اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست جو سنیچر کو منعقد ہوئی، اس میں "جناب ابوطالب کا کردار علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے عنوان سے گفتگو کی گئی۔
اس نشست کے پہلے مقرر الذریۃ النبویۃ تحقیقاتی مرکز کے سربراہ تھے انہوں نے قرآن کریم کی آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ سورہ نساء کی آیت ۵۴، سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۹، سورہ ابراہیم کی آیت ۲۴ اور سورہ اسراء کی آیت ۸۱ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جناب ابراہیم اور ان کی نسل کی نسبت دوسروں نے حسد سے کام کیا۔
استاد منذر حکیم نے مزید کہا: سورہ بقرہ کی آیت ۲۶۹ میں «يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ» میں جو خیر کثیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ خیر کثیر وہی کوثر ہے اور کوثر سے مراد انسانوں کی وہ کثیر تعداد ہے جو دشمنان اسلام کو شکست سے دوچار کر سکتے ہیں، حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی نسل سے حضرت محمد مصطفیٰ ہیں، جناب ابوطالب ہیں اور ان کی اولاد ہیں امام علی اور حضرت زہرا کی اولاد ہیں کہ جو عالم بشریت میں زبردست اثرانداز واقع ہوئے ہیں۔
انہوں نے جناب ابوطالب کی خدمات کے حوالے سے مسلمانوں کی ذمہ داری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب ایک پورے منصوبے کے ساتھ بعثت کے زمانے سے ہی مظلوم واقع کئے گئے، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انہیں اس مظلومیت سے نکالیں۔
منذر حکیم نے مزید کہا: دو کانفرنسیں ہمارے درپیش ہیں ایک جناب ابوطالب کے حوالے سے جو اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے زیر اہتمام اگلے دنوں منعقد ہو رہی ہے اور دوسری "امناء الرسول" کانفرنس ہے جو انتہائی تاثیر گزار اور اسلامی نظام کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
حوزہ علمیہ قم کے استاد نے مزید کہا: صدام کی نابودی کے بعد استعماری طاقتوں کے مزدوروں نے عراق میں علمی ترقی کو روکنے کی کوشش کی اور حوزہ علمیہ قم اور نجف کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی اور انتھک کوشش کی کہ عالم تشیع کے ان دو بڑے علمی مراکز میں اختلاف افکنی کر کے اسلامی تہذیب کی حرکت کو روک سکیں۔ امناء الرسول کانفرنس انہیں سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے رکھی گئی ہے۔ اس کانفرنس میں "علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان" کے بارے میں گفتگو کی جائے گی، علامہ خرسان ایک اتحادی شخصیت کے مالک تھے کہ جنہوں نے عبد اللہ بن عباس پر ۲۱ جلد انسائیکلوپیڈیا تحریر کیا۔
سید منذر حکیم نے کہا: جناب ابوطالب ایک عالمی اور اتحادی شخصیت کے مالک تھے، استقامت، پائیداری، مدیریت اور وسعت نظری کو ان سے سیکھنا چاہیے۔ جناب ابوطالب کانفرنس تین روز تک ورچوئل طریقے سے منعقد ہو گی جس میں ملکی اور غیر ملکی شخصیات حصہ لیں گی جن میں شیعہ شخصیات کے علاوہ اہل سنت بلکہ عیسائیت سے تعلق رکھنے والی علمی شخصیات بھی اپنے نظریات پیش کریں گی۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲