اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہاؤس کے مشیر متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے بعد عرب ممالک کے دورے پر ہیں۔
کشنر کے ان دوروں کا مقصد دیگر عرب ریاستوں اور ممالک کو بھی متحدہ عرب امارات کی پیروی پر آمادہ کرنا ہے اور اسی سلسلے میں انہوں نے بدھ کو قطر کے امیر سے بھی ملاقات کی۔
متحدہ عرب امارات تیسرا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل سے اپنے تعلقات بحال کر لیے ہیں، اس قبل اسرائیل کے پڑوسی ممالک مصر اور اردن نے دہائیوں قبل ہی صہیونی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔
قطر آنے سے قبل جیرڈ کشنر نے سعودی عرب اور بحرین کا بھی دورہ کیا تھا اور انہیں امید ہے کہ آنے والے مہینوں میں دیگر عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے۔
قطر کے امیر نے جیرڈ کشنر سے کہا کہ قطر 2002 کے عرب امن معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے پرعزم ہے جس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ اسرائیل سے تعلقات اس شرط پر بحال کیے جائیں گے کہ فلسطینیوں کو الگ ریاست دی جائے اور اسرائیل علاقوں سے دستبردار ہو اور 1967 میں مشرق وسطیٰ جنگ سے قبل کے علاقوں پر واپس جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل ۔ فلسطین تنازع کے خاتمے کے لیے فلسطین کا دو ریاستی حل ضروری ہے۔
گزشتہ روز جیرڈ کشنر نے بحرین کے بادشاہ نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی تجویز پیش کی تھی۔
واضح رہے کہ امارات، مصر اور اردن کے سوا ابھی تک کسی عرب ریاست نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا عندیہ نہیں دیا جبکہ اکثر نے موجودہ حالات میں تعلقات کی بحالی کو مسترد کردیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲