4 ستمبر 2020 - 15:58
مسلمہ مقدسات کی توہین قطعی حرام و ممنوع ہے: شیعہ علما پاکستان

قرآن مجیدکی بے حرمتی اورگستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت ، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر گستاخانہ فعل ناقابل برداشت ہے، علامہ ساجد نقوی

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ملک کی موجودہ صورتحال پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی، مرکزی صدر وفاق المدارس الشیعہ پاکستان آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی اور سربراہ جامعة الکوثر اسلام آباد مفسر قرآن علامہ الشیخ محسن علی نجفی نے مشترکہ بیان میں کہا ہے ہم نے ہمیشہ ملکی استحکام اور امت کے اتحاد و وحدت کیلئے مثبت اقدامات کئے ہیں۔ ہماری جانب سے تہذیب وشائستگی، قانون پسندی اور ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ ،حب الوطنی اور قومی آہنگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتاہے۔ہم نے ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کرقومی سلامتی اورداخلی وحدت پرآنچ نہیں آنے دی۔ لیکن بعض عناصرملک میں فرقہ واریت، بدامنی اورقتل وغارت گری پھیلانے کیلئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ وطن ِعزیز کی حفاظت وبقاءکیلئے ہماری شرعی اوراخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مسلمہ مقدسات کااحترام کریں۔ ہمارے بزرگ مراجع عظام واضح موقف دے چکے ہیں کہ کسی بھی فرقہ کے مسلمہ مقدسات کی توہین و بے احترامی قطعی حرام اور ممنوع ہے۔ لہذا اہلبیتؑ اطہار اور صحابہ کرامؓ کی توہین کرنے والوں کی مذمت کی جاتی ہے ۔ملک ِپاکستان میں اسلام کے مختلف مسالک اورمکاتب فکر موجود ہیں اور الحمدللہ ہماری محنتوں اورکاوشوں سے اِن کے درمیان فروعی اختلافات کے باوجوداتحادووحدت اوربھائی چارہ قائم ہے جوبعض عناصر کیلئے ناقابل ِبرداشت ہے۔ موجودہ ماحول کسی گہری سازش کاپتہ دیتا ہے لیکن ہم باہمی اتحاد وحدت اوردانش مندی سے کسی بھی منفی ایجنڈے کوکامیاب نہیں ہونے دیں گے اور پرامن فضا قائم رکھنے کیلئے تمام اقدامات بروئے کارلائیں گے۔ ہم تمام مسالک اورمکاتب ِفکرکے پیروکاروں سے یہ کہناضروری سمجھتے ہیں کہ ایسی کسی بھی توہین آمیزگفتگوسے گریزکریں جودوسرے مسالک کی دل آزاری اورملکی عدم استحکام کاباعث بنے کیونکہ ہماراملک اِس قسم کی فرقہ واریت اورمنافرت کامتحمل نہیں ہوسکتا۔امیدہے تمام اہل ِاسلام و پاکستان ہماری گزارشات پرتوجہ فرمائیں گے۔ علامہ ساجد نقوی نے سویڈین میں قرآن مجیدنذر آتش کرنے اور فرانسیسی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی دوبارہ اشاعت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا میں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور اس بلاجواز حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ اظہار رائے کے نام پر گستاخانہ افعال ناقابل برداشت ہیں،اس طرح کی کارستانیاں پرامن ماحول کوسبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں ہمیں امید ہے کہ عالمی برادری اس قسم کے مسائل کے تد ارک کیلئے اقدامات کرتے ہوئے ایسے رحجانا ت کی بیخ کنی کرے گی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲