8 مارچ 2021 - 11:10
شفیعی نیا: جناب ابوطالب کی شخصیت نبوت و امامت کی دو نسلوں پر مشتمل ہے

شفیعی نیا نے جناب ابوطالب کے حوالے سے بیان کئے جانے والے شبہات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب کی جانب سے ایسے حال میں شرک کی نسبت دی جاتی ہے کہ ان کی زندگی توحیدی آثار سے بھری ہوئی ہے۔ اگر آپ ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے اس مرد الہی کی زندگی کے گوشے گوشے میں ایمان اور توحید کے آثار نظر آتے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جناب ابوطالب (ع) بین الاقوامی کانفرنس کی اکتالیسویں علمی نشست سنیچر کو فیزیکل اور ورچوئل طور پر منعقد ہوئی۔ یہ علمی نشست جو "الذریۃ النبویۃ تحقیقی سینٹر" اور " مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کے تحقیقاتی ادارے" کے باہمی تعاون سے منعقد ہوئی اس میں "جناب ابوطالب (ع) علامہ محقق سید محمد مہدی خرسان کی نگاہ میں" کے عنوان سے گفتگو کی گئی۔
اسلامی اتحاد انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ نے پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کے استحکام میں جناب ابوطالب کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: جناب ابوطالب (ع) ایک موثر اور ممتاز شخصیت کے مالک تھے انہوں نے نبوت اور امامت کی دو نسلوں کو پروان چڑھایا اگر یہ دو نسلیں نہ ہوتیں تو دین اسلام کی کشتی آگے نہ بڑھ پاتی۔
حجۃ الاسلام و المسلمین احمد شفیعی نیا نے مزید کہا؛ رسول اکرم (ص) کے آباؤ و اجداد اور چچاؤں میں حتیٰ جناب عبد اللہ (ع) کا بھی وہ مقام نہیں ہے جو جناب ابوطالب کا مقام ہے۔ نسل سادات جو جناب سیدہ اور امیر المومنین علی علیہ السلام سے چلی ہے اور آج دنیا کے کونے کونے میں سادات موجود ہیں سب کا سلسلہ جناب ابوطالب سے جا کر ملتا ہے اور اگر آج یہ سادات سب جمع ہو جائیں تو جناب ابوطالب کے دشمنوں، اہل بیت(ع) کے دشمنوں بلکہ دین کے دشمنوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ خود جناب ابوطالب بھی ہاشمی سید تھے علوی سادات کا سلسلہ تو یقینا انہیں سے ہے۔
انہوں نے کہا: عرف عام کی نگاہ کے برخلاف ہم امیر المومنین (ع) کی نسل کو رسول خدا (ص) کی طرف نسبت دیتے ہیں اور تمام سادات کے درمیان چاہے وہ امام علی کی نسل سے ہوں، یا حضرت زہرا (س) کی نسل سے ہوں یا جناب ابوطالب کے دوسرے بیٹوں کی نسل سے ہوں کوئی فرق نہیں ہے سب ہاشمی سید ہیں۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ وہ سادات جن کا سلسلہ نسب جناب ابوطالب پر ختم ہوتا ہے وہ فاطمی سادات سے زیادہ ہیں اور ان میں اکثریت اہل سنت ہیں۔ ہمیں اس نشست کی آواز کو ان سادات کے کانوں تک پہنچانا چاہیے جو جناب ابوطالب کی نسل سے ہیں اور ان کے جد بزرگوار جناب ابوطالب پر مشرک ہونے کی تہمت لگائی جاتی ہے اور وہ خاموش ہیں جبکہ جناب ابوطالب تنہا وہ شخص تھے جو رسول اکرم کے یار و مددگار تھے۔
شفیعی نیا نے جناب ابوطالب کے حوالے سے بیان کئے جانے والے شبہات کی طرف اشارہ کیا اور کہا: جناب ابوطالب کی جانب سے ایسے حال میں شرک کی نسبت دی جاتی ہے کہ ان کی زندگی توحیدی آثار سے بھری ہوئی ہے۔ اگر آپ ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے اس مرد الہی کی زندگی کے گوشے گوشے میں ایمان اور توحید کے آثار نظر آتے ہیں۔  وہ جناب ابوطالب ہیں جنہوں نے کفار و مشرکین کے گڑھ میں پیغمبر اکرم (ص) کی رسالت کو استحکام بخشا۔ وہ ایسا دور تھا جس میں رسول اکرم کے دشمن دوستوں سے کہیں زیادہ تھے، جناب خدیجۃ اور امام علی کے سوا پیغمبر اکرم کا کوئی یاور و مددگار نہیں تھا ایسے حالات میں جناب ابوطالب نے پیغمبر اکرم کی پشت پناہی کی اور انہیں دشمنوں کے گزند سے محفوظ رکھا۔
انہوں نے مزید کہا: خداوند عالم نے سورہ ضحیٰ میں پیغمبر اکرم کو مخاطب کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ یتیم تھے ہم نے آپ کو پناہ دی اور آپ فقیر تھے ہم نے آپ کو غنی اور توانگر بنایا۔
انہوں نے کہا: ان آیات میں جناب ابوطالب کی سرپرستی اور جناب خدیجہ کے مال کی طرف درحقیقت اشارہ ہے۔ جناب ابوطالب نے اپنے قصیدہ لامیہ میں کہا کہ خدا کی قسم ان کی یہ خام خیالی ہے کہ میں ابوطالب محمد کو رہا کر دوں میں اپنا سب کچھ پیغمبر پر نثار کرنے کے لیے تیار ہوں۔
خیال رہے کہ "جناب ابوطالب(ع) حامی پیغمبر اعظم (ص) بین الاقوامی سیمینار'' اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے ذریعے اور دیگر ہم خیال اداروں منجملہ آستان مقدس حسینی، موسسہ فرھنگی تحقیقات و نشر حضرت ابوطالب، مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی، دفتر تبلیغات اسلامی، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، مرکز آموزش زبان حوزہ ہائے علمیہ، اہل بیت(ع) انٹرنیشنل یونیورسٹی، موسسہ فرہنگی میراث نبوت، جامعۃ الزہرا(س)، الذریہ النبویہ تحقیقی سینٹر، موسسہ فرہنگی قاسم بن الحسن(ع)، موسسہ فرہنگی ابناء الرسول، وغیرہ کے باہمی تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے۔
سیمینار کے بارے میں مزید جانکاری کے لیے فارسی، عربی، انگریزی اور اردو کے پوسٹرز کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں۔