اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی عرب کے اخبار الشرق الاوسط کے ذریعے عالم تشیع کے مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کی شان میں کی گئی توہین آمیز اور ناشائستہ حرکت کے خلاف اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے ایک بیان جاری کر کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے اور عراق کی سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیتوں اور پارٹیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلامی اتحاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپس میں ہمدردی اور بھائی چارگی کا دامن نہ چھوڑیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے: "یہ ناشائستہ حرکت دینی مرجعیت کے ان ٹھوس اور عقلمندانہ اقدامات کے مقابلے میں شکست کا واضح ثبوت ہے جنہوں نے تمام مذموم تکفیری سازشوں کا ناکام بنایا اور داعش کو خاتمہ دیا۔
اہل بیت (ع) عالمی اسمبلی کے بیان کا مکمل ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔
بسمالله الرحمن الرحیم
«یریدون لیطفئوا نور الله بافواههم و الله متم نوره و لو کره الکافرون»
ریاض کے وہابی حکمران، جن کی عراقی مسلمان بھائیوں میں انتشار، اختلاف اور تفرقہ پیدا کرنے کی تمام تر مساعی اور کوشش دینی مرجعیت کے عقلمندانہ اور اسلامی اتحاد پر مبنی فتووں کے ذریعے شکست سے دوچار ہوئی، بعد از آنکہ عراق میں مزاحمت اور استقامت کے سمبل -شہید ابومہدی المھندس- کی توہین کی گئی ایک اور شرم آور اقدام کے ذریعے حضرت آیت اللہ العظمیٰ سیستانی کی شان میں گستاخی کرنے کی جرئت ہوئی جو عراق میں ہردل عزیز اور تمام مکاتب فکر اور قبائل کے نزدیک قابل احترام ہیں۔
عراق کے قومی اور مذہبی سمبل کی شان میں طفل کش آل سعود رژیم کے فضلہ خوار میڈیا کے ذریعے کی گئی تازہ ترین گستاخی، درحقیقت آل سعود کے تفرقہ انگیز اور شیعہ مخالفانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ گھناؤنی حرکت جو وہابی فرقے کے علاوہ ہر دوسرے فرقے کی توہین اور تحقیر کرنے میں اس سفاک حکومت کی دائمی پالیسیوں سے پردہ چاک کرتی ہے اسلام کے دشمنوں خصوصا شیطان بزرگ امریکہ اور صہیونی ریاست کے مقاصد کی تکمیل کی راہ میں واضح خدمت ہے۔
امریکہ اور صہیونی ریاست کی نوکری کرنے والی سعودی حکومت کی جانب سے انجام پانے والے تفرقہ انگیز اقدامات کوئی نئی اور عجیب چیز نہیں ہے کیونکہ آل سعود وہ ہیں جنہوں نے پاراچنار سے یمن اور عراق سے شام تک بے گناہ مسلمانوں کا خون بہایا ہے اور سرزمین مقدس فلسطین کے غاصبوں کے ساتھ دوستی کی ہے۔ یہ مکروہ فعل دینی مرجعیت کے دانشمندانہ اور ٹھوس اقدامات کے خلاف ناکامی کے تلخ احساس کا واضح ثبوت ہے، جنہوں نے ان کی تمام تکفیری سازشوں کو شکست دے کر داعش اور تکفیری منصوبے کو زوال پذیر بنایا۔ اور کرایہ کے دھشتگردوں کے قبضے سے عراق کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا۔ اور نتیجہ میں اس ملک میں قومی اتحاد اور سیاسی استحکام کو برقرار رکھنے کا ایک اہم عنصر بن گیے، کیونکہ وہ (سعودی) عراق کے شیعہ اور سنی بھائیوں کے عقائد اور جذبات میں مرجعیت کے اعلیٰ مقام کی اہمیت سے بخوبی واقف ہوگئے تھے اور اب اسے خدشہ دار بنانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
علاقے اور عراق کے دھشتگردانہ واقعات میں ریاض کے تباہ کن کردار سے سب بخوبی آگاہ ہیں اور سب سعودی بادشاہ کے نام کو دھشتگردی کے اہم ترین حامیوں میں شمار کرتے ہیں۔ یہ بغاوت پسندانہ اقدام کہ جو دوست اور دشمن کو پہچاننے کا اہم سبب ہے عراق میں فتنہ برپا کرنے کی راہ میں ایک نئے دور کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے جو مزاحمتی فوج اور رضاکار عوام پسند فورس حشد الشعبی کو نشانہ بنانے کے مقصد کی راہ میں امریکی منصوبوں کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے۔ لہذا اس نامعقول کوشش کی سخت مذمت اور اس سے اظہار بیزاری عراق کے اس عظیم اور سنجیدہ قوم کا خاصہ ہے جو اہل بیت پیغمبر (ص) کی پیروکار اور دوستدار شمار ہوتی ہے۔ ہم اس ملک کی تمام سیاسی، سماجی اور مذہبی پارٹیوں اور گروہوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ باہمی اتحاد کے عنصر کو مضبوط بناتے ہوئے بیدار اور ہوشیار رہیں اور عزیز عراق کی حقیقی آزادی کی راہ میں اپنے مقاصد کے حصول کی طرف گامزن رہیں اور مکمل شعور اور بیداری کے ساتھ دشمن کی مذموم سازشوں کو ماضی کی طرح ناکام بنائیں۔ اور اپنے ملک میں دشمنوں کی دراندازی کی بالکل اجازت نہ دیں۔ انشاء اللہ۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی
مورخہ ۷ جولائی ۲۰۲۰
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲