اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ رضی جعفر نقوی نے نشتر پارک میں جعفریہ الائنس کی کابینہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے ایام یعنی محرم الحرام اور صفر جس میں چودہ سو سال پہلے کربلا میں بلند ہونے والی آواز کی حق کی یاد میں عزاداری کا اہتمام کیا جاتا ہے جو ملک و ملت کیلئے روحانی و ایمانی اعتبار سے تقویت کا باعث بنتی ہے اور ہمارے اندر دین کے لیے ہر قربانی پیش کرنے کے جذبے اور شوق کو اجاگر کرتی ہے لیکن نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انتظامیہ کی نا اہلی کے باعث عزاداران سید الشہداء سخت اذیت اور مشکلات کا شکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عزاداری سید الشہداء 1400 سال سے ہوتی آرہی ہے اور تاقیامت اسی شان و شوکت سے جاری رہے گی ۔ کوئی بھی باطل قوت اس عزائے حسینی کو نہ ہی روک سکی ہے اور نہ کم کرنے کی طاقت رکھتی ہے لیکن موجودہ زمانے میں ایک وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اس لئے اس سال اطباء کی رائے پر عمل کرتے ہوئے عزاداری کو اسی دینی جذبے کے ساتھ منایا جائے گا اور اول دن سے ہمارا پیغام یہی ہے کہ اطباء کی جانب سے بنائی جانے والی ;837980;s پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنی اس عبادت کو انجام دیں گے اور’’ قانون توڑیں گے نہیں اور عزاداری چھوڑیں گے نہیں ‘‘ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جو ذمہ داریاں حکومت کے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہیں وہ انہیں پورا کرنے میں پوری طرح ناکام نظر آتے ہیں اس وقت سندھ بھر کے چھوٹے بڑے شہروں کی حالت بالخصوص کراچی میں سیوریج کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے کراچی میں ;7569; اور اندرون سندھ میں واپڈا نے تاریکی کے خیمے لگائے ہوئے ہیں ان تمام مسائل کے حوالے سے سندھ حکومت اور کمشنر کراچی کو تفصیلات سے آگاہ کردیا گیا ہے اور ہر سطح پر بار بار ان تمام مسائل کی طرف توجہ دلانے کی جارہی ہے مگر آج 28 ذی الحج ہوچکی ہے اور علاقوں میں شہریوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم بالکل واضح الفاظ میں بتارہے ہیں کہ اگر عزاداری سید الشہداء کیلئے انتظامات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ دار مذکورہ ادارے اور سندھ حکومت پر ہوگی کراچی میں ;7569; اور اندرون سندھ میں واپڈا سے ہمارا مطالبہ ہے کہ کم از کم عشرہ محرم میں مغرب کے بعد سے لوڈشیڈنگ ;223; لوڈ مینجمنٹ نہ کی جائے اور خاص طور پر خیر پور کے علاقے لقمان سے شکایت ہے کہ وہاں ٹرانسمیشن لائنز جل چکی ہیں جس کو فوری طور پر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے موجودہ دور کس قدر پر آشوب ہے ہر جانب سے دشمن کی یلغار ہے اور ہمارے ملک میں بالخصوص ہمارے شہر کراچی میں تکفیری قوتیں اور بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ ایک مرتبہ پھر سر اٹھارہی ہے کراچی اور ملک بھر میں حالیہ دہشت گردی اس کی واضح مثال ہے اورہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشت گرد عناصر پر کڑی سے کڑی نظر رکھی جائے اور اس وقت مسلم امہ کا اتحاد و وحدت ہی دشمن کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے اس لئے ہم آپ کے توسط سے پوری قوم کو متحد ہونے کی تلقین کرتے ہیں ہماری کامیابی اور دشمن کی ناکامی ہمارے اتحاد میں ہی ہے لہٰذا اپنی صفوں میں وحدت قائم رکھیں اور انتشار پھیلانے والے شرپسند عناصر پر نظر رکھیں کیونکہ وہ اسلام کے بھی دشمن ہیں اور پاکستان کے بھی دشمن ہیں عالمی سطح پر اسرائیل جس طرح مسلم ممالک کو معروب کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور چند مسلم ممالک اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جائز قرار دے رہے ہیں یہ بات پوری امت مسلمہ کے لیے سوالیہ نشان ہے اورآخر میں پ آپ کی توجہ ان مسنگ پرسنز کے حوالے سے دلوانا چاہوں گا ۔ شیعہ مسنگ پرسنز کے بارے میں ہماری پالیسی واضح ہے اور ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غیر آئینی اقدام سے باز رہے اگر جوان بے گناہ ہیں تو فوری رہا کیا جائے اور مجرم ہیں تو عدالتوں میں پیش کیا جائے ورنہ ہم بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲