1 اکتوبر 2020 - 17:40
فلسطینی مزاحمت اور بحرینی اپوزیشن کے راہنماؤں کی ملاقات

ایک لبنانی اخبار کے مطابق، حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ سمیت فلسطینی راہنماؤں نے بیروت میں بحرینی اپوزیش جماعتوں کے سربراہوں سے ملاقات اور بات چیت کی ہے۔

 اہل البیت(ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، فلسطینی مزاحمت کے راہنماؤں نے خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ ساز باز کی لہر کی مذمت پر اکتفا نہ کرتے ہوئے، "محاذ ذلت" کے مد مقابل عملی اقدامات کا آغاز کرتے ہوئے، پہلے مرحلے میں بحرین کے انقلابی راہنماؤں سمیت بحرینی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی ہے۔
لبنانی روزنامے "الاخبار" نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ گذشتہ ہفتے بحرینی اپوزیشن راہنماؤں نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں حماس، جہاد اسلامی، آزادی فلسطین کے عوامی محاذ (الجبهة الشعبية لتحرير فلسطين [PFLP])، فتح محاذ اور تنظیم آزادی فلسطین (PLO) کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کی ہے۔
بحرین کی 14 فروری الائنس کے ایک ذریعے نے الاخبار کو بتایا کہ حماس کے راہنما "ڈاکٹر اسماعیل ہنیہ" نے اس الائنس کے راہنماؤں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے فلسطینی قوم کے ساتھ بحرینی قوم کی یکجہتی پر مبنی موقف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اسماعیل ہنیہ نے اسلامی دنیا کو علاقے میں یہودی منصوبے کے مد مقابل متحدہ ملی اور اسلامی موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اسماعیل ہنیہ نے بحرین کی بڑی سیاسی جماعت جمعیۃ الوفاق کے ایک وفد سے بھی ملاقات اور بات چیت کی ہے۔
الاخبار کے مطابق، بحرینی راہنماؤں نے جہاد اسلامی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر زیاد النخالہ کے ساتھ بھی ملاقات کی ہے اور مسلمانان عالم سے مخاطب ہوکر اسلامی امت کے بنیادی مسائل ـ بشمول فلسطین ـ اور تحفظ مقدسات کی خاطر شیعہ اور سنی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا؛ اور صہیونیت کو پورے عالم اسلام کا دشمن قرار دیا۔
14 فروری الائنس کے ایک راہنما "ابو زینب" نے الاخبار کو بتایا کہ یہ یہ ملاقاتیں خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی طرف سے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی طرف ذلت آمیز مسابقت کا سنجیدہ مقابلہ کرنے کا نئے مرحلے کا حصہ ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام کو آل سعود اور آل خلیفہ کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود یہ بیدار اور انقلابی قوم مسئلۂ فلسطین کو پوری امت کا اہم ترین بنیادی مسئلہ سمجھتی ہے اور اس کے سلسلے میں اپنے دینی اور ملّی فرائض سے پہلو تہی نہیں کرتی۔
واضح رہے کہ امارات پر مسلط قبیلے آل نہیان اور بحرین پر قابض آل خلیفہ قبیلے نے حال ہی میں یہودی ریاست کے ساتھ سازباز کرکے کچھ معاہدوں پر دستخط کئے ہیں اور کچھ دوسری عرب حکومتیں بھی ایسے ہی معاہدوں پر دستخط کرنے کے لئے پر تول رہی ہیں۔
ایران، لبنان، بحرین اور فلسطین میں مذکورہ معاہدوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110