30 ستمبر 2020 - 15:12
یمن کے پابرہنہ مردوں نے سعودی اتحاد کو مغلوب کر دیا/ سعودی عرب اسرائیل کے ہاتھوں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا

سعودیوں اور یمنیوں کے درمیان گفتگو انجام پائی اور طے پایا کہ آزمائشی طور پر سات دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ جنگ بندی کے بعد سعودی اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ وہ دوبارہ جنگ جاری رکھنے پر قادر نہیں ہیں لیکن امریکیوں، انگریزوں اور صہیونیوں نے جب دیکھا کہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے تو وہ فورا سعودی عرب کو دوبارہ اکسانے کے لیے ریاض پہنچ گئے اور اور اپنی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ جنگ بندی نہیں ہو چاہیے، آخر کار ان کی طرف سے حمایت کے وعدوں کی بنا پر سعودی عرب نے جنگ شروع کر دی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ بین الاقوامی امور میں پارلیمانی اسپیکر کے معاون خصوصی حسین امیر عبداللھیان نے تہران میں منعقدہ "یمن کی رات" کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: مجھے اس بات پر ذرہ برابر بھی شک نہیں ہے کہ یمن کے عوام اپنی استقامت اور پائیداری کو جاری رکھتے ہوئے دشمن پر کامیابی حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا: امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کے ساتھ اپنی ملاقات کا واقعہ میں یہاں پر پیش کرتا ہوں، جب میں وزارت خارجہ میں یمن سے متعلق کرسی پر تھا۔ عادل الجبیر نے امریکہ میں یمن کے مظلوم عوام کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ یہ انتہائی عجیب بات تھی کہ کسی ملک کا سفیر دوسرے ملک کے خلاف کسی فوجی اعلیٰ عہدیدار کی جگہ، جنگ کے آغاز کا اعلان کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: کچھ ہی عرصہ بعد عادل الجبیر سعودی عرب کے وزیر خارجہ منتخب ہو گئے اور جنگ شروع ہونے کے دو ہفتے بعد جدہ میں ایک کانفرنس کے دوران عادل الجبیر سے ہم نے علاقائی موضوعات پر گفتگو کی۔ عادل الجبیر اپنی دم کے ساتھ ہاتھ نہیں لگانے دے رہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ سعودی عرب اس قدر طاقتور ہے کہ چند دنوں میں یمن اس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ اور وہ بھی سعودی عرب اکیلا نہیں بلکہ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کی حمایت سے تو چند دنوں میں اس کا کام تمام کر دے گا۔ میں نے ان سے کہا کہ یمن کا راہ حل جنگ نہیں ہے اور آپ دیکھ لینا کہ آپ جنگ میں شکست سے دوچار ہوں گے۔ انہوں نے پورے غصے کے ساتھ مجھ سے کہا کہ ہم حوثیوں کو تین ہفتے کے اندر اندر نابود کر دیں گے اور دوبارہ اس بات کو دھرا کر کہا کہ ہم انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، میں مسکرا کر بولا کہ جناب وزیر دیکھ لیں گے آئندہ کیا ہوتا ہے لیکن آپ غلط کر رہے ہیں۔
امیر عبد اللھیان نے کہا: کچھ مہینے گذر گئے ابھی یمن پر سعودی اتحاد کی پہلی برسی نہیں آئی تھی کہ ایک دن میں دفتر میں بیٹھا ہوا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مجھے فون کیا۔ اور کہنے لگے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپنے ایک آدمی کو خفیہ طور پر تہران بھیجیں اور یمن کے معاملے پر آپ سے گفتگو کریں۔ میں نے ان کی اس خواہش کو اپنے ملک کے اعلیٰ عہدیداروں منجملہ قاسم سلیمانی کو پیش کیا۔ سردار سلیمانی نے کہا کہ ان سے کہیں اپنے نمائندے بھیجیں ہم گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسرے ہی دن ظہر سے پہلے سعودی نمائندہ وزارت خارجہ میں ہمارے پاس پہنچ گیا۔ اس نے ہم سے کہا کہ اب ہم یمن میں جنگ جاری رکھنے پر قادر نہیں ہیں۔ اور آپ سے مدد چاہتے ہیں کہ اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے ہماری مدد کریں۔ کافی طولانی گفتگو ہوئی اور اس کے بعد ہم اس پیغام کو سید عبد الملک الحوثی تک پہنچایا۔ طے یہ پایا کہ سعودی عرب کا ایک سینئر جنرل انصار اللہ کی مرکزی کونسل کے ایک رکن کے ساتھ ایک معینہ جگہ پر ملاقات کریں۔ مقصد کیا تھا؟ مقصد جنگ بندی تھی۔ سعودی یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ اس جنگ کو خاتمہ دینے کے لیے قریب نو ماہ کے بعد ایران سے مدد کی خواہش کریں گے جسے وہ چند دنوں میں ختم کر کے اپنی فتح کا اعلان کرنے جا رہے تھے۔
امیر عبد اللہیان نے کہا: اس حقیقت کے باوجود کہ اس وقت جنگ کا منظر یمنی مزاحمت کے حق میں تھا اور سعودی فریق اس صورتحال سے رنج اٹھا رہے تھے لیکن جب بن سلمان کے ایلچی نے تہران کو چھوڑا تو کہا کہ براہ کرم یہ ملاقات اور گفتگو پردہ راز میں رہے اور حوثیوں سے بھی کہہ دیجیے کہ جو بھی معاہدہ ہو وہ خفیہ رہے۔ سعودیوں اور یمنیوں کے درمیان گفتگو انجام پائی اور طے پایا کہ آزمائشی طور پر سات دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ جنگ بندی کے بعد سعودی اس نتیجے تک پہنچ گئے کہ وہ دوبارہ جنگ جاری رکھنے پر قادر نہیں ہیں لیکن امریکیوں، انگریزوں اور صہیونیوں نے جب دیکھا کہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا ہے تو وہ فورا سعودی عرب کو دوبارہ اکسانے کے لیے ریاض پہنچ گئے اور اور اپنی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ جنگ بندی نہیں ہو چاہیے، آخر کار ان کی طرف سے حمایت کے وعدوں کی بنا پر سعودی عرب نے جنگ شروع کر دی۔

..........

242