اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پانچ مہینے قبل جب ایران میں کورونا وائرس شدت سے پھیل رہا تھا تو ہر غیر ملکی یا اپنے ملک واپس جانے کا منتظر تھا یا جان بچا کر گھر میں بیٹھا ہوا تھا لیکن ایسے میں آیت اللہ سید حمید الحسن صاحب کے نواسے مولانا سید ایمان احمد صاحب لکھنوی جو جامعۃ المصطفی قم میں زیر تعلیم ہیں ایک مجاہد کی طرح اپنی جان کی پروا کئے بغیر ہندوستان کے علاوہ مختلف ملکوں کے قم میں پھنسے ہوئے زائرین اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنے میں مصروف رہے۔
زائرین میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جن کی میڈیکل رپورٹ میں کورونا پوزیٹیو بتایا گیا تھا تاہم ان کی موقع پر رہنمائی کرنا اور انہیں کورونا سے مخصوص ہسپتال میں علاج معالجے کے لیے لانا لےجا اور پھر مریضوں کا خیال رکھنا مولانا سید احمد کی مصروفیات تھیں۔
سید احمد کا ہندوستان جانے کے لیے جب ٹیکٹ ہو گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر جانے سے انکار کر دیا کہ وہ زائرین کو چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔
انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ وباء کے پھیلاؤ کے ان بحرانی حالات میں کیسے اپنی جان کی پروا کئے بغیر زائرین کی خدمت میں مصروف ہیں، بتایا کہ انہیں زیارت عاشورا نے محفوظ رکھا ہوا ہے۔
مولانا نے اپنے عمل سے خدمت خلق کو اہم عبادت ثابت کرتے ہوئے ہر مصیبت اور پریشانی میں زیارت عاشورا کی افادیت کو واضح اور روشن کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
28 جولائی 2020 - 12:56
News ID: 1058615
کورونا وائرس کے بحرانی حالات میں آیت اللہ حمید الحسن لکھنوی کے نواسے اپنی جان کی پروا کئے بغیر قم میں غیر ملکی زائرین کی خدمت میں مصروف رہے۔