کرسکتا جو گوشہ نشین ناصح کا کردار ادا کرتا ہے اور صرف لوگوں کو نصیحت کرتا ہے۔ اس کے لئے طاقت کی ضرورت ہے، سیاسی اقتدار کی ضرورت ہے"۔
2۔ دوسرے لفظوں میں، - مذکورہ توصیف کی روشنی میں - "حیات طیبہ" کی فراہمی، صرف اللہ کے فرامین و ارشادات کے نفاذ کے ذریعے، - جنہیں اسلامی قوانین میں ملحوظ رکھا گیا ہے - ممکن ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس نسخے پر عمل کیے بغیر، حیات طیبہ کی توقع بےجا ہوگی اور بےفائدہ ہوگی۔ کیونکہ اگر شفابخش نسخے کے مطابق دوا کی فراہمی اور اور معینہ مدد تک استعمال کو نظر انداز کیا جائے تو وہ شفابخش نہ ہوگا۔
3۔ لیکن اللہ کے فرامین اور اسلام کے حیات بخش قوانین - گذشتہ صدیوں کے دوران ظالم و جابر حکمرانوں اور بعض سادہ اندیش مبلغین کے برعکس - محض فردی اور شخصی قوانین ہی نہیں ہیں اور صرف وضو، غسل، طہارت و نجاست وغیرہ تک محدود نہیں ہیں۔ احوال شخصیہ و فردیہ کے سلسلے میں اللہ کے احکام اٹل اور ناقابل تنسیخ ہیں، اور ان سے غفلت جائز نہیں ہے کیونکہ انہیں ترک کرنا، اسلام سے دوری کا سب بنتا ہے، لیکن اسلامی احکام ان فردی اور شخصی امور تک محدود نہیں ہیں۔
4۔ حضرت امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) فرمایا کرتے تھے: "آپ پچاس سے زیادہ فقہی کتب کو دیکھتے ہیں، جن میں سے سات یا آٹھ کتابیں عبادات کے بارے میں ہیں اور باقی کتب سیاسیات، سماجیات اور اجتماعیات وغیرہ سے تعلق رکھتی ہیں"۔ (3 فروری 1979ء)
نیز خمینی کبیر ہی نے فرمایا: "[دشمنان اسلام نے] تاریخ کے دوران، تقریبا 300 برس سے اس قدر [مسلم] اقوام اور علمائے مسلمین کے ذہن نشین کروایا ہے، کہ تمہیں سیاست میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہئے، یہاں تک کہ ان بزرگوں نے ان چیزوں بھی مان لیا تھا۔ اگر کسی ایسے سیاسی مسئلے میں یہ لوگ مداخلت کرنا چاہتے، جو امت کے مفاد ہوتا تھا، تو علماء ہی کا ایک طبقہ اٹھ کر کہہ دیتا تھا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے، اس سے ہمارا کیا تعلق؟ علماء ایک طرف ہوکر بیٹھ گئے تھے، یعنی حکمرانوں نے انہيں ایک طرف بٹھا لیا تھا۔ انہیں باور کرایا تھا کہ علماء کو جاکر صرف شرعی مسائل ہی بیان کرنے کا حق حاصل ہے؛ وہ بھی صرف بعض مسائل، تمام مسائل نہیں، [کیونکہ] تمام مسائل ہوں تو فقہی کتب کے زیادہ تر مسائل سیاسی ہیں"۔ (11 جولائی 1980ء)
5۔ اب ہم امام خمینی اور امام خامنہ ای کے کلام میں اس تقدیر ساز اور بہت بدیہی اور مسلمہ نکتے پر پہنچتے ہیں کہ:
الف: حیات طیبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے اللہ کے احکام اور اسلام کے قوانین کو نافذ کرنا چاہئے؛
ب: اللہ کے احکام اور اسلام کے قوانین کے نفاذ کے لئے سیاسی اقتدار "یعنی اسلامی حکومت" کی ضرورت ہے۔
بعض لوگ اور بعض تفکرات کے مروجین - جو حضرت بقیۃ اللہ (ارواحنا فداہ) کی غیبت کے زمانے میں اسلامی حکومت کے قیام کی نفی کرتے ہیں وہ درحقیقت - چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے، اللہ کے احکام اور اسلام کے قوانین، - اور مزید واضح الفاظ میں - دین اسلام کی نفی کر رہے ہیں اور اس گمراہانہ اعتقاد کو فروغ دے رہے ہیں، کہ "انسانوں کو عصر غیبت میں اسلام کی ضرورت نہیں ہے؛ اور امام زمانہ (علیہ السلام) کے غائب ہونے کے بعد اسلام کی بساط کو لپٹنا چاہئے"؛ کیا ایسا نہیں ہے؟ کیا اسلام صرف شخصی اور فردی احوال تک محدود ہے جو اگر انجام پائیں تو بس انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت اور ائمۂ ہدایت (علیہم السلام) کی امامت کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے؟ جو لوگ اس عقیدے پر ہیں، یقینا ان کا یہ عقیدہ جو بھی ہو، یقینا اسلام نہیں ہے! یہ نظریہ اگرچہ ایران میں "انجمن حجتیہ" کے نام پر ثبت ہؤا ہے لیکن یہ ماجرا اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے کہ اسے ایک ناچیز جماعت کی قلمرو میں محدود کیا جا سکے۔ (اس موضوع کے لئے الگ سے تفصیلی قلم فرسائی کی ضرورت ہے)۔
6۔ اللہ کے کلام میں عدل و انصاف کے قیام کو انبیائے الہی کی بعثت انبیاء کا مقصد قرار دیا گیا ہے:
"لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ؛ ہم نے اپنے رسولوں کو کھلی ہوئی دلیلوں کے ساتھ بھیجا اور اتارا ان کے ساتھ (آسمانی) اور توازن و اعتدال (اور حق کو باطل سے تمیز دینے اور عادلانہ قوانین کی شناخت) کے معیار کو تا کہ لوگ عدالت وانصاف کو قائم کریں"۔ (حدید، 25)
یقینی امر ہے کہ جب طے ہو کہ اس نسخے کو نافذ کیا جائے، اور یہ نسخہ عدل و انصاف کے قیام کو اپنا مقصد بنائے، تو استکباری طاقتیں، اور وہ تمام لوگ اور قوتیں جو اپنی دنیا کو اقوام عالم کی لوٹ مار میں دیکھتی ہیں اور اس اور اپنی اس دنیا کے حصول کے لئے کسی بھی جرم، کمینگی، سفلگی سے دریغ نہیں کرتیں، اپنی قوت کے ساتھ اس نسخے اور اس کی اساس پر قائم کردہ الہی حکمرانی کے مد مقابل اٹھ کھڑی ہوتی ہیں، اس سے دشمنی کرتی ہیں اور اس کا مقابلہ کرتی ہیں۔
امام خامنہ ای نے یوم بعثت کے موقع پر اپنے خطاب میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ "اس دین، اس نگاہ کے ساتھ، دشمنی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے؛ تمام ادوار میں دنیا بھر کے اشرار نے اس قسم کے دین کی مخالفت کی ہے۔ اب اگر وہ اس عظیم قلمرو اور اس عظیم منطقے کو شخصی مسائل تک گھٹا دینے، یا دین کے مد مقابل اعلانیہ موقف اختیار کرنے کے بارے میں تو ارشاد ہؤا ہے کہ "وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ؛ (فرقان، 31) یعنی کہ ہر نبی کے کچھ دشمن تھے جو مجرمین، گنہگاروں اور عالمی اشرار میں سے تھے"۔ اور امام خامنہ ای نے مزید فرمایا: "آپ آج بھی دیکھ رہے ہیں کہ دشمن کی تشہیری مہم میں "سیاسی اسلام" کا تذکرہ [مسلسل سنائی دے رہا اور دکھائی دے رہا] ہے؛ سیاسی اسلامی یہی ہے جس کو ایران کے اسلامی نظام میں عملی جامہ پہنایا گیا ہے - کہ اس کے بارے میں آگے چل کر میں اشارہ کروں گا اس عظیم حرکت و اقدام کی طرف، جو حضرت امام خمینی (رضوان اللہ تعالی علیہ) نے انجام دیا - اور [ہاں] ان کے حملوں کا اصل نشانہ "سیاسی اسلام" ہے؛ سیاسی اسلام، یعنی یہی اسلام جو حکومت قائم کرکے، مختلف ادارے، اقتصادی، معاشرتی، سیاسی اور عسکری نظامات قائم کرے اور ایک ایک دینی اور اسلامی تشخص کو قوم و ملت کے لئے معرض وجود میں لائے؛ یہ وہی چیز ہے جو دین کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔ اس کی سطح کو کو چھوٹی چھوٹی چیزوں تک، یا [حتی کہ] محض عبادی اعمال تک گھٹایا نہیں جاسکتا"۔
7۔ معاصر تاریخ کے سرسری اور منصفانہ جائزے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے "سیاسی اسلام یعنی خالص اور کھرے اسلام سے جنم لیا ہے"؛ یہ واحد حکومتی نظام ہے جس نے قابِلِ تَقلِيد و لائِق سَتائِش انداز سے میدان میں اپنے جماؤ کو ثابت کرکے دکھایا ہے اور اس نے نہ صرف اپنے قومی مفادات، جغرافیائی سالمیت اور عوام کی عزت و شرافت کا تحفظ کیا ہے بلکہ - حتی جُغ سیاسی پیش گو (Geopolitical forecaster) جارج فریڈمین (George Friedman) کے قول اور دستاویزی رپورٹ کے مطابق -، "سیاسی اسلام نے اسلامی جمہوریہ ایران کو علاقے کی سب سے بڑی عسکری اور سائنسی طاقت کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے۔ حالانکہ سابقہ [اسلامی انقلاب سے پہلے کے] حکمرانوں میں سے ہر ایک نے ایران کا ایک ٹکڑا دشمنوں کے سپرد کیا تھا اور ایران کو بڑی طاقتوں کے ادنیٰ مُلازم میں تبدیل کر دیا تھا"۔
یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ معاصر [حالیہ] تاریخ میں سیاسی اسلام کے قائل علماء (یعنی اسلام کے تمام پہلؤوں کے ملحوظ رکھتے تھے) : جیسے میرزائے شیرازی [آیت اللہ سید حسن شیرازی یا شیرازیِ بزرگ]، شہید شیخ فضل اللہ نوری، شہید سید حسن مدرس، آیت اللہ محمد تقی نجفی اصفہانی، آیت اللہ محمد مجتہد، آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی وغیرہ، میں سے ہر ایک اپنی طاقت اور اثر و رسوخ کی حد تک لٹیرے اور خونخوار دشنوں کی راہ میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔ لیکن یہ اکابرین چونکہ صاحب اقتدار نہیں تھے، اگرچہ تاریک راتوں میں نورانی نقطے تھے، مگر ان کے اثر و رسوخ کا دائرہ محدود تھا۔ یہ نورانی نقطے اسلامی انقلاب میں لکیر میں تبدیل ہوئے؛ اور نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
8۔ اب بالکل وضوح کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے کہ استکباری اور سامراجی قوتیں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے ساتھ ہی ہر طرف سے اور پوری طاقت سے اس کے مقابلے پر کیوں اتر آئیں اور وہ غیر سیاسی اسلام کی ترویج پر کیوں اصرار کررہی ہیں، اور ایسی فقہ کو کیوں حقیقی تشیّع کے طور پر پیش کررہے ہیں جو سیاسی اور معاشرتی مسائل سے بالکل بیگانہ ہو؟! اسلامی جمہوریہ ایران کو انقلاب اسلامی کی کامیابی کے پہلے دن سے ہی چھوٹی اور بڑی طاقتوں کی مختلف النوع سازشوں، کا سامنا کرنا پڑا ہے اور آج بھی کرنا پڑ رہا ہے؛ معاصر دور کے انقلابی شاعر آقا مرتضی آخرتیؔ کے بقول:
آستین جب چڑھا دی آپ کی خاطر
کمر سے خون کی تشنہ شمشیریں نکل آئیں
9۔ اور آخرکار یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ گوکہ مطلوبہ ہدف تک ابھی نہیں پہنچے ہیں لیکن نقطۂ آغاز سے اب تک، ہم نے بہت بڑے قدم اٹھائے ہیں اور بہت سے شعبوں میں مُعجزانہ ترقی کی ہے اور بہت سے شعبوں میں ترقی کی چوٹیوں تک پہنچے ہیں؛ وہ بھی ایسے حال میں کہ ہم ہر طرف سے دشمن کے نہایت بھاری اور مسلسل حملوں کا سامنا کررہے ہیں۔ جو لوگ عناد یا غفلت کی بنا پر دعوی کرتے ہیں کہ اسلامی انقلاب گذر ایام کے ساتھ پھیکا پڑ گیا ہے! تو:
الف: انہیں پہلے اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ اگر اسلامی انقلاب پھیکا اور بےاثر ہؤا ہے تو دشمن کے حملوں اور بغض و دشمنی میں ہر روز اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ اور یہ حملے ہر روز شدید تر اور سریع تر کیوں ہورہے ہیں؟ اور کینہ پرور اپنے حملوں میں اس قدر عجلت زدگی کا شکار کیوں ہے؟
ب: اور انہیں اسلامی جمہوریہ کے نقطۂ آغاز اور موجودہ صورت حال کے درمیان ایک موازنہ کرنا پڑے گا اور دیکھنا پڑے گا کہ ہم 42 سال کس مقام پر تھے اور آج 42 سال بعد کس نقطے پر آ کھڑے ہوئے ہیں، ہم نے یہ فاصلہ کس انداز سے طے کیا ہے اور ہماری حصولیابیوں کی حد کہاں تک ہے؟
بہرصورت یہ قصہ کافی طویل ہے لیکن اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ہماری موجودہ مشکلات - بالخصوص معاشی مسائل، بےلگام مہنگائی وغیرہ۔۔۔ - اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ تو ناہنجاریوں اور بعض شعبوں میں ناواقفوں کی غیرمطلوبہ کارکردگی اور بعض حکام کی نااہلی، اور بعض مناصب میں دوستی کا ڈرامہ رچانے والے دشمنوں کے کردار کا نتیجہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: حسین شریعتمداری، ایڈیٹر انچیف، روزنامہ کیہان
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
16 مارچ 2021 - 11:58
News ID: 1123849
بہرصورت یہ قصہ کافی طویل ہے لیکن اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ ہماری موجودہ مشکلات - بالخصوص معاشی مسائل، بےلگام مہنگائی وغیرہ۔۔۔ - اسلامی انقلاب اور اسلامی نظام کا حصہ نہیں ہیں بلکہ یہ تو ناہنجاریوں اور بعض شعبوں میں ناواقفوں کی غیرمطلوبہ کارکردگی اور بعض حکام کی نااہلی، اور بعض مناصب میں دوستی کا ڈرامہ رچانے والے دشمنوں کے کردار کا نتیجہ ہے۔