اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دین اسلام کو فرقوں اور شاخوں میں بدلنے کے سلسلے میں برطانوی سامراج نے اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی میں ایران میں بہائیت اور بابیہ فرقوں کی بنیاد رکھوائی، ان فرقوں کی تاسیس میں سب سے بڑا کردار نومسلم یہودیوں، عیسائیوں اور پارسیوں نے ادا کیا۔ ان دو فرقوں کے لئے ایسے بظاہر دیندار افراد کا سرمایہ بروئے کار لایا گیا جو نادان اور بےبصیرت ہونے کے ساتھ ساتھ گوشہ نشینی اور تفکر کے بغیر عبادت کے قائل تھے۔
ایران میں بہائیت اور بابیت اور ہندوستان میں قادیانیت سمیت ختم نبوت کے منکر کچھ نئے فرقوں کے بانی افراد برطانوی جاسوسی اداروں کی تحریک پر دعوائے نبوت تک بھی آگے بڑھے۔ سید محمد علی شیرازی المعروف بہ محمد علی باب، جو بچپن سے طویل عبادات اور غیر معمولی راز و نیاز کے حوالے سے مشہور تھا، برسوں ریاضت و عبادت کے بعد اچانک درس و تدریس اور عبادت و مناجات کو چھوڑ کر تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں میں مصروف ہوا اور بوشہر چلا گیا۔
بوشہر میں جناب باب نے برطانوی-یہودی تاجروں کے خاندانوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اس نے 1260ھ کو "بابیت" (یعنی امام زمانہ علیہ السلام کے ساتھ رابطے کا باب [دروازہ] ہونے) کا دعوی کیا اور بوشہر میں مقیم بااثر برطانویوں [بالخصوص برطانوی یہودیوں] کی مدد سے بہت جلد بام شہرت تک جا پہنچا اور لوگوں کو کچھ اس طرح بتلایا گیا کہ گویا محمد علی شیرازی کا علم، جو کئی برسوں سے تپسیا اور عبادت میں مصروف تھا، علم لدنی ہے جو خدا کی طرف سے اسے عطا ہوا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے 24 سال کی عمر میں بابیت کا دعوی کرنے کے چند سال بعد مہدویت کا دعوی کیا، اور اس کے بعد ہوا وہی جو انگریز چاہتے تھے۔
پورے ملک میں ـ چند دن دعائیں اور دینی متون کا مطالعہ کرنے والے لڑکے کے امامت کے دعوے کی وجہ سے ـ مختلف قسم کے فتنے کھڑے ہوئے اور اس وقت کی ایرانی حکومت نے اس جھوٹے مدعی کے پیروکاروں کی طرف سے شروع ہونے والی بغاوتوں اور فسادات کے خاتمے کے لئے، اس شخص کو کئی بار مختلف علاقوں میں جلاوطن کیا اور آخرکار انگریزوں کا یہ مہرہ، امامت کے جھوٹے دعوے کی بنا پر وقت کے وزیر اعظم شہید میرزا تقی خان امیرکبیر کے حکم پر اپنے منطقی انجام کو پہنچا اور اسے پھانسی کی سزا دی گئی۔
سنہ 1266ھ کو محمد علی باب کی پھانسی انگریزوں کی ریشہ دوانیوں کی انتہا ثابت نہیں ہوئی بلکہ میرزا یحیی خان نوری (المعرف بہ صبح ازل) فوری طور محمد علی باب کے جانشین کے طور پر ابھرا اور انگریزی انحراف و فرقہ سازی کا یہ سلسلہ جاری رہا اور آخرکار انگریزی استعمار کا عطا کردہ یہ عنوان اس کے بھائی میرزا حسن علی نوری (المعروف بہ بہاء اللہ) کے حصے میں آیا۔ بہاء اللہ، محمد علی باب کا قریبی ساتھی تھا۔ میرزا یحیی نوری کے پیروکاروں کو ازلی اور بہاء اللہ کے پیروکاروں کو بہائی کا عنوان ملا تا کہ انگریزی منصوبے کے عین مطابق بابیت کے بطن سے دو نئے فرقے جنم لیں اور ان دو فرقوں کے پیروکار آپس میں بھی ایک دوسرے کو کافر اور گمراہ قرار دیں اور باہمی لڑائیوں میں مصروف ہوکر ایرانی قوم کو نئے فتنوں سے دوچار کریں۔
یہ افراد بالآخر سلطنت عثمانیہ کی قلمرو میں جا بسے اور سلطنت مذکورہ نے ایک بھائی کو قبرص اور دوسرے کو فلسطین جلاوطن کرکے بھجوایا اور یہ دونوں افراد وہیں دنیا سے رخصت ہوئے۔ حسن علی نوری [بہاء اللہ] کے بیٹے میرزا عباس نوری (عباس افندی، المعروف بہ عبدالبہاء) نے انگریزوں کی حمایت سے باپ کی جانشینی کا دعوی کیا اور برطانوی حکومت نے اس کو سر (sir) کا خطاب دیا۔
بابیت، بہائیت اور حتی [قادیانیت، دیوبندیت اور] وہابیت کے اندرونی نشیب و فراز سے قطع نظر، تفرقہ و اختلاف ڈال کر امت مسلمہ کو کمزور کرکے دشمنان دین و قرآن کی طرف سے انتشار و افتراق پھیلانے کا یہ عمل برطانیہ، یہودی ریاست (اسرائیل) اور امریکہ اور ان حواریوں کی مدد سے، آج بھی جاری ہے اور آج ہم اسلامی سرزمینوں میں اسلامی بیداری کے مد مقابل ان کی اخلاف اندازی کے عروج کو دیکھ سکتے ہیں۔ عجیب یہ ہے کہ بہائیت کا مرکز آج کے زمانے میں مقبوضہ فلسطین کے دوسرے اہم شہر حیفا میں واقع ہے جبکہ برطانیہ اور کینیڈا حتی امریکہ میں بھی قادیانیوں اور انگریز سامراج کے بنائے ہوئے متعدد فرقوں کے مراکز قائم ہیں اور ان کے بڑے بڑے عمائدین بھی وہیں قیام پذیر ہیں اور وہیں سے اسلامی سرزمینوں میں اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبوں کو نافذ کر یا کروا رہے ہیں۔
بقلم ابو اسد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲